امریکی سیاسی نظام پر بہترین ٹی وی سیزن

امریکی سیاسی نظام پر بہترین ٹی وی سیزن
 امریکی سیاسی نظام پر بہترین ٹی وی سیزن

  


عید کے موقع پر چھٹیاں ملیں تو سوچا کیوں نہ ذہنی تفریح کے لئے کوئی اچھا سا سیزن دیکھا جا ئے۔امریکی ٹی وی اور نیٹ فلکس پر چلنے والی بعض ڈرامہ سیریز یا سیزنز کو پوری دنیا میں بڑے شوق سے دیکھا جا تا ہے۔ حتیٰ کہ ایسے ملکوں میں بھی جہاں انگریزی زیا دہ نہیں سمجھی جاتی وہاں بھی ترجمے کے ساتھ ایسے سیزنز کو بڑے شوق سے دیکھا جا تا ہے۔

ایسے ہی ایک امریکی ڈرامہ سیزن ”ہا وس آف کا رڈز“ کے بارے میں بھی،میں کئی سال سے سن رہا تھا۔ پڑھے لکھے اور دانشور حضرات بھی یہ کہتے پائے گئے امریکی سیاست کو سمجھنے کے لئے اس سے زیادہ بہتر سیزن اور کوئی نہیں۔بے شک ہا لی ووڈ میں کئی ایسی فلمیں سامنے آچکی ہیں جن میں امریکی سیا ست کے انتہائی منفی پہلوؤں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ان فلموں کے بعد ا ب دنیا بھر میں ٹی وی سیزن ”ہاوس آف کا رڈز“ کی شہرت سن کر خیا ل آیا کہ کیوں نہ اس سیزن کو مکمل طور پر دیکھا جا ئے۔

پہلے سیزن کی پہلی ہی قسط نے اپنے اندر اس قدر محو کر دیا کہ پورا سیزن دیکھ کر ہی دل کو تسلی ہوئی۔جو لوگ دن رات مغربی یا امریکی جمہوریت کے قصیدے پڑھتے ہیں انھیں چا ہیے کہ وہ اس سیزن کو ضرور دیکھیں اس سے ان لوگوں کو اندازہ ہو گا کہ امریکی سیاست میں کتنی زیا دہ کر پشن ہے۔

بنیادی طور پر ”ہاوس آف کا رڈز“ کی کہانی امریکی ریاست جنوبی کیرو لینا سے منتخب ہونے والے ڈیموکریٹ پا رٹی کے ایک کانگرس مین ”فرینک انڈر وڈ“ اور اس کی بیوی کلیر انڈروڈکے گرد گھومتی ہے۔فرینک انڈر وڈ، امریکی دارالحکومت ”واشنگٹن ڈی سی“ میں اقتدار کی غلام گر دشوں کی حرکیات کو اچھی طرح جان لیتا ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کیسے دوسروں کی ٹانگیں کھینچنا پڑتی ہیں۔اپنے سا تھیوں سے دھوکہ کرنا پڑ تا ہے، حتیٰ کہ اپنے قریبی دوستوں کو سیاسی مقاصد کے لئے قتل بھی کروانا پڑتا ہے۔

پہلے سیزن میں دکھایا جاتا ہے کہ فرینک انڈر ووڈ کیسے امریکی صدر گیرٹ والکر کی مدد کر کے امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا عہدہ حاصل کرتا ہے۔فرینک امریکی صدر سے بھرپور وفاداری کا اظہار کرتا ہے مگر اصل میں وہ صدر ”والکر“ کی جڑیں کاٹ کر اس کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔دوسری طرف فرینک انڈر وڈ کی بیوی کلیر انڈروڈ صاف پانی کے حوالے سے ایک این جی او چلا رہی ہے۔اس این جی او چلانے کا اصل مقصد وائٹ ہاوس اور امریکی کانگرس میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا وا دینا ہے۔

فرینک انڈر وڈ ایک خاتون صحافی ”زو بارنس“کو بھی اپنے مقصد کے لئے استعما ل کر تا ہے۔اپنے سیاسی مخالفین کے با رے میں اسی صحافی سے خبر یں شائع کرواتا ہے۔اسی طرح شراب کے عادی ایک کانگرس مین ”پیٹر روسو“کی کمزوریوں سے فا ئدہ اٹھا کر اسے بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے اور اپنی سازشوں کے ذر یعے وہ اس پہلے سیزن میں امریکی نا ئب صدر بننے میں کامیا ب ہو جا تا ہے۔

دوسرے سیزن میں فرینک صحافی لڑکی زو کو ایک میٹرو اسٹیشن میں لے جاکر ایسی جگہ سے دھکا دے کر گرا تا ہے جہاں پر اس کو دیکھنے والا کوئی شخص یا سیکو رٹی کیمرا نہ ہو۔فرینک اپنے کا نگرس مین ساتھی پیٹر روسوکو بھی انتہائی راز داری سے قتل کر وا دیتا ہے۔

