ایم ایل ون منصوبہ سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہو گا: وزیراعظم 

  ایم ایل ون منصوبہ سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہو گا: وزیراعظم 

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کیلئے ایک اور خوشخبری سنا دی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2020 ء میں سمندر پار پاکستانیوں کی بھجوائی ترسیلاتِ زر 2768 ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں۔گزشتہ روزسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹرپر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ملکی تاریخ میں ایک ماہ میں بھجوایا جانیوالا سب سے زیادہ سرمایہ ہے، یہ ترسیلاتِ زر جولائی 2019 کی نسبت 36.5 فیصد زیادہ ہیں، جو ملکی معیشت کیلئے ایک اور خوشخبری ہے۔ قبل ازیں اپنی زیر صدارت تر سیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے حوالے سے اجلاس میں وزیراعظم نے جولائی 2020میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانیوالی ترسیلات زر میں  واضح اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہا بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک و قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ترسیلات زر کے حوالے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر اور ملکی زر مبادلہ میں اضافے کیلئے مزید اقدامات تجویز کیے جائیں تاکہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ملکی معیشت کے استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں،اجلاس میں مشیران ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر عشرت حسین، گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر و دیگر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال اور ان میں مزید اضافے کیلئے مجوزہ تجاویز و اقدامات پر غوربھی کیا گیا۔بعدازاں بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی زیر صدات اجلاس میں وزیراعظم نے آئی پی پی معاہدوں میں باہمی اتفاق رائے سے تبدیلیوں میں پیشرفت کو سراہا اور کہا قیمت میں تناسب سے سرکلرڈیبٹ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ بجلی کا شعبہ ملک کی اقتصادی پیداوار کو متاثر کر رہا ہے اور فوری طور پر صارفین پر موجودہ بوجھ کو کم کرنے کیلئے اصلاحات اور ازسرنو تشکیل دینے کا عمل ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے پہلے سے منظور شدہ ری سٹرکچرنگ روڈ میپ پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی جبکہ وزیر بجلی کو کہا کہ لوگوں کو آئی پی پیز کیساتھ مذاکرات میں بڑے سنگ میل، ڈومیسٹک، کمرشل سمیت دیگر صارفین کو اس کے فوائد سے متعلق آگاہ کیا جائے۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر،وزیر بجلی عمر ایوب،معاونین خصوصی شہزاد قاسم، ندیم بابر اور سینئر حکام نے شرکت کی،اجلاس میں پاور شعبہ سے متعلق معاملات،شعبہ میں اصلاحات اور ازسرنو تشکیل کے مجوزہ روڈ میپ اور سرکلر ڈیبٹ کیساتھ ساتھ آئی پی پیز سے متعلق مذاکرات جیسے امور زیر بحث آئے

 وزیراعظم عمران خان نے کہا آئی پی پیز کیساتھ خوش اسلوبی کیساتھ طے پانیوالے معاملات سے بجلی کی قیمت اور گردشی قرض کم ہو گا، صارفین پر بوجھ کم کرنے کیلئے سسٹم کو فوری طور پر اوورہالنگ اور اصلاحات کی ضرورت تھی، پاور سیکٹر کی تنظیم نو کیلئے منظور شدہ روڈ میپ کا فوری اطلاق کیا جائے۔دریں اثناء اپنی زیرصدارت ایم ایل ون منصوبے سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا منصوبے سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہو گا۔ اجلاس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم کامزید کہنا تھا کہ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا اہم اور کلیدی منصوبہ ہے۔عمران خان کا کہنا تھا ایم ایل ون سے ریلوے کا نظام جدید اور مضبوط ہو گا، منصوبے سے نوکریوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔ ایم ایل ون منصوبے سے سے صنعتی عمل کو فروغ ملے گا، سفر اور مال برداری کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔ ایم ایل ون منصوبے سے کاروباری برادری کیلئے آسانیاں ہوں گی، منصوبے سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہوگا۔ ہمارے پیش نظر عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی ہے۔

وزیراعظم 

مزید :

صفحہ اول -