ہماری آزادی ادھوری ہے کشمیر کی آزادی کے بغیر!

ہماری آزادی ادھوری ہے کشمیر کی آزادی کے بغیر!

  

ناصرہ عتیق

روزنامہ ”پاکستان“ کے خواتین ایڈیشن کے لئے موضوعات کی کمی نہیں ہے لیکن قلم اٹھاتی ہوں تو کشمیری بہنوں کے چہرے ذہن کے پردے پر عیاں ہو جاتے ہیں۔ ان چہروں پر بزدل ہندو غاصبوں کے ظلم و جبر کے نشان واضح دکھائی دیتے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں آزادی کی روح کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ بچوں اور جوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے۔ خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور وادی میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھنے کے لئے ہر منفی طریقہ کار آزمایا جا رہا ہے۔ خواتین بے چاری ظلم و ستم کا زیادہ شکار ہیں کہ صفِ نازک ہیں۔ بہت سے اندوہناک واقعات میں سے ایک رقم کر رہی ہوں۔

23 فروری 1991ء میں مقبوضہ کشمیر میں کونان اور پوشپورا کے علاقوں میں آٹھ سال سے زیادہ عمر کی 100 کشمیری خواتین کو اجتماعی بد اخلاقی کا نشانہ بنایا گیا اور پوری دنیا میں یہ خبر عام ہوئی۔ 2014ء سے اس دن کو کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کشمیری تنازعہ میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو انسانی حقوق کا بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین دنیا کے وہ علاقے ہیں جہاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کی سب سے زیادہ اور بد ترین خلاف ورزیاں کی جاتی رہی ہیں۔

تاہم 1991ء سے آج 2020ء میں مقبوضہ وادی کی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کی آواز اب وادی میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے اور وہ بپھری ہوئی شیرنیوں کی صورت گھروں سے باہر نکلتی ہیں کہ بھارتی فوجیوں کی درندگی اور شقی القلبی بھی ان کے احتجاج کو دبا نہیں پا رہی۔ ناچار بزدل بھارتی فوجی درندے سارا غصہ وادی کے دور دراز علاقوں میں کمزور عورتوں پر نکالتے ہیں۔

بہر حال خوش آئند امر ہے کہ حکومت پاکستان کشمیر کے مسئلے کے حوالہ سے بے حد فعال ہو چکی ہے۔ پاکستان کے شیر دل وزیر اعظم عمران خان نے خود کو محکوم کشمیریوں کا سفیر قرار دیا ہے اور ہر اس قومی اور بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا مسئلہ اُجاگر کیا ہے جہاں جہاں ان کی رسائی ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے حالیہ جاری کردہ سیاسی نقشہ خطہ کشمیر سے متعلق پاکستانی دعوے اور ارادے کا اظہار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ایک حالیہ بریفنگ کے دوران مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، گزشتہ ایک سال سے کرفیو نافذ ہے، دنیا کا ہر ظلم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے، پیلٹ گنز کا استعمال معمول بن گیا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری آزادی کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہماری حکومت نے ہر فورم پر کشمیر کے مسائل کو اجاگر کیا، ایک سال میں تین بار اقوام متحدہ میں زیر بحث آیا۔ عالمی میڈیا نے بھی بھارتی ظلم بے نقاب کئے۔ بھارت اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایل او سی کی خلاف ورزیاں کرتا ہے جن کا بھاری ہتھیاروں کے استعمال پر مؤثر جواب دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں عالمی میڈیا کے نمائندوں نے آزاد کشمیر میں ایل او سی کا جائزہ لیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی غیر جانبدار مبصر یا صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ قدرت نے ہمیں موقعہ دیا ہے کہ ہم یوم آزادی کی 74 ویں سالگرہ پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ لیکن ہماری آزادی ادھوری ہے اس وقت تک جب تک کہ ہمارے شاہرگ پر دشمن کا ہاتھ ہے۔ ہم نے مقبوضہ وادی میں آزادی کی جدوجہد کو ہر ممکن کامیابی سے ہم کنار کرانا ہے۔ حکومت پاکستان ہر بار اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم کشمیریوں کی ہر طرح سے مدد اور اعانت کریں گے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو کو نافذ ہوئے ایک برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کرفیو کے دوران بھارتی فسطائی حکومت اور وادی میں موجود اس کی آٹھ لاکھ سے زائد فوج نے جذبہ حریت و آزادی کو کچلنے کا ہر طریقہ کار استعمال کیا ہے لیکن وادی کے غیور باشندوں کے آہنی عزم اور ارادوں کو توڑ نہیں سکی، گو وادی میں چناروں کے پتے اب رنگ بدلتے ہیں تو ان میں انسانی لہو کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ وادی کی مٹی شہیدوں کا اتنا خون جذب کر چکی ہے کہ اس کی رنگت بھی بدل گئی ہے۔ قبرستان پھیل رہے ہیں اور گھریلو صنعتیں سمٹ رہی ہیں۔ کبھی کبھار یہ کشمکش جو بھارتی حکومت و فوج اور کشمیریوں کے درمیان جاری ہے 480 قبل از مسیح میں لڑی جانے والی اس جنگ سے مماثلت رکھی ہے جو ایران اور سپارٹا  کے درمیان تھرموپائل کے مقام پر لڑی گئی تھی  جس میں صرف تین سو سپارٹا ٹراکوں کے مقابل لاکھوں پر مشتمل حملہ آور فوج تھی۔ سب کے سب تین سو سپارٹن مارے گئے لیکن نتیجہ بالآخر یونانیوں کی فتح پر منتج ہوا۔ میرا یقین ہے کہ مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کے لوگ آزادی کی نعمت سے بہت جلد ہمکنار ہوں گے اور جامع مسجد شاہ ہمدان میں لوگ بلا خوف و خطر اپنی نمازیں ادا کریں گے۔ ان ہی آزاد فضاؤں میں موئے مبارک کی زیارت کریں گے اور اپنے ربِ کریم کا شکر ادا کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -