ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس (2)

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس (2)
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس (2)

  

کل کے کالم میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے اردو زبان کے اس اسلوبِ نگارش کا تذکرہ کیا گیا تھاجس کو ”لشکری زبان کا اسلوب“ کہا جا سکتا ہے۔ جنرل بابر نے مختلف ملکی اور علاقائی موضوعات پر جس زبان میں تبصرے کئے وہ سٹائل ہمارے تعلیمی اداروں، لکھے پڑھے لوگوں کی مجالس و محافل، مارکیٹوں اور دفاتر وغیرہ میں روزمرہ کی بول چال کا حصہ بن چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اسلوب کو پاکستان کے سوادِ اعظم کے لئے بغرضِ وسیع تر پذیرائی، احاطہ ء تحریر میں لایا جائے اور الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں بھی گفتگو کرتے ہوئے انگریزی زبان کی اصطلاحات کو اردو میں بولتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ اردو زبان کی حمائت کرنے والے ایک گروہ کا خیال یہ بھی ہے کہ جس لفظ کا اردو ترجمہ پہلے سے اردو کی کتب میں موجود ہو اس کو انگریزی کے تلفظ میں لکھنا، اردو زبان کے ساتھ حد درجہ کی ناانصافی ہوگی۔ لیکن دوسری طرف جو انگریزی الفاظ عام روز مرہ کی گفتگو میں استعمال کئے جائیں ان کو تحریر میں لانے سے خواہ مخواہ کا گریز نہ کیا جائے۔ مثالیں دینے لگوں تو کئی صفحات سیاہ ہو جائیں گے۔ اس لئے صرف اصولی مباحث کا ذکر کرکے بات ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

پی ٹی آئی حکومت کا ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کیا جائے گا اور نجی تدریسی اداروں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے سکولوں میں وہی نصاب اپنے طلبا اور طالبات کو پڑھائیں جو گاؤں کے سکولوں میں پڑھایا جائے…… یہ ایک انقلابی اقدام ہو گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو انگلش میڈیم تعلیمی سکولوں کی وہ اجارہ داری ختم ہو جائے گی جو عشروں سے معاشرے کو تقسیم کر رہی ہے۔ کل کے میڈیا میں وزیرتعلیم کا یہ بیان بھی نظر سے گزرا کہ یہ نیا اور یکساں نصاب اپریل 2021ء میں پہلی کلاس سے پانچویں کلاس تک لاگو کر دیا جائے گا۔ 2022ء میں کلاس ششم سے کلاس ہشتم تک اور 2023ء میں کلاس نہم سے کلاس دوراز دہم تک۔ دوسرے لفظوں میں 2023ء میں او لیول اور اے لیول کا خاتمہ کر دیا جائے گا……

یہ بیل منڈھے چڑھتی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے اور اس پر آگے چل کر شدید لے دے بھی ہو گی۔ پورے ملک میں یکساں نظامِ تدریس ایک بڑا انقلابی اقدام ہے اور اس کے لئے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان سے عہدہ برآ ہونا اور سارے ملک کے پرائمری لیول کے سکولوں میں نصابی کتب کی فراہمی اس سے بھی بڑا انقلابی اقدام ہے۔اگر حکومت نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس کے نفاذ کی راہ میں (میرے خیال میں) بڑے بڑے ہمالہ حائل ہوں گے…… دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔

وزارتِ تعلیم نے نئے نصاب کی تیاریوں میں جن مصنفین کو انگیج کیا ہو گا ان کو اگر یہ ہدایات بھی جاری کر دی جائیں کہ وہ نصاب مرتب کرتے ہوئے اردو زبان کے جس اسلوب کو استعمال کریں اس میں ”خالص اردوئے معلیٰ“ کی بجائے اس بول چال کو استعمال کریں جو ملک کا سوادِ اعظم اپنے روزمرہ میں استعمال میں لاتا ہے۔ عربی اور فارسی کے دقیق اور مشکل الفاظ استعمال کرنے کی بجائے انگریزی زبان کی روزمرہ لغت کو ”اردوانے“ پر ترجیح دیں۔ میں پھر عرض کرتا ہوں کہ مثالیں دینے لگوں تو کالم، مقالہ بن جائے گا…… روز مرہ کی بول چال کو نصابی کتب کا حصہ بنانا اور اس میں انگریزی الفاظ کو اردو میں املا کرکے لکھنا،پڑھنا اور پڑھانا ماضی کی ”شدھ اردو“ سے زیادہ بہتر ہوگا۔ کمپیوٹر، موبائل اور اسی قسم کی ایسی مشینیں جن سے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو پالا پڑتا ہے ان کو انگریزی زبان کے الفاظ ہی میں بولا اور لکھا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک ٹویٹ کے ذریعے آنے والے تین برسوں میں کلاس ون سے لے کر بارہویں کلاس تک یکساں نظامِ تعلیم رائج کرنے کا پروگرام اگرچہ بتا دیا ہے لیکن جیسا کہ سطورِ گزشتہ میں کہہ آیا ہوں، یہ ایک نہائت ادق مسئلہ ہے۔ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا نفاذ ایک خوش آئند خواب ہے جس کی تعبیر ڈراؤنی بھی ہو سکتی ہے اور سہانی بھی۔ نجی تدریسی اداروں کے مالکان حکومت کی طرف سے یکساں نظامِ تعلیم کے اجراء کو سبوتاژ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر وزارتِ تعلیم کے کسی مقتدر اہلکار کی نظر سے یہ سطور گزریں تو ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا اوسط تعلیم یافتہ طبقہ بھی اپنے روزمرہ کی بول چال میں جن انگریزی الفاظ کو استعمال کرتا ہے ان کو سکولوں کی ابتدائی سطح (پرائمری کلاسز) کے نصاب میں بطور ایک سٹینڈرڈائزڈ سلیبس اختیار کیا جا سکتا ہے…… یہ ایک نئی طرح کی اردو زبان ہوگی۔ آپ اسے آدھا تیتر، آدھا بٹیر بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اگر قوم نے آگے چل کر انگریزی سے جان چھڑانی ہے تو جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس کی ڈکشن کو بطور ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اب آتے ہیں اس موضوع کی طرف کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کن کن موضوعات کو میڈیا کے توسط سے عوام کے ساتھ شیئر کیا۔

