گلستانِ اُردو میں کانٹے

گلستانِ اُردو میں کانٹے
گلستانِ اُردو میں کانٹے

  

”اچھی کتابیں“ کہا جاتا ہے کہ ”ہمیشہ بُری کتابوں کے بعد لکھی جاتی ہیں“۔یہ مگر ایک اور طرح کی کتاب ہے۔اس موضوع پر اغلباً پہلے کچھ لکھا ہی نہیں گیا۔ ایک بہت ہی معیاری نسخہ جو قینچی سے ترتیب نہیں پایا، بلکہ شاہد محمود وڑائچ صاحب نے خونِ دِل سے لفظوں کو سنوار اور نکھار دیا ہے۔ واقعی ”صدائے حکمت“ شعائر اسلام کے خلاف رائج الفاظ، محاورات اور روزمرہ کے حوالہ سے حساس قلب و نظر کے لئے ایک دعوتِ فکر و عمل! روایت شکن او ر روایت ساز!!

شاہد محمود وڑائچ ایک خوبصورت اور درد مند دِل رکھتے ہیں۔ان کے نستعلیق ہونے پر یہ موضوع ہی کافی ہے۔ بلحاظِ پیشہ آج کل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ٹھہرے۔ شعبہئ قانون سے قطع نظر تاریخ، فلسفہ اور اُردو میں پوسٹ گریجوایٹ! علم و ادب اور تصنیف و تالیف میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔وقتاً فوقتاً ان کی تحریریں قومی اخبارات و رسائل کا حصہ بنتی  رہتی ہیں۔ان کی متعدد کتب طباعت و اشاعت کے مراحل میں ہیں۔

اس کتاب کو ہر مدرسہ، کالج اور یونیورسٹی میں موجود ہونا چاہئے، کیوں؟ ”صدائے حکمت“ میں کالم نگار ”ناقابل ِ تردید“ رائے ارشاد کمال نے بعنوان ”ادب میں بے ادبی“ اپنے تاثرات نذرِ قرطاس کئے ہیں:

”مَیں چند برس گورنمنٹ ڈگری کالج حافظ آباد میں اُردو کا استاد بھی رہا ہوں۔کئی محاورات اور ضرب الامثال دل و نظر کو کھٹکتے تھے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس ”ادبی واردات“ کو کبھی گہرائی میں اُتر کے نہیں دیکھا،حالانکہ دیکھا جانا چاہئے تھا، مگر یہ کام موصوف نے کر دکھایا اور  کیا خوب کر دکھایا،بقول شاعر:

لکھنے والے ہی جان سکتے ہیں 

لفظ لکھنے میں جو قیامت ہے

پروفیسر غازی علم الدین نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اُردو کے بہت سے محاورات، کہاوتیں اور ضرب الامثال دورِ غلامی کی یاد گار ہیں، جو اسلامی ہند کے زوال پذیر معاشرے کی تقسیم کا پیمانہ ہیں۔ ان کا کوئی نہ کوئی وضعی پس منظر ہے، جس کا کھوج لگانا طلباء لسانیت کا امتیازی وصف ہے۔اس بحرانی فضا میں شاہد محمود وڑائچ جو لسانیات کا گہرا ورک رکھتے ہیں، ”صدائے حکمت“ تصنیف کی، جو اصلاح زبان کے تعلق سے ایک نہایت قابل ِ قدر کتاب  ہے۔

مَیں کتاب کی اہمیت و افادیت کی بناء پر قوم وزبان کے بہترین مفاد میں یہ مطالبہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ  وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت متعلقہ مقتدر حلقے اس پر فوری نوٹس لیں اور مصنف کی قابل ِ قدر تجاویز کے تحت گلستانِ اُردو میں سے ان کانٹوں کو بہر صورت نکال باہر کریں۔عزتِ مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد صاحب اور عزت مآب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان صاحب سے بطورِ خاص استدعا اور التجا ہے!

مزید :

رائے -کالم -