کیا دنیا پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟

کیا دنیا پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟

(تجزیہ،ایثار رانا)

چند سوال ہیں۔کیا پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟کیا دنیا اتنا بڑا خطرہ مول لے سکتی ہے؟کیا سلامتی کونسل کا اجلا س ”آئی واش“ ہے؟میرا یقین ہے بھارت کی دھمکی پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے لیکن گزشتہ روز کی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی پریس بریفنگ کو بہادری و سفارتی ذہانت کی اچھی مثال قرار دیتا ہوں۔شاہ محمود قریشی نے پروفیشنل ڈپلومیٹ کی طرح ایٹمی حملے کے جواب میں کہا یہ بھارت کا بلنڈر ہے اور ہم ایک ذمہ دار قوم کی طرح جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کرینگے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا پاکستان آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑے گا،تاہم انہوں نے پوری دنیا کو خوبصورتی سے پاکستانی رد عمل سے آگاہ کردیا اور کہا کشمیر ایٹمی جنگ کا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ امتحان اب دنیا کے چو د ھریوں کا بھی ہے کہ وہ ایک جنونی شخص کو اس کے جنون کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتانے کیلئے آزاد چھوڑتی ہے یا اسے نکیل ڈالتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اب تک تو بیلنس کردار کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن مجھے ان سے کسی نیک نیتی کی امید نہیں،امریکی بیڑہ راستے میں ہی رہ جاتا ہے۔ ہمیں اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی،ہمیں اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہے۔سوشل میڈیا پر اسکے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ بھی دراصل دشمن کے اسی خوف کی علامت ہے۔میں عرض کرونگا ہمیں اپنے فروعی اختلافات بھلا کے ایک قوم کی طرح ردعمل دینا ہوگا۔بھارت کشمیر ہضم کرگیا تو اگلی جنگ پانی پر ہوگی اور مجھے خوف ہے یہ جنگ آدھی سے زیادہ دنیا کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔سلامتی کونسل میں بیٹھے دنیا کے چودھری یہ بات جان لیں، بھارت ایٹمی حملے میں پہل کی دھمکی پاکستان کو نہیں دنیا کو دے رہاہے اور دنیا ہمیں بھی جانتی۔اس بہانے ایک اور اچھا کام یہ ہوا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر انگلی اٹھانے والوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ ایٹمی ہتھیار اصل میں کن جنونیوں کے ہاتھ ہے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...