عارف عثمانی کو بطور صدر نیشنل بینک کام سے روکنے کی استدعا مسترد

عارف عثمانی کو بطور صدر نیشنل بینک کام سے روکنے کی استدعا مسترد

  

 لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جواد حسن نے صدر نیشنل بینک آف پاکستان عارف عثمانی کے تقرر کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا تاہم عارف عثمانی کو بطور صدر نیشنل بنک آف پاکستان کام سے روکنے کی استدعا مسترد کردی،درخواسست گزار نعیم اللہ آفریدی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نیشنل بنک کے صدر کے تقرری کے لئے اخبار اشتہار دیا گیا جس کے لئے تعلیمی اہلیت بینکنگ میں ماسٹر ڈگری مقرر تھی،موجودہ صدر نیشنل بنک کو نوازنے کے لئے رولز میں ترمیم کرکے تعلیمی اہلیت گریجویشن کردی گئی۔فاضل جج نے کہا کہ نوٹیفیکیشن اسلام آباد سے جاری ہوا،صدر نیشنل بنک کراچی میں ہیں،یہ عدالت کیسے سماعت کرسکتی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق یہ عدالت کیس سن سکتی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ یہ درخواست گزارکون ہیں؟ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نیشنل بنک آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا سیکرٹری ہے،عدالت نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا سیکرٹری کیسے صدر نیشنل بنک کی تعیناتی چیلنج کرسکتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار لاہور کا رہائشی ہے اور درخواست دائر کرسکتا ہے۔ صدر نیشنل بنک آف پاکستان کاتقررلعدم کیا جائے،وکیل نے مزید استدعا کی کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک صدر نیشنل بنک کو کام سے روکا جائے۔

 استدعا مسترد 

مزید :

صفحہ آخر -