کراچی کی بہتری کے لئے مشترکہ کوششیں 

کراچی کی بہتری کے لئے مشترکہ کوششیں 

  

ایک دوسرے کی شدید مخالف تین سیاسی جماعتیں،جن میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی بھی شامل ہے، بالآخر کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے متحد ہو گئی ہیں، تینوں جماعتوں کے نمائندوں کی اسلام آباد اور کراچی میں دو ملاقاتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں کراچی کی ترقی کے لئے نگران کمیٹی قائم کر دی گئی۔ کمیٹی میں وفاق اور سندھ حکومت کے تین تین نمائندے شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کی نمائندگی اسد عمر اور علی زیدی کریں گے، وفاقی وزیر امین الحق، جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے،وہ  بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ سندھ حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ شامل ہوں گے جو کمیٹی کے سربراہ بھی ہوں گے۔ دو دوسرے ارکان میں ناصر شاہ اور سعید غنی شامل ہیں۔ موجودہ میئر کراچی وسیم اختر کی مدت ختم ہونے کے بعد کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مشترکہ طور پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی حد بندیاں ہوں گی۔ اس سلسلے میں اسمبلی سے بل بھی منظور کرایا جائے گا۔ پی پی پی کی قیادت کی منظوری کے بعد کراچی میں تینوں جماعتوں کی دوسری ملاقات ہوئی جس میں اتحاد پر اتفاق ہو گیا اور معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ ملاقات کا ایجنڈا کراچی میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے کاموں کو آگے بڑھانا تھا۔ وزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے اس اتحاد و اتفاق کی تصدیق کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا کراچی کی تعمیر و ترقی کے لئے اتحاد و اتفاق خوش آئند ہے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کوئی بھی حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی، کمیٹی صوبے کے ترقیاتی کاموں میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی، حکومتیں مل کر کام کریں گی تو مسائل حل ہوں گے۔ سندھ حکومت مل کر کام کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ہر اس فرد یا جماعت کو خوش آمدید کہا جائے گا جو کراچی کی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئینی اعتبار سے انتظامی امور سندھ حکومت ہی دیکھے گی۔

2018ء کے انتخابات کے بعد سے وفاقی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان الفاظ کی جنگ دو سال تک جاری رہی، وفاقی وزراء ہر دوسرے تیسرے مہینے حکومت کی تبدیلی کی خبر سنا دیتے، کبھی گورنر راج کی باتیں شروع ہو جاتیں۔ اسمبلی کے اندر چونکہ نمبر گیم پیپلزپارٹی کے حق میں تھی اس لئے ایوان کے اندر تبدیلی کی جانب کوئی نہیں جاتا تھا جو ایک آئینی راستہ ہے۔ تبدیلی کے خواہش مندوں کی ساری دوڑ دھوپ اس مقصد کے لئے تھی کہ کوئی ایسا شارٹ کٹ اختیار کر لیا جائے جسے روبعمل لا کر حکومت بدل جائے یا الٰہ دین کا کوئی ایسا چراغ میسر ہو جسے رگڑتے ہی حکومت غفرلہ، ہو جائے۔ اس مقصد کے لئے کئی وفاقی وزراء ”گِٹ سندھ حکومت“ مشن پر کراچی بھیجے گئے، انہوں نے بیانات کی حد تک تو بڑی کامیابیاں حاصل کر لیں لیکن عملاً انہیں ناکامی ہوئی، اس کے بعد وہ وفاقی وزراء میدان میں اتارے گئے جن کا تعلق کراچی سے ہے، انہوں نے بھی چار دن خوب رونق لگائی، بارشیں ہوئیں اور نکاسیء آب کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کا کلی ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرا دیا گیا، بجلی کی لمبی لمبی لوڈشیڈنگ ہوئی، تو یہ بھی سندھ حکومت کے نامہء اعمال میں درج کر دی گئی۔ ”کے الیکٹرک“ کی کوتاہیوں اور خرابیوں کی ذمہ دار بھی صوبائی حکومت ہی ٹھہری، بعض سرکاری رپورٹوں کے حوالے سے بھی کئی دن تک الزام تراشیوں کا مقابلہ ہوتا رہا۔ وفاقی وزراء سارے کام چھوڑ چھاڑ کر فل ٹائم یہی کام کرتے رہے، جس کا جواب بھی سندھ کے وزراء کی ذمہ داری رہی۔ زمین پر حالات جیسے جیسے خراب ہوتے رہے،ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے مظاہرے بھی اسی طرح تیز تر ہوتے گئے، بالآخر ایسے مردانِ غائب ظہور میں آئے جنہیں کراچی کی حالت پر رحم آ گیا اور انہوں نے کہا الفاظ کی گولہ باری بہت ہو چکی، اب اچھے بچوں کی طرح مل جل کر، کراچی کے مسائل حل کرو، ایسے اقدامات کرو جن سے کراچی کے معاملات بہتر ہوں اور ترقی کا رکا ہوا سفر آگے چلے۔ دو اجلاس ہوئے، ایک اسلام آباد میں اور دوسرا کراچی میں، پھر سارے معاملات ہموار ہونا شروع ہوئے، تین وفاقی وزراء اور وزیراعلیٰ سمیت سندھ کے تین وزراء پر مشتمل کمیٹی بن گئی جو حالات کی بہتری میں کردار ادا کرے گی۔ اب سب خوش ہیں، اچھی پیشرفت پر ہر کسی کو خوش ہونا ہی چاہیے، اس لئے ضروری ہے کہ اصلاحِ احوال کے لئے جو کوششیں بھی کی گئی ہیں ان کا خیر مقدم کیا جائے، بہتری کی امید رکھی جائے اور مثبت نتائج کے لئے دعا کی جائے، ہم اس دعا میں شریک ہیں کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان جو عہد و پیمان ہوئے ہیں ان پر نیک نیتی سے عملدرآمد ہو۔

