سینیٹ اجلاس، سیاسی جماعتوں کیخلاف پولیس گردی پر پیپلز پارٹی، جے یو آئی کا علامتی واک آؤٹ 

  سینیٹ اجلاس، سیاسی جماعتوں کیخلاف پولیس گردی پر پیپلز پارٹی، جے یو آئی کا ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ (ایوان بالا) میں پیپلز پارٹی اور جے یوآئی (ف)نے سابق صدر آصف زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر پارٹی ر ہنماؤ ں اور کارکنوں کیسا تھ پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوکن واک آوٹ کیا۔ اراکین سینیٹ نے ملک میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیو کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے، پولیو پروگرام کے سابق فوکل پرسن بابر بن عطاء کی کرپشن سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کیخلاف انکوائری کا بھی مطالبہ کر دیا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے عربی زبان کو تعلیمی اداروں میں لازمی قرار دینے، تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی اورکمپنیز ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے بل ایوان بالا میں پیش کئے، اجلاس کے دور ان سینیٹر رحمان ملک نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کے بل پر قائمہ کمیٹی رپورٹ پیش کی تواس موقع پر علی محمد خان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997  میں مزید ترمیم کا بل پیش کردیا،  ایوان نے تمام بلز کی متفقہ طور پر منظوری دیدی جبکہ چیئرمین سینیٹ نے تینوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے۔پیر کے روز پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیر ی رحمن نے کہا پا کستا ن کی تاریخ میں پہلی بار نیب کی پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما ؤ ں کو نیب آفس جانے کی اجازت نہیں دی گئی، ایم این ایز،سینیٹرز اور کارکنوں پر تشدد کیا گیا،جس پر پیپلز پارٹی سخت احتجاج کیا، انہوں نے کہا یہ کونسا احتساب چل رہا ہے کہ عالمی ادارے اس پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سپریم بار کونسل بھی اس کی مذمت کر چکی ہے۔ نیب کے حوالے سے فیصلے سامنے آچکے ہیں ملک میں کوئی قانون کام نہیں کررہا ہے سوا ئے نیب کے قانون کے ملک میں نیب زدہ وزیر پروٹوکول کیساتھ پھر رہے ہیں،یہ احتساب نہیں انتقام ہے، پیپلز پارٹی ڈرنے والی نہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب چیئرمین کو ایوان میں طلب کر کے پوچھا جائے وہ کیونکرملک میں امن و آمان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بتایا جائے آخر مسئلہ کیا ہے۔احتساب ضروری مگر یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے،اب سیاسی اس وجہ سے اقتصادی صورتحال خراب ہورہی ہے اور ہم سب بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔اس موقع پر قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا اپوزیشن اپنی بات کر لیتی ہے مگر جواب نہیں سنتی، اپوزیشن بتائے ان کا اعتراض کس چیز پر ہے، کیا ان کا اعتراض نیب کے قانون پر ہے یا انتظامات پر۔ آصف زرداری پیش ہوئے تو ان کو انسانی حقوق یاد آگئے۔ نیب کا کام احتساب کرنا ہے، اگر اس کے قانون پر اعتراض ہے تو آئیں ملک کر تبدیلی کرتے ہیں مگر احتساب کا عمل اس ملک میں جاری رہے گا۔ مولانا عبدالغور حیدری نے کہا کیا احتساب کے ادارے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے ہیں اور ان کیلئے کوئی ضابطہ یا اخلاقیات نہیں۔پہلے مریم نواز اور اب ملک کے سابق صدر کیساتھ جو سلوک ہوا تو اس سے اندازہ لگائیں کہ عام آدمی کیساتھ کیا سلوک ہوگا۔جے یوآئی کے ایم پی اے پر تحصیلدار کے حملے اور زدوکوب کا بھی نوٹس لے کر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کی جائے۔ایوان بالا میں تمام اراکین نے ملک میں پولیو کے خاتمے میں ناکامی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیو کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے، پولیو پروگرام کے سابق فوکل پرسن بابر بن عطاء کی کرپشن سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کیخلاف انکوائری کا مطالبہ کیا، جبکہ سینیٹر جاوید عباسی کی جانب سے سینیٹ اجلاس کے دوران پیش کئے جانے والے عربی زبان کو تعلیمی اداروں میں لازمی قرار دینے اور تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی روک تھام سے متعلق بلز پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہا اگر پاکستان عربی کو ایک زبان کی حیثیت سے شامل کر لے تو دنیا کے بہت سارے اسلامی ممالک میں پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، اس موقع پر قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا عربی زبان کی اہمیت سے ہم سب واقف ہیں تاہم وزارت کا یہ خیال ہے کہ عربی کو ایک زبان کی حیثیت سے کلاسز میں پڑھایا جارہا ہے اگر اس کو لازمی کردیا جائے تو بچوں پر اس کا بہت زیادہ بوجھ پڑے گا،اس موقع پر ایوان نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی جس پرچیئرمین سینیٹ نے بل کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوادیا۔تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ سے متعلق بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہااس ضمن میں ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، ملک بھر کی یونیورسٹیز میں بہت زیادہ کیسز رونما ہورہے ہیں اس مقصد کیلئے یہ بل پیش کیا ہے،اس موقع پر قائد ایوان شہزا وسیم نے کہا تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کا مسئلہ بہت اہم ہے، محکمہ تعلیم کام کر رہا ہے، کچھ گائیڈلائنز بھی بنائی گئی ہیں، حکومت بھی اپنا بل لانے کا ارادہ رکھتی ہے،اس موقع پر ایوان سے کثرت رائے سے منظوری دیدی جس پرچیئرمین نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ایوان بالا میں جاوید عباسی نے کمپنیز ایکٹ میں ترمیم کے حوا لے سے بھی بل پیش کیا۔ ایوان نے اس کی بھی منظوری دیدی جس کے بعدچیئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوادیا۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -