آن لائن ٹیچنگ

آن لائن ٹیچنگ
آن لائن ٹیچنگ

  

زمانہ طالب علمی میں جب کوئی اچھا استاد پڑھا رہا ہوتا تو اس کی بات سننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ میں کوشش کرتا کہ کچھ نوٹس بھی بنا لوں۔ مگر نوٹس بنانے کی کوشش میں گفتگو  سننے میں تھوڑی گڑ بڑ ہو جاتی۔ گفتگو پر زیادہ غور کرتے تو نوٹس رہ جاتے۔ اس وقت جی چاہتا کاش کوئی ایسا بٹن ہو کہ استاد کسی طرح ری وائنڈ ہو جائے اور میں وہ گفتگو دوبارہ سن سکوں۔بدلتے وقت کے ساتھ یہی ہوتا رہاہے کہ انسان جو سوچتا ہے اور جس چیز کے خواب دیکھتا ہے وہ بہت جلد اس کے سامنے خواب کی بجائے حقیقت کے روپ میں موجود ہوتی ہے۔ آج کی ہر حقیقت کبھی کسی نہ کسی کا خواب تھا یا خیال تھا۔ اب ٹیکنالوجی کے زبردست دور میں ہمارے سامنے ہے کہ ایک طالب علم کا آسانی سے استاد کا لیکچر ریوائنڈکرنے کا وہ خواب بھی زندہ تعبیر ہے۔آن لائن ٹیچنگ نے اچھے استادوں کو جو اپنا لیکچرریکارڈ کرکے یو ٹیوب پر یا کسی بھی طریقے سے کمپیوٹر پر لگا دیتے ہیں، ری وائنڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔آپ آسانی سے وہی لیکچر جتنی دفعہ چاہیں سن سکتے ہیں۔  

آن لائن لیکچر نے جہاں دنیا کو پڑھانے کا ایک نیا انداز دیا ہے وہاں بہت سے تعلیمی سومنات تباہ کرنے کی نوید بھی دے دی ہے۔ ویسے تو ہر استاد  اور تعلیم کو جاننے والا ہر شخص ہی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آن لائنایجو کیشن کو پوری طرح سمجھتا اور جانتا ہے اور اس نے آن لائن بہت کچھ پڑھا دیا ہے، پڑھا رہا ہے مگر تھوڑے دنوں میں صورت حال واضع ہو جائے گی۔ پڑھانے اور ٹرخانے کا فرق بھی واضع ہو جائے گا۔ابھی تو زیادہ تر طلبا اور اساتذہ کو بھی یہ معلوم نہیں کہ آن لائن ایجوکیشن کے تقاضے کیا ہیں اور لوازمات کیا ہیں۔ پاکستان کے معروضی حالات میں ابھی ہمیں کون کون سے اقدامات کی ضرورت ہے حکومتی سطح پر بھی اور تعلیمی اداروں کو بھی۔ ایک سرٹیفائڈ آن لائن ٹیچر کی حیثیت سے میں اس کے بارے کچھ معلومات جو میں نے جانی اور سمجھی ہیں کا طلبا اور اساتذہ سے تبادلہ کروں گا۔

آن لائن ایجوکیشن میں پڑھنے اور پڑھانے کے لئے سب سے پہلے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔چونکہ ابھی تک یہ اہتمام گھروں میں ہوتا ہے اور گھروں میں بچوں کا شور، ٹیلی وژن کی اونچی آواز، بیوی یا ماں کی لمحہ بہ لمحہ کوئی نہ کوئی پوچھ گچھ، قریبی سڑک پر ٹریفک کا ہنگامہ بڑی عام سی چیزیں ہیں۔ان سب سے بچنے کے لئے گھر کے کسی پر سکون گوشے کا انتخاب سب سے پہلا مرحلہ ہے۔ٹیلی فون، غیر ضروری ویب سائٹ کو بند رکھیں۔ چونکہ ہر کام کمپیوٹر پر ہوتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ ہر بیس منٹ کے بعد ایک چھوٹا سا وقفہ کریں۔ ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ 20-20-20 کے فامولے پر عمل کریں یعنی بیس منٹ پڑھیں یا پڑھائیں۔ اس کے بعدکم از کم بیس سیکنڈ سکون سے رہیں اور اس دوران بیس فٹ کے فاصلے پر کسی چیز پر توجہ مرکوز رکھیں۔کھڑے ہو جائیں اس کے بعد پانی پئیں۔ ہلکی پھلکی کوئی چیز اگر ممکن ہو تو کھا لیں اور پھر لیکچر شروع کر دیں۔ 

آن لائن ایجوکیشن کا سب سے بڑا فائدہ اس کی لچک ہے۔ استاد ایک مقررہ وقت پر لیکچر دے دیتا ہے۔