کراچی آج جن مسائل سے دوچار ہے یہ کوئی چند برس میں پیدا نہیں ہوگئے، یہ نصف صدی کا قصہ نہ بھی ہو تو عشروں کی بدانتظامی کا حاصل ضرور ہے اور اس کی ذمہ دار کوئی ایک سیاسی جماعت یا کوئی ایک حکومت نہیں تھی۔ کراچی کے کنٹرول کا بھوت جس جس پر بھی سوار ہوا اس نے اس کاسمو پولٹین شہر کی بربادی میں پورا پورا حصہ ڈالا، اس شہر کو خون میں بھی نہلایا گیا اور اب پانی میں بھی ڈبویا گیا، روشنیوں کے اس شہر کے مقدر میں تاریکیاں بھی لکھی گئیں اور شہر ایسے ایسے مسائل سے دوچار ہوا جو اب تک قصباتی شہروں ہی میں دیکھے جاتے تھے۔ عالمی شہروں کی فہرست میں شامل کوئی بھی شہر ایسا بدنصیب ہو سکتا ہے اس کا اندازہ کسی کو نہ تھا،لیکن سب نے مل ملا کر یہ کر دکھایا تو اب کہیں جا کر یہ احساس ہوا کہ جنہوں نے ”درد دیا تھا وہی اب دوا بھی دیں گے“…… عشروں کے بعد ہی سہی اگر احساسِ زیاں اُجاگر ہوا ہے تو قابلِ تعریف ہے لیکن اب دیکھنے اور پرکھنے والی بات یہ ہوگی کہ دو اجلاسوں کے نتیجے میں جو مفاہمت وجود میں آئی ہے وہ کتنی دیر اور کتنی دور تک چلے گی اور اس پر کتنی نیک نیتی سے عمل ہو گا اور ”دورِِ جاہلیت“ کی پرانی عصبیتیں کتنے عرصے تک دبی رہیں گی اور دوبارہ کسی وقت عود تو نہیں کر آئیں گی،بس یہی مشکل مرحلہ ہے۔ سیاسی اختلافات کوئی بُری بات نہیں،خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دشمنیوں کی حدود میں داخل ہوتے اور دوسروں کی آنکھوں کے تنکے تلاش کرتے کرتے اپنے شہتیروں سے نظریں  چرا لی جاتی ہیں، پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو کراچی میں ہوتا رہا،یہاں تک کہ اصلاح کی ضرورت کے لئے ”تین جماعتی انتظام“ کرنا پڑا۔

کراچی شہر کے مسائل بنیادی طور پر بلدیات سے تعلق رکھتے ہیں، اگر بلدیاتی ادارے مضبوط ہوتے اور شہری مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لیتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ مسائل حل نہ ہوتے۔ نعمت اللہ خان مرحوم نے اپنے عمل سے یہ بات ثابت کر دی تھی کہ مسائل  جتنے بھی گھمبیر ہوں، اگر کوئی حل کرنا چاہے تو اسے کامیابی بھی ملتی ہے۔ انہوں نے کراچی کی آمدنی میں سینکڑوں ہزاروں گنا اضافہ کر دیا، ایسے ترقیاتی کام کئے جو نظر بھی آتے تھے۔ مخالفین کی آنکھیں اگرچہ چندھیائی چندھیائی تھیں لیکن روزِ  روشن کا انکار وہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ نعمت اللہ خان کو دوسری مرتبہ خدمت کا موقع ملتا تو شاید اس شہر میں وہ دور واپس آ جاتا جب سڑکیں روزانہ دھوئی جاتی تھیں، تجاوزات کا نام و نشان نہیں تھا، سڑکیں کشادہ تھیں اور چمکتی دمکتی، لیکن ان کو دوسری مرتبہ منتخب کرانے میں ایک ہمہ مقتدر حکمران کی سیاسی انا حائل ہو گئی۔ اس انا کی وجہ سے نعمت اللہ خان کا تو کچھ نہ بگڑا البتہ بدلتا ہوا کراچی ایک بار پھر مصائب کا شکار ہونا شروع ہو گیا اور بگڑتے بگڑتے ان حالات کو پہنچا جن کی اصلاح کے لئے اب تین جماعتوں کو مل بیٹھنا پڑا۔ جس شہر کو ایک اکیلے نعمت اللہ خان نے ترقی سے ہمکنار کردیا تھا،اب تین جماعتیں مل کر بھی وہ دور واپس لے آئیں تو بُرا سودا نہیں ہے۔ البتہ اس کے لئے شرط ایک ہی ہے…… حُسنِ نیت، اگر نیتوں میں فتور ہوا تو یہ سفر کھوٹا بھی ہو سکتا ہے۔ کوشش اور دعا کرنی چاہیے کہ یہ نوبت نہ آئے اور کراچی کی مشکلات دور ہوں۔

مزید :

رائے -اداریہ -