پاراچنار، ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین نہ ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا

  پاراچنار، ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین نہ ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات ...

  

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)پاراچنار کے ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین نہ ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا، سرحدی علاقے بوڑکی میں باؤلے کتے کے کاٹنے سے سات متاثرہ افراد کی زندگیاں ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث خطرے میں پڑ گئی ہیں پاک افغان سرحد کے قریب علاقہ بوڑکی میں گذشتہ روز باؤلے کتے نے سات افراد کو کاٹ لیا جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار منتقل کردیا گیا جہاں پر انہیں ابتدائی طور پر اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کردی گئیں تاہم اس کے بعد ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث متاثرہ افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور وہ ویکسین کیلئے در بدر پھر رہے ہیں سرحدی علاقے بوڑکی سے تعلق رکھنے والا ارشاد علی کا کہنا ہے کہ ان کے ستر سالہ بوڑھے والد کو باؤلے کتے نے کاٹ لیا ہے اور وہ گزشتہ روز سے ویکسین کیلئے خوار ہورہا ہے مگر ویکسین نہیں مل رہا جس کے باعث ان کے والد کی زندگی خطرے میں پڑ گیا ہے۔پاراچنار کے سماجی کارکن سبحان علی نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں اکثر کتے باؤلے ہو جاتے ہیں اور علاقے میں اکثر چھوٹے بچے اور ضعیف العمر افراد کو کاٹ دیتے ہیں کافی عرصہ سے ہسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے محکمہ صحت کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کرم کے ہسپتال کو اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کی جائے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو رابطہ کرنے پر ڈی ایچ او اپر کرم ڈاکٹر عطاء اللہ اور ڈی ایم