وبائی امراض کی روک تھام کیلئے کنٹرول سنٹر بنائے جائینگے: ڈاکٹر یاسمین راشد

      وبائی امراض کی روک تھام کیلئے کنٹرول سنٹر بنائے جائینگے: ڈاکٹر یاسمین ...

  

 لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدسے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں عالمی ادارہ صحت کے ہیڈ آف پاکستان مشن ڈاکٹرپالیتھاماہیپالا نے ملاقات کی اس موقع پر سیکرٹری صحت کیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیر،ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عاصم،ڈاکٹر جمشیدودیگر افسران بھی موجودتھے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد اور عالمی ادارہ صحت کے ہیڈ آف پاکستان مشن ڈاکٹرپالیتھا ماہیپالا کے درمیان باہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال ہوا۔ڈاکٹریاسمین راشدنے ملاقات میں ڈاکٹر پالیتھاماہیپالا کووبائی امراض کی روک تھام کیلئے مربوط حکمت عملی پر بریفنگ دی اور اہمیت پر روشنی ڈالی  اس موقع پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب میں وبائی امراض کی روک تھام کنٹرول سنٹر بنائے جائیں گے۔کنٹرول سنٹر کے افسران و ملازمین کی عالمی ادارہ صحت کے ماہرین سے تربیت کروائی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وبائی امراض کی روک تھام کیلئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ قائم کیاجائیگا۔صوبہ بھرمیں وبائی امراض پر قابوپانے کیلئے عالمی سطح پر مختلف طبی تنظیموں سے استفادہ کیاجائیگا۔ عالمی ادارہ صحت کے ہیڈ آف پاکستان مشن ڈاکٹر پالیتھاماہیپالانے محکمہ پنجاب کو وبائی امراض پر قابوپانے کیلئے مربوط حکمت عملی تیارکرنے پرسراہا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت وبائی امراض کی روک تھام کے پروگرام کیلئے حکومت پنجاب کیلئے آغاز میں ایک لاکھ ڈالرزکے فنڈز مختص کرے گا۔ عالمی ادارہ صحت وبائی امراض کی روک تھام کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے پراجیکٹ کی مکمل حمایت اور معاونت کرے گا۔ڈاکٹرپالیتھاماہیپلا نے کہا کہ پراجیکٹ کے ٹیکنیکل سٹاف کی امریکہ میں تربیت کروائی جائے گی۔پاکستان میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے ایک مربوط حکمت عملی انتہائی اہم ہے صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ عیدالاضحی کے بعد کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی کی وجہ سمارٹ لاک ڈاؤن، سمارٹ سمپلنگ اور بہترین حکومتی پالیسی ہے۔ دنیا میں کیسز بڑھ رہے ہیں جبکہ پاکستان میں حالات قابو میں ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانا بہت ضروری ہے 

ڈاکٹر یاسمین راشد 

مزید :

صفحہ آخر -