آم اور افسر

آم اور افسر
آم اور افسر

  

برصغیر کی دو سوغاتیں بہت مشہور ہیں یا یوں کہیے کہ برصغیر اپنی دو سوغاتوں کے باعث مشہور ہے، ایک آم اور دوسرے افسر۔ آموں اور افسروں میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔آم اگر پھلوں کا بادشاہ ہے تو افسر بھی اپنے اپنے محکمے کے بے تاج بادشاہ سے کم نہیں۔آم اگر دِکھنے میں خوبصورت اور تاثیر کے اعتبار سے گرم اور خشک تو یہی صفات عالیہ افسران کا بھی طرہء ا متیاز۔آم پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی تپتی لْو میں پکتا ہے لیکن بعد ازاں کولڈ سٹوریج کی یخ بستگی کے بغیر دنوں میں مرجھا جاتا ہے بعینہ افسر بھی سی ایس ایس کی بھٹی سے نکلنے کے بعد ائیر کنڈیشنر کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ تاز ہ آم کی طرح نیا نیا افسر بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔آم کا آڑھتی سبزی منڈی میں بیٹھتا ہے، تو افسران کا میرج بیورو میں۔ بدھ مت میں آم کو روحانی مقام حاصل ہے۔ مہاتما بدھ اپنے ساتھی راہبوں کے ساتھآم کے باغ میں عبادت اورآرام کیا کرتے تھے یہی کام ٹاؤٹ اور طفیلیہ قسم کے لوگ افسروں کے دفاترکے چکر لگا کے کرتے ہیں اور نروان حاصل کرتے ہیں۔ ہندومت میں آم کے پیڑ سے متعلق بہت سے قصے کہانیاں مشہور ہیں جو زیادہ تر سکینڈل نما ہیں اور کونسا افسر ہے جس کے قصے کہانیاں زبان زد عام نہیں؟شنٹو مت میں آم کو ہر طرح کی خواہش پوری کرنے والے پھل کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور افسروں کی بیگمات بھی ان کو اسی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔آموں کی طرح افسران کی بھی دو بنیادی قسمیں ہیں۔ تخمی اور قلمی۔ اول الذکر وہ ہیں افسری جن کو ورثے میں ملتی ہے یعنی اعلی افسران کے بچے، افسری کا جوہر قابل جن کو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔

قلمی افسران وہ ہیں مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس سے شارٹ کٹ مارتے ہوئے افسری قبیلے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کچھ دانشوروں کے بقول قلمی افسر وہ ہوتا ہے جو مڈل کلاس سے آنے کے بعد کسی بڑے سیاسی یا بیوروکریٹ خاندان میں شادی کر لیتا ہے اور دنیا میں نام اور بیگم کے قدموں میں اونچا مقام پاتا ہے۔ البتہ یہ بات ان حاسدوں کی پھیلائی ہوئی بھی ہو سکتی ہے جو سی ایس ایس کے امتحان میں ناکام ہوئے۔ بہر حال حقیقت جو بھی ہے ان افسران کو دنیائے افسری میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ جلنے والے کا مونہہ کالا۔کچھ لوگ اس ورائٹی کو سپر کرنل باسمتی کی طرز پر سپر قلمی یا سپر بیگمی کہہ کر بھی پکارتے ہیں۔ جیسے آم انواع واقسام کے وٹامن اور نمکیات کے باعث صحت کیلئے مفید تصور کیے جاتے ہیں افسران بھی اپنے اختیاراتی وٹامنزکے باعث عوام میں مقبول ہیں، یہ الگ بات ہے کہ یہ اختیاراتی وٹامنز بوجوہ عوام اور دوسروں کے بچوں کی پہنچ سے دور رکھے جاتے ہیں مبادہ ان کی ہنستی بستی زندگیوں میں کوئی خرابی پیدا کر دیں۔گویایہ سانپ کے اس ر ومانوی منکے کی مانند ہیں جو مسائل سے ڈسے معاشرے کا سارا زہر چوس لینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن سوائے سپیرے کے کسی اور کی دسترس میں نہیں آتا۔ ہمارے ایک سیانے اور نیم ٹھرکی دوست کے بقول افسری اختیارات ٹی وی پرآنے والی اس ماڈل گرل کی مانند ہیں جوآپ کے پوشیدہ اور پیچیدہ مسائل کا حل ہو سکتی ہے مگر نہیں ہوتی، اس کی مرضی۔ کہا جاتا ہے کہ آم کے پتوں کو کچھ دیر کیلئے ہاتھوں میں مسلیں تو اس کا رس اور خوشبو ہتھیلیوں میں رچ بس جاتی ہے اور ان میں تاثیرِ مسیحائی در آتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایسا ہاتھ کسی دائمی مریض پر بھی رکھ دیا جائے تو اس کے تمام اندرونی و بیرونی امراض کھسک جانے میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں۔

