’’16سالہ عمر میں 14سال کی تعلیم‘‘ یہ کارنامہ کس معروف سیاستدان نے انجام دیا؟ جان کرآپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

’’16سالہ عمر میں 14سال کی تعلیم‘‘ یہ کارنامہ کس معروف سیاستدان نے انجام دیا؟ ...
’’16سالہ عمر میں 14سال کی تعلیم‘‘ یہ کارنامہ کس معروف سیاستدان نے انجام دیا؟ جان کرآپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مانسہرہ (اے پی پی) سپریم کورٹ نے اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے بعد جعلی ڈگری کیس میں حلقہ پی کے 30سے مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں ضیاءالرحمن کی درخواست پر جاری حکم امتناعی خارج کر دی۔

قانونی ماہرین کے مطابق حکم امتناعی خارج ہونے پر پشاور ہائی کورٹ کا میاں ضیاءالرحمن کی نااہلی کا فیصلہ دوبارہ بحال ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق اگر میاں ضیاءالرحمن کو اس فیصلہ سے نقصان پہنچتا ہے تو وہ فیصلہ کے خلاف دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ نادر شاہ وغیرہ کی جانب سے دائر رٹ پر پشاور ہائی کورٹ نے 14 مارچ 2018ءکو اپنے تفصیلی فیصلہ میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق میاں ضیاءالرحمن نے مدرسہ عریبیہ قاسم العلوم گھوٹکی صوبہ سندھ سے 19 فروری 1996ءکو سند حاصل کی جبکہ میاں ضیاءالرحمن کی تاریخ پیدائش 14 جون 1980ءہے اس طرح 16 سال کی عمر میں 14 سالہ تعلیم مکمل ہونا ناممکن ہے۔

مدرسہ ریکارڈ کے مطابق ان کے پاس میاں ضیاءالرحمن کی سند شہاد العالیہ کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ میاں ضیاءالرحمن نے نے 2008ءکے انتخابات میں خود کو گریجویٹ ظاہر کیا جبکہ 2013ءکے انتخابات میں انہوں نے اپنی تعلیم میٹرک ظاہر کی ہے، اسی بنیاد پر پہلے الیکشن ٹریبونل نے انہیں نااہل قرار دیا تھا، بعد میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی الیکشن ٹریبونل کے اسی فیصلہ کو بحال رکھا۔ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ مذکورہ مقدمہ 2013ءکے انتخابات سے متعلق تھا اس لئے اب عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر میاں ضیاءالرحمن کو اس فیصلہ پر اعتراض ہو تو وہ دو ماہ کے اندر دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /مانسہرہ