نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں بم دھماکہ!

نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں بم دھماکہ!

کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران بم دھماکہ ہوا،اس سے سات نمازی شہید اور قریباً دو درجن زخمی ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق شہدا میں امام مسجد بھی شامل ہیں کہ بم منبر کے نیچے نصب کیا گیا اور ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا،بم ڈسپوزل کے مطابق اس میں ڈھائی سے تین کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ کی پورے ملک میں مذمت کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مسجد میں دھماکہ کر کے نمازیوں کو شہید کرنے والے افراد کو مسلمان کیسے کہا جا سکتا ہے، اگر کوئی مسلمان بھی شامل ہے تو وہ گمراہ ہے، مقامی حضرات کے مطابق یہ کام ایجنٹوں کا ہے اور بھارت کشمیر کے تنازعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے تخریب کاری کروا رہا ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردوں کے پیچھے ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کر رہی ہیں جیسے اسی روز ڈیرہ اسماعیل خان کے نواح میں دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا اور پانچ افراد مارے گئے،جو مبینہ طور پر دہشت گردی کرنا چاہتے تھے یہ دھماکہ اور اس سے ہونے والے جانی نقصان پر دِل دُکھی ہے اور ملک بھر میں بجا طور پر مذمت کی گئی کہ ایک طرف بھارت نے مظلوم کشمیریوں کو کرفیو لگا کر بارہ، تیرہ روز سے گھروں میں مقید کر رکھا ہے اور ادھر تخریب کاری کروا رہا ہے کہ پاکستان اندرونی معاملات میں بھی اُلجھا رہے۔ پاک فوج نے جوانمردی اور شہادتیں قبول کر کے دہشت گردوں کے نیٹ ورک توڑے،تاہم ایسے محسوس ہوتا ہے، سب کا صفایا نہیں ہو سکا اور اب بھی بھارتی ایجنٹ ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں،اس دھماکہ کا مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستانی حکام کی توجہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے ہٹا کر اندرون ملک مصروف ہونا پڑے۔ اس بم دھماکہ پر دُکھ اور جاں بحق ہونے والوں کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دشمن نے ہمیشہ سے بلوچستان کو آسان ہدف کے طور پر چُنا ہوا ہے،اِس لئے ہمیں کسی بھی وقت غافل نہیں رہنا چاہئے،بلکہ اہل خانہ کو یہ باور کرنا ہو گا کہ اگلی نسل خبرداررہے،مسلح افواج اس سلسلے میں قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہیں،تاہم ضرورت اِس امر کی ہے کہ عوام بھی تعاون کریں اور تخریب کاروں پر نظر رکھیں اسی طرح مساجد اور عبادت گاہوں کا تفصیلی معائنہ بھی لازم ہے،اِس لئے عوام کو بھی معاون ثابت ہونا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...