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب ’آم‘  رکھا

 روح  تک  آ  گئی   تاثیر  مسیحائی  کی

افسروں میں دستِ مسیحائی کا کام ان کا ٹیلیفون، ٹیکسٹ میسیج یا ویزیٹنگ کارڈ کرتا ہے۔مختلف طرح کے پرمٹ، لائسنس اور ٹھیکوں کاحصول اسی دستِ شافی کی کرشمہ سازی سے ممکن ہوا کرتا ہے۔ پولیس افسروں کا یہ ہاتھ ایف آئی آر درج کروانے، ناکے پر جان چھڑوانے اور ٹریفک چالان سے جان بخشی کیلئے معجزاتی تاثیر رکھتا ہے۔ آم کی 1500کے لگ بھگ قسمیں ہیں جن میں چونسہ، دسہری، انور ریٹول، لنگڑا، طوطاہری،الماس،بیگم پسنداور دیسی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جہاں آموں اور افسروں میں کچھ صفات عمومی طور پر مشترک پائی جاتی ہیں وہیں آم کی ہر قسم کی الگ سے بھی خصوصیات  ہیں جو اسے دوسری قسم سے ممتاز کرتی ہیں۔ صفاتِ عالیہ کی ایسی ہی کچھ تقسیم افسروں میں بھی دیکھی گئی ہے جس کی بنا پر دور سے دیکھ کر ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ افسر چو نسہ ہے، انور ریٹول ہے، الماس ہے یا دیسی!  افسروں کی سب سے عمدہ قسم انورریٹول ہے۔ چھوٹاسمارٹ جسم، پتلی حساس جِلد اور خوشبودار گودے سے بھرا ہوا، بالکل نئے بھرتی افسر کی مانند،سمارٹ،حساس، خدمت کے جذبے سے بھرپوراور انہی خوبیوں کی بدولت دلربا  اورہردلعزیز۔ 

تجھ کو کاٹا تو ہر ناک میں خوشبو اُتری

تجھ کو  چُوسا تو  ہر آم  مہکتے  دیکھا

دس سال بعد یہی افسربیگم پسندمیں تبدیل ہو جاتا ہے۔ گودا اور خوشبو تووافر لیکن وہ پہلے جیسی سمارٹنس ندارد۔ فیلڈ اور بیگم کے رگڑے کھا کھا کر جلد بھی پہلے جیسی نرم وملائم نہیں رہی۔بیس سال کی نوکری کے بعد افسر کی ہیئت فجری آم جیسی ہو جاتی ہے، گریڈ میں قوی الجثہ اور اختیارات کے گودے سے بھرپور مگر نہ خوشبو میں وہ بات نہ گودے میں وہ رسیلا پن، جِلد بھی سینئرز کی ڈانٹ ڈپٹ سہہ سہہ کے موٹی اور کھردری ہو چکی۔کسی میراثی نے آموں کی ریڑھی لگا لی۔ ایک راہگیر نے پوچھا یہ آم لنگڑ ے ہیں؟ میراثی نے چِڑ کے کہا لنگڑے ہیں تو ریڑھی پر لگا رکھے ہیں ناں! افسران میں بھی لنگڑے آم کی خصوصیات رکھنے والی ایک ورائٹی پائی جاتی ہے جو ہر وقت کسی نا کسی سفارشی ریڑھی پر سوار نظر آتی ہے۔ یہ ریڑھی سیاسی بھی ہو سکتی ہے اور غیر سیاسی بھی۔ آم کی یہ قسم سیاسی و غیر سیاسی ڈیروں اور فارم ہاؤ سز کی نم و زرخیز مٹی میں خوب پھلتی پھولتی ہے اور وہیں ثمر بار ہوتی ہے۔ عوام کیلئے شجر ممنوعہ۔ کچھ افسران طوطا چشمی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ نفسیات دانوں کا تجزیہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ضرور پیدائش کے بعد طوطا ہری آم کی گھٹی دی گئی ہو گی۔ آموں کی ایک مشکوک سی قسم الماس ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تاثیر کے اعتبار سے معتدل ہے۔

نہ گرم نہ سرد! یہ سن کر نہ جانے کیوں دھیان  الماس بوبی کی طرف نکل جاتا ہے یا پھر ان الماسی طبیعت افسران کی طرف جو نہ خود کوئی کام کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ ان کا قلم بھی چلنے سے قبل سو مرتبہ لچکتا، مٹکتا اور مڑمڑ کے دیکھتا  ہے۔کہیں چھاپا نہ پڑ جائے!۔دیسی آم کی حیثیت آجکل  دیگرآموں کے درمیان ایسی ہی ہے جیسے کوئی دیہاتی تہبند باندھے غلطی سے کسی کارپوریٹ آفس میں آ گھسے اور احساس کمتری کا شکار ہوکر چھپتا پھرے۔ حالانکہ یہ ذائقے میں نہایت میٹھا اور رسیلہ ہوتا ہے لیکن اس میں دو خرابیاں ہیں۔ ایک تو اس میں ریشے  بہت ہوتے ہیں، دوسرے اس کو چْوس کے کھانا پڑتا ہے جو دامن کو داغدار کئے بغیر ممکن نہیں۔ دیسی آم کی فطرت پر قائم افسران بھی اپنے اندر پائے جانے والے احساسِ کمتری کے ریشوں کی بدولت ہر وقت ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کو اپنے سمیت کسی میں بھی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔تاریخ دانوں کے مطابق منفی گنتی انہی سائنسدانوں کی ایجاد ہے۔ ان سے دامن بچانا دیسی آم کی نسبت کہیں دشوار ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افسر خوبیوں سے کلی طور پر عاری ہوتے ہیں۔ افسروں کی ایک کثیر تعدادآج بھی اپنے اندر انورریٹول جیسی سمارٹنس، چونسے جیسا فرض شناسی کا گودا اور دسہری جیسی احساس کی خوشبو لیے ہوئے ہے۔ دیکھنے والی نظر چاہیے۔  

مزید :

رائے -کالم -