طلبا اسے سنتے اور سمجھتے ہیں۔ مسائل نوٹ کرتے اور مقررہ وقت پر استاد سے اس بارے بات چیت کرتے ہیں۔مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ طلبا اسے پڑھنے اور تیار کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور صرف حاضری لگوانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔آن لائن ایجوکیشن میں طلبا کا سنجیدہ ہونا ایک ضروری امر ہے ورنہ یہ سارا کام بے معنی ہو جاتا ہے۔طلبا کو چائیے کہ وہ اپنا ایک شیڈول ترتیب دیں اور اسی کے مطابق عمل کریں۔ کورس میٹریل اور دیگر چیزیں لیکچر سننے کے دوران اپنے پاس ایک ہی جگہ رکھیں۔ استاد سے گفتگو سے پہلے لیکچر کو دو تین دفعہ دیکھ لیں اور پھر یہ جاننے کے بعد کہ کہاں انہیں مشکل پیش آ رہی ہے اپنے مسائل کے بارے بھر پور گفتگو کریں۔ اپنے آپ کو مربوط رکھنا طلبا کا خود پر ایک بڑا احسان ہو گا۔ وہ یونیورسٹی نہیں جاتے مگر صبح اٹھ کر نہائیں دھوئیں کپڑے بدلیں اور ا سی انداز سے تیار ہوں جیسے یونیورسٹی جانا ہے۔ پھر لیکچر سنیں۔ بہتر ہے پوموڈورو (Pomodoro) طریقہ کار اپنائیں۔ آپ کو اپنے کام سے پیار کرنا آ جائے گا۔پوموڈورو  اپنے وقت کو قیمتی جانتے ہوئے ترتیب دینے کی مہارت ہے۔

 میں عام طور پر لیکچر کا پورا مواد طالب علموں کو ای میل کر دیتا ہوں۔ اس کے بعدمقررہ وقت پر لیکچر دیتا ہوں اور پھر اسے یو ٹیوب پر لگا دیتا ہوں۔ تیسرے مرحلے میں، میں طالب علموں کے ساتھ براہ راست گفتگو کرتا ہوں اور اگر انہیں کسی جگہ کوئی مشکل درپیش ہو تو اس کا ازالہ کرتا ہوں۔ میں اپنے ایک دوست سے جو اپنے شعبے کے ہیڈ ہیں کہہ رہا تھا۔ کہ یونیورسٹیوں کو آن لائن ایجوکیشن میں دلچسپی لینا چائیے کیونکہ اب یہی مستقبل ہے۔ میرے خیال میں ہر ڈیپارٹمنٹ ایک چھوٹا سا سٹوڈیو کلاس روم تشکیل دے۔ جہاں ملٹی میڈیا اور کیمرہ بمعہ کیمرہ مین موجود ہو۔انٹر نیٹ کا پورا  اور بہترین انتظام ہو۔ لیکچر کا پورا مواد طلبا کو مہیا کرنے کے بعداستاد لیکچر اسی سٹوڈیو روم میں آ کر دے۔اس کے بعد وہ لیکچر ڈیپارٹمنٹ کی ویب سایٹ پر لگا دیا جائے۔ ہفتے میں ایک  یا دودن استاد اپنے طلبا سے براہ راست کمپیوٹر پر بات چیت کرے۔ دنیا بھر میں آن لائن کا یہی مروجہ طریقہ ہے اور ہمیں بھی یہی اپنانا ہو گا۔

آن لائن ایجو کیشن چونکہ مکمل طور پرٹیکنالوجی کی محتاج ہے اس لئے طالب علموں کو اس سے استفادہ کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہونا چائیے۔ سب سے پہلے ایک تیز رفتار انٹر نیٹ کنکشن کا ہونا بہت بنیادی ضرورت ہے۔ پھر اس ٹیکنالوجی کو اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب دینا ہوتا ہے۔وڈیو کانفرنس کا سوفٹ وئیر سب سے پہلے ڈاؤن لوڈ کریں۔اس کا پاس ورڈ حاصل کریں اور اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ استاد کولیکچر کے لئے ایل ایم ایس (Learning Management System) جیسے کینوس، بلیک بورڈ، سکائی یا ایسے کسی پروگرام کے  استعمال سے واقفیت ہونا لازمی ہے۔طلبا سے براہ راست بات چیت کے لئے گوگل میٹ اور زوم جیسے پروگرام بہت مفید ہیں۔حکومتی سطح پر عام آدمی تک تیز رفتار انٹر نیٹ کا انتظام ہوناوقت کا تقاضا ہے۔ خصوصاً ہمارے دیہاتی طلبا کو کمزور انٹرنیٹ یا انٹر نیٹ نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن ایجو کیشن کا حصہ بننے میں ناکامی کا سامنا ہے۔

 آج ایک بات سب کو جان لینا چاہیے کہ مستقبل آن لائن ایجوکیشن کا ہے۔امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے دیگر ممالک کی بہترین یونیورسٹیاں جس طرح آن لائن ایجوکیشن کو فروغ دے رہی ہیں،ان سے مسابقت کے لئے ہر سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے، آن لائن ایجو کیشن کی وجہ سے دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں گریڈوں کے بھوکے اساتذہ کی فوج ظفر موج ختم ہو چکی۔ ایک کورس کو ایک یا دو استاد  اپنے ایک یا دو لیکچر اسٹنٹ کی مدد سے پڑھاتے ہیں۔ تعلیمی مواد سب کے سامنے ہوتا ہے، اس میں سے کچھ چھپایا بھی نہیں جا سکتا۔ ان یونیورسٹیوں کے  ایک ایک کورس میں بیس بیس ہزار سے زیادہ طلبا شریک ہوتے ہیں۔ ٓن لائن امتحان ہوتا ہے اور فوری نتیجہ بھی سامنے آ جاتا ہے۔ہمیں بھی ایسا ہی اہتمام کرنا ہو گا کیونکہ جو ادارہ اس ریس میں ناکام ہو گا۔ جہاں کے اساتذہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنا نہیں پائیں گے۔ وہ تعلیمی میدان میں فارغ قرار پائے گا۔  

مزید :

رائے -کالم -