فرینک اب اپنے کسی ایسے دوست کو بر داشت کرنے کے لئے تیار نہیں جو اس کی حقیقت سے واقف ہو کیو نکہ فرینک کی نظریں اب امریکہ کے سب سے بڑے عہدے یعنی صدارت پر لگی ہوئی ہیں۔فرینک پو ری سا زش رچا کر امریکی صدر”والکر“کے لئے ایسے حا لات پیدا کر دیتا ہے کہ والکر کے پاس اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو تا۔والکر کے استعفیٰ دیتے ہی فرینک امریکہ کاصدر بن جا تا ہے۔یوں فرینک جیسا ایک کرپٹ، سازشی،دھوکہ باز اور قاتل شخص اپنی چالاکیوں سے امریکی وائٹ ہاوس تک پہنچنے میں کا میا ب ہو جا تا ہے۔

تیسرے سیزن میں امریکی صدر فرینک اپنے وعدے سے مکرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ2016ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے گا جبکہ امریکی خاتون اول کلیراپنے خا وند کا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بن جا تی ہے،تاہم روس کے ساتھ اختلافات کے باعث کلیرکو استعفیٰ دینا پڑتاہے اور وہ اپنے خاوند کی صدارتی انتخابی مہم میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتی ہے۔

چوتھے سیزن میں دکھا یا گیا ہے کہ کیسے فرینک اور اس کی بیوی کلیرکے درمیا ن اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کلیراپنی آبائی ریاست ٹیکساس سے انتخابا ت میں حصہ لینا چا ہتی ہے۔ مگر فرینک چا ہتا ہے کہ کلیراپنا زیا دہ سے زیا دہ قت اس کی انتخابی مہم میں صرف کرے۔

کلیراپنے خاوند سے سیاسی حمایت نہ ملنے کے با عث اس سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہے۔ اب یہ مرحلہ فرینک کے لئے بہت زیادہ حساس بن جا تا ہے، کیو نکہ 2016ء کے صدارتی انتخابات کی مہم میں فرینک کی بیوی کلیرکا ساتھ ہو نا ضروری ہے ورنہ امریکی اخلا قیات کے تنا ظر میں جس شخص کی بیوی اس سے نا راض ہو کرعلیحدگی اختیار کر چکی ہو وہ کیسے پوری قوم کی رہنما ئی کر سکتا ہے۔فرینک اپنی بیوی کی منتیں کرنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ اس کی انتخابی مہم میں صرف دکھاوے کے لئے ہی حصہ لے۔

فرینک کی بیوی کلیراس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فرینک کے ساتھ یہ شرط رکھتی ہے کہ وہ اسے امریکی نائب صدر کے عہدے کے لئے نا مزد کروا ئے۔شروع میں فرینک حامی نہیں بھرتا مگر اپنی بیوی کی بلیک میلنگ سے مجبور ہو کر وہ اپنی بیوی کلیرکو ڈیمو کریٹ پا رٹی کی طرف سے نا ئب صدر کے طور پر نا مز دکر وا دیتاہے۔اپنی بیوی کو امریکی نائب صدارتی امیدوار نا مزد کر وانے کے لئے فرینک ڈیمو کر یٹک پا رٹی میں کیا کیا سازشیں کرتا ہے یہ سب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

پانچویں سیزن میں دکھا یا گیا ہے کہ کیسے فرینک پورے انتخابی نظام کو ہی مفلوج بنا کر دھونس اور دھاندلی کے ساتھ انتخابات میں کا میا بی ٖحاصل کرتا ہے۔فرینک امریکی صدارت اور اس کی بیوی کلیرنا ئب صدر کے عہدے کا حلف اٹھا تی ہے۔کلیراپنی سازشوں کے ذر یعے اپنے خاوند کے لئے ایسے حالات پیدا کردیتی ہے کہ اس کے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ فرینک استعفیٰ دے دیتا ہے اور اس کی بیوی کلیرامریکہ کی 47 ویں صدر بن جا تی ہے۔

”ہا وس آف کا رڈز“ کا چھٹا سیزن گزشتہ سال نو مبر میں سامنے آیا، مگر ہاؤس آف کا رڈز دیکھنے والوں کے لئے یہ چھٹا سیزن اس لئے ما یوسی کا با عث بنا، اس میں فرینک کا کردار ادا کرنے والا اداکار”کیون سپیسی“موجو د نہیں تھا۔ ویسے تو ”ہاوس آف کارڈز“ میں ڈائریکشن سے لے کر اداکاری تک ہر کسی کا کام قابل تعریف ہے، مگر ”ہاوس آف کارڈز“ کی جان کیون سپیسی کی ہی اداکاری کو قرار دیا جا تا ہے جس نے انتہائی خوبی کے ساتھ ایک چالاک، سازشی اور دھوکہ باز شخص کا کردار ادا کیا ہے۔

اس لئے چھٹا سیزن اس کے بغیر زیادہ دلچسپ نہیں لگا۔ جیسا کہ کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ ”ہاوس آف کا رڈز“ امریکی سیاست کی حرکیات کو سمجھنے کے لئے ایک شاہکار سیزن ہے۔ اس لئے امریکی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو ضرور دیکھنا چاہے۔

اگر کسی کو اس بات پر شک ہو تو وہ سا بق امریکی صدر بل کلنٹن کے اس بیان کو دیکھ لے جس میں کلنٹن نے ”ہاوس آف کارڈز“ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہاوس آف کارڈز“ میں جس طرح امریکی سیاست کو پیش کیا گیا ہے وہ 99فیصد حقیقت پر مبنی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...