حکومت کے دوسرے سال میں قو می سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں 83فیصد کمی ہوئی: پلڈاٹ

  حکومت کے دوسرے سال میں قو می سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں 83فیصد کمی ہوئی: ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورے حکومت کے د وسرے سال میں قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ ساز فورم نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس صرف ایک اجلاس بلایا۔ حکومت کے پہلے سال میں قومی سلامتی کمیٹی کے چھ اجلاس منعقد کئے گئے ہیں  ، تناسب کے اعتبار سے 83 فیصد کی واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے 46 اجلاس طلب کیے جبکہ پہلے سال میں انہوں نے اپنے کابینہ کے 52 اجلاسوں کی صدارت کی۔ پلڈاٹ کی جانب سے کئے جانے والے تجزیئے کے مطابق حکومت پاکستان کے قواعد 20 کے تحت معمول کے فرائض انجام دینے کیلئے ہفتہ وار کابینہ کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے جو سالانہ 52 اجلاس بنتے ہیں  ۔وزیر اعظم نے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ5 ون آن ون ملاقاتیں کیں جبکہ دیگر مواقع پر ملاقاتیں الگ ہیں۔ تاہم، وزیر دفاع ان 25  رابط میں سے صرف 3 حصہ تھے۔ دفتر میں اپنے پہلے سال کے دوران، جب وزیر اعظم خان نے کمیٹی  کی 6  اجلاس  طلب کیں، وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف سے مجموعی طور پر 41 مرتبہ ملاقاتیں کی، وفاقی وزیر دفاع کے درمیان ہونے والی 41 میٹنگوں میں سے صرف 13  فیصد موجود تھے۔ 2013 کے بعد سے لگاتار تین وزرائے اعظم جنہوں  قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرپرسن کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی طرف سے سالانہ اوسطاکمیٹی کے اجلاس ہوتے رہے۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارت اعظمیٰ میں اوسطا ًہر سال 17 میٹنگ ہوئیں، اس کے بعد وزیراعظم عمران خان جنہوں نے صرف سالانہ اوسطا  3.5 ملاقاتیں کیں۔ نواز شریف کے دور میں کمیٹی کے ہر سال ہونے والے اجلاسوں کی اوسط تعداد سب سے کم ہے۔ 

پلڈاٹ 

مزید :

صفحہ آخر -