ایک اور معطل پائلٹ ہائیکورٹ پہنچ گیا، عدالت کا معطلی کیخلاف حکم امتناع، سی اے اے سے جواب طلب

ایک اور معطل پائلٹ ہائیکورٹ پہنچ گیا، عدالت کا معطلی کیخلاف حکم امتناع، سی ...

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) پی آئی اے کے ایک اور پائلٹ نے لائسنس بحالی کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،مسٹر جسٹس جواد حسن نے درخواست گزار پائلٹ عمر سلیم کا لائسنس معطل کرنے کے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نوٹیفیکیشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت،سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اپنی غلطیوں کا ملبہ کسی اور پر ڈال رہی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی کے بیان کے بعد اب تو جہاز پر سفر کرتے ہوئے ڈرلگتا ہے،اگر لائسنس جاری کئے گئے تو پھر بغیر کسی غلطی کے کیسے معطل کرسکتے ہیں۔کیا کسی پائلٹ کا  لائسنس بدتمیزی یا جہاز میں سونے پر معطل کیا گیا؟لائسنس معطل کرنے والی اتھارٹی کیسے اپیل سن سکتی ہے۔۔؟درخواست گزار کودوہزار تیرہ میں لائسنس دیا گیا دوہزار بیس میں کاروائی کا خیال کیسے آگیا؟درخوست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار پی آئی اے میں دوہزار چھ سے ملازمت کررہا ہے،دوہزار تیرہ میں پائلٹ کا لائسنس ملا ہے اور دوہزار پندرہ سے کیپٹن کی حیثیت سے ڈیوٹی کررہا تھا۔ڈی جی سول ایوی ایشن نے موقف سنے بغیر دس جولائی دوہزار بیس کو خلاف قانون  لائسنس معطل کردیا،معطل کرنے والی اتھارٹی کو ہی آئین پاکستان کے برعکس اپیل اسنے کا اختیار بھی دے دیا گیا،رولز کے مطابق محکمانہ سزا دینے والا افسر اپیل سننے کا اختیار نہیں رکھتا۔ دوران ڈیوٹی درخواست گزار کے لائسنسں کی  پانچ بار تجدید کی گئی۔درخواست گزار کا لائسنس دوہزارچوبیس تک تجدید شدہ ہے۔وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ کے دو مختلف سنگل بنچ اسی نوعیت کے کیس میں حکم امتناعی دے چکے ہیں۔درخواست گزار کا پائلٹ لائسنس معطل کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے۔ 

پائلٹ لائسنس

مزید :

صفحہ آخر -