اقتدار کی لڑائی معیشت کی تباہی

اقتدار کی لڑائی معیشت کی تباہی
 اقتدار کی لڑائی معیشت کی تباہی

  

ملک کے اقتصادی و معاشی مسائل حل کرنا، کاروباری سرگرمیوں کے لئے ماحول سازگار بنانا اور عوام کے لئے روزگار کا بندوبست کرنا ہر حکومت کی ترجیجات کا حصہ ہوتا ہے۔ترجیحات پر عمل اور معیشت میں بہتری کے لئے اقدامات کرنے میں کمزوری و کوتاہی اور غفلت پر گرفت کرنا ہر اپوزیشن کی جمہوری اور آئینی ذمہ داری ہے۔

دونوں کا اپنی اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنا گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہے۔ گاڑی اسی صورت اپنی منزل پر پہنچ سکتی ہے کہ دونوں پہیے یکساں طور پر چلتے رہیں۔ ایک پہیہ گاڑی کو کسی دوسری سمت لے جانے کی کوشش کرے تو گاڑی منزل پر نہیں پہنچ سکے گی۔ بالکل اسی طرح اگر حکومت اور اپوزیشن اپنا کردار اچھی طرح ادا نہیں کریں گے تو معاشی ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے کا خواب ادھورا رہے گا۔ سیاست دانوں کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری اور آئینی حقوق کی حدود میں رہتے ہوئے بہتری کے لئے کوشاں رہیں۔

مخالفت کرنے میں توازن کو کسی طور نہ چھوڑیں۔ غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور سود مند تجاویز دینے کے لئے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں۔عوام کو سڑکوں پر لاکر بجلی و گیس کے بل اور دیگر حکومتی واجبات ادا نہ کرنے کی ترغیبات کو کسی طور حب الوطنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معاونت کی روایت ڈالنی اور مستحکم کرنی چاہئے۔منفی سوچ ملک میں معاشی حالات کو دگرگوں اور عوام کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

ارباب اقتدار اگر اختیار کی طاقت سے اپنے سوا سب کو مٹا دینے کی راہ پر چل پڑیں۔ دوسروں کو ہر قیمت پر خوف زدہ کرنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلنے اور مشاورت کا دائرہ وسیع کرنے کی روایت قائم کریں تو یقینی طور پر ملک اور اس کی معیشت مستحکم ہوگی۔ نفرتوں کا خاتمہ ہوگا۔ مہر و محبت کے ماحول میں تعمیر وطن کے جذبوں کو تقویت ملے گی۔

اب جبکہ دشمن کی طرف سے فوج کشی کے بادل ہمہ قت منڈلاتے رہتے ہیں،اب اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تاجروں اور صنعتکاروں کو آئی ایم ایف کی مسلط کردہ معاشی ٹیم کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے انہیں معاشی سرگرمیا ں بڑھانے کے لئے فری ہینڈ دیا جائے۔ معیشت دانوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں با معنی نتائج سامنے نہیں آسکے۔ معیشت کمزور اور افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی سرگرمیاں اس قدر سکڑ چکی ہیں کہ بعض اوقات ایک بے روزگار کی روزی روٹی کا بندو بست کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

بجلی اور گیس کے بل ادا کرنا نا ممکن بن چکا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ غریب موٹر سائیکل چھوڑ کر سائیکل پر آ چکا ہے۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ عیدا لا ضحی کے لئے جانور حاصل کرنا عام آدمی کی قوت خرید سے باہر آ چکا تھا۔ڈالر کی اڑان دیکھنے کے لئے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔حالات کا تقاضا ہے کہ اتفاق و اتحاد کا ماحول پیدا کر کے ملک کو سیاسی و معاشی قوت بنایا جائے۔اگر اپنی اپنی اناؤں کو قتل کرکے معیشت و سیاست کو وفا شعار و باوفا بنا دیا گیا تو پاکستان کسی بیرونی طاقت کا دست نگر نہیں رہے گا اور نہ ہی کسی سے خوفزدہ ہو گا۔

کاروباری طبقہ معاشی حالات میں بہتری کے لئے ہمیشہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کی طرف دیکھتا ہے، بد قسمتی سے موجودہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو باہمی لڑائی سے فرصت نہیں ملتی۔ انڈیا سمیت متعدد ملکوں نے تیزی سے ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ سستی بجلی حاصل کرنے کے لئے درجنوں ڈیم بنا لئے ہیں۔ پاکستان کے لئے سستی بجلی کا حصول ایک چیلنج ہے۔ حکمرانوں سمیت تمام سیاست دان ملکی خوشحالی کے لئے باتیں بہت کرتے ہیں، لیکن سب زبانی کلامی ہوتا ہے۔

لگ بھگ چالیس برس قبل کا لا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کی گئی، لیکن یہ منصوبہ سیاست دانوں کی نا اتفاقی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اگر باہمی لڑائیوں کو چھوڑ کر کالا باغ ڈیم پر یک آواز ہو جائیں تو سستی بجلی کا حصول اور ملکی خوشحالی کی منزل قریب آ سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کرانے والے حکمران کا نام ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے گا۔

حکمرانوں کو چاہئے کہ کاروباری طبقے کی مکمل مشاورت سے معاشی و اقتصادی پالیسیا ں تشکیل دے کر بڑنس کمیونٹی کو کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لئے فری ہینڈ دیں۔گزشتہ مہینوں میں آئی ایم ایف کے ماہرین وعدوں اور دعوؤں سے آگے بڑھ سکے ہیں اور نہ ہی کاروباری طبقے کو ٹیکس وصولی کا خوشدلانہ نظام دے سکے ہیں۔

ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی پریشانیوں کا بہترین حل یہ ہے کہ لٹھ بردار ٹیکس نظام سے دستکش ہو کر ملکی تقاضوں کے ہم آہنگ معاشی پالیسی بنائی اور چلائی جائے۔کاروبار اور صنعتکاری بڑھانے کی فکر کی جائے۔کاروباری حجم بڑھے گا۔برآمدات میں وسعت پیدا ہوگی تو ٹیکس حجم بھی بڑھ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -