سیکیورٹی کونسل کا اجلاس اور صدر ٹرمپ کا مشورہ

سیکیورٹی کونسل کا اجلاس اور صدر ٹرمپ کا مشورہ

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژینگ جون نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ تنازع ہے،جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے،بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی،یک طرفہ اقدام کشیدہ صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتا ہے،بھارتی اقدام سے چین کی خود مختاری بھی چیلنج ہوئی،سلامتی کونسل کے ڈیڑھ گھنٹے کے اجلاس میں شرکت کے بعد باہر آ کر انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں،سلامتی کونسل کے ارکان نے بند کمرے کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پُرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے،پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز سنی گئی ہے،جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہے،اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، اجلاس نے تنازع کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کر دی۔

سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہی امریکہ کے صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو فون کیا،دورانِ گفتگو صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنی چاہئے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا کہمسئلہ کشمیر افغانستان اور خطے کی صورتِ حال سمیت اہم امور پر ”اچھی گفتگو“ ہوئی، وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کیا اور انہیں اپنا نقطہ نظر پیش کیا، شاہ محمود قریشی نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم دُنیا کے رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کر دی گئی،موجودہ حالات میں اجلاس کا فوری انعقاد اور اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا زیر بحث آنا بڑی بات ہے، تاہم اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا اب مقبوضہ کشمیر میں تیرہ روز سے جاری کرفیو ختم ہونے کا بھی فوری امکان ہے یا نہیں،ویسے تو بھارتی حکومت کے نمائندے نے سپریم کورٹ میں بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وادی میں کرفیو جلد ختم کر دیا جائے گا، لیکن اس سلسلے میں نہ تو حکومت نے کوئی ٹائم ٹیبل دیا نہ سپریم کورٹ نے ایسی کوئی ضرورت محسوس کی کہ حکومتی نمائندے سے پوچھے کہ تیرہ روز سے ریاست میں حالات کی خرابی جس نہج پر پہنچ چکی ہے کیا حکومت کو بھی اس پر کوئی تشویش ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اپنے پروگرام کے تحت دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے اور اُسے کشمیریوں کے لئے ریاست کو جیل خانے میں تبدیل کرنے پر کوئی تشویش بھی نہیں ہے،مودی انسانی خون بہانے جیسے خوفناک واقعات میں ملوث رہے ہیں اس لئے اُن سے بہتری کی کوئی زیادہ امید بھی نہیں رکھی جا سکتی،سلامتی کونسل نے بھی اور بھارتی سپریم کورٹ نے بھی کوئی ایسا اقدام اب تک نہیں کیا، جس سے محسوس ہوتا ہو کہ اس سے کشمیریوں کی زندگیوں میں کوئی معمولی سا ریلیف بھی آئے گا۔

صدر ٹرمپ کا یہ مشورہ تو اپنی جگہ بہت ہی صائب ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے،لیکن سوال یہ ہے کہ انتہا درجے کے کشیدہ ماحول میں کیا مذاکرات کا عملاً انعقاد ممکن بھی ہے یا نہیں، کشیدگی تو اس حد تک جا چکی ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ دھمکی تک دے ڈالی ہے کہ ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کی جا سکتی ہے،اس مجنونانہ بیان کی موجودگی میں کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ ان کا ملک صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے مشورے پر دھیان دے گا،بھارت میں تو حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جنگی جنون کو ہوَا دے رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کے بارے میں ایسے ایسے اشتعال انگیز بیانات دیئے جا رہے ہیں، جن کا شدید ردعمل بھی سامنے آئے گا، امریکہ اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو وہ بھارت کو اس پر رضا مند کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے،کیونکہ ایسے ماحول میں کسی بااثر تیسری قوت کی مداخلت کے بغیر اوّل تو مذاکرات شروع ہونے کا ہی کوئی امکان نہیں اور اگر کسی کرشمے کے نتیجے میں ایسا ہو بھی جائے تو یہ ایک بے کار مشق ثابت ہو گی اور مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، ویسے تو صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی، جس کا جو نتیجہ نکلا وہ ساری دُنیا نے دیکھا اور اب وہ اس کا حوالہ بھی نہیں دیتے یہ تو شاہ محمود قریشی ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ20منٹ تک صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں صدر ٹرمپ کو اُن کی یہ پیشکش بھی یاد دِلائی گئی یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اگر دونوں ممالک کو مذاکرات کا مشورہ دیا ہے تو روس نے باقاعدہ مفاہمت کے لئے اپنی خدمات پیش کر دی ہیں، اِس لئے اگر اِس پیش کش سے استفادہ کر کے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے تو مفاہمت کی راہ نکل سکتی ہے۔ نیو یارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد روسی مندوب دمتری پولیانسکی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم کھلے دِل سے پاک بھارت تنازع میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں،ہماری یہ بھی آرزو ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اختلافات سیاسی اور سفارتی طور پر حل کئے جائیں،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر 1972ء کے شملہ معاہدے اور1999ء کے اعلانِ لاہور کے تحت حل کیا جائے، روسی مندوب بنفس ِ نفیس سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شریک تھے، وہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور اس کے موڈ کے عینی شاہد بلکہ خود شریک ہیں، وہ اگر اجلاس کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات شملہ معاہدے اور اعلانِ لاہور کے مطابق حل کریں تو اِس کا صاف مطلب یہ ہے سیکیورٹی کونسل نے مسئلے کو متنازعہ قرار دیا ہے تاہم اس نے کوئی ایسا روڈ میپ نہیں دیا،جس پر عمل کر کے آگے بڑھا جا سکے، اگر ایسا ہوتا تو روسی مندوب کو اجلاس کے فوری بعد مفاہمت اور مصالحت کے لئے اپنے ملک کی خدمات پیش کرنے کے اعادے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ وہ ایک بار پھر یاد دلاتے کہ دونوں ممالک کے درمیان شملہ سمجھوتہ اور اعلانِ لاہور کی شکل میں دو ایسے معاہدے موجود ہیں جن پر عمل کر کے تنازعات کے حل کی جانب آگے بڑھا جا سکتا ہے، امریکہ اور روس کے مشوروں اور تجاویز میں مشترکہ بات یہی ہے کہ تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکلے گا،چاہے اس میں کتنا وقت لگے، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ اِس جانب پیش رفت کے لئے اقدامات کئے جائیں،ویسے بھارت بھی اس پر تیار ہے تو پھر بات آگے کیوں نہیں بڑھتی؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...