میں ان کے خطاب کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا۔ ایک حصہ اندرونی سلامتی کے موضوعات پر تھا اور دوسرا علاقائی سلامتی کے معاملات پر…… انٹرنل سیکیورٹی کا جہاں تک تعلق ہے تو انہوں نے لائن آف کنٹرول سے بات شروع کی۔ انڈیا کی طرف سے یکم جنوری 2020ء سے لے کر اب تک 1927بار ایل او سی کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ قریباً دو درجن پاکستانی مارے گئے جن میں بچے، عورتیں اور مرد شامل تھے اور کئی درجن زخمی بھی ہوئے۔ جنرل صاحب نے بتایا کہ ایل او سی پر واقع رہائشی علاقوں میں انڈین توپخانے کے فائر سے بچنے کے لئے پناہ گاہیں (بنکرز) تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اب تک 1000 بنکرز تعمیر کئے جا چکے ہیں۔ ایل او سی کے ساتھ ساتھ لگنے والے تمام علاقوں کے مکینوں کی حفاظت کے لئے بنکروں کی اس تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

جنرل صاحب نے اندرونی سلامتی کے موضوع پر جن دوسرے پہلوؤں کا ذکر کیا ان میں آپریشن ردالفساد کی تفصیل، پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر جنگلا بندی کی پراگرس، بلوچستان کے طول و عرض میں مختلف منصوبوں کی تعمیر، پولیو کے خلاف پاک آرمی کی معاونت، بارشوں اور سیلابوں کی روک تھام کی احتیاطی تدابیر، کورونا وبا کے لئے ماسکوں کی تیاری میں فوج کا کردار، پاکستان کا نیا پولیٹیکل نقشہ بنانے کی ضروت اور اس کے مضمرات، ابلاغی سپورٹ کی تفصیلات اور فوج کی طرف سے میڈیا کی تحسین جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی گئی۔ٹڈی دل کے خاتمے میں فوج نے جو کردار ادا کیا اس کے نتیجے میں 60 اضلاع میں ٹڈی دل کا خاتمہ کر دیا گیا اور اب صرف ایک ضلع باقی ہے۔کلبھوشن کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس کو سزا ہو چکی ہے اور اس پر عملدرآمد بھی پاکستانی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

علاقائی سلامتی کے سوال پر بات چیت کے دوران جنرل بابر نے بتایا کہ انڈیا 5 نہیں اگر 500رافیل بھی لے ٓائے اور S-400ائر ڈیفنس سسٹم بھی اگر فعال کرنا چاہے تو بسم اللہ…… افواج پاکستان ہر طرح سے اس خطرے (Threat) سے نمٹنے کا حوصلہ اور اس کا جواب تیار رکھتی ہیں اور اس کا مظاہرہ انڈیا دیکھ چکا ہے۔ ایک اور غلط فہمی کا ذکر جنرل صاحب نے فوج کے بجٹ کے بارے میں بھی کیا۔ کہنے لگے کہ کسی میڈیا پر یہ خبر چلائی گئی کہ ملک کا 84%بجٹ تو فوج کھا جاتی ہے، باقی کیا بچتا ہے؟…… اس پر ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تینوں مسلح افواج کا بجٹ، پاکستان کے کل بجٹ کا 17% ہے اور گزشتہ دس برس سے فوج نے اس بجٹ میں کسی اضافے کا مطالبہ نہیں کیا۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں اور اس ”تنگدستی“ میں بھی دشمن کی ہر ”دراز دستی“ کا جواب دینا جانتے ہیں! انہوں نے کہا انڈیا اپنے ہاں اسلحہ جات کے ڈھیر لگا رہا ہے اور پاکستان اس پراسس کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور انشاء اللہ اس کا موثر توڑ ہمارے پاس موجود ہے۔پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر Fencingکا 80% کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ کام ایران اور افغانستان کی حکومتوں سے مل کر کیا جا رہا ہے۔ جہاں کوئی تنازعہ سامنے آتا ہے تو اس کے لئے باقاعدہ ایک میکانزم موجود ہے۔ ہم اپنے ہمسایوں سے مل کر جنگلا بندی کی تکمیل کر رہے ہیں جس سے سارے فریقین کو فائدہ ہو گا۔

آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی چلا۔ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جنرل بابر نے بتایا کہ یہ فارن آفس کی قلمرو (Domain) ہے، تاہم میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستان اپنے ان دونوں برادر مسلم ممالک سے بہترین تعلقات رکھتا ہے اور آئندہ بھی رکھے گا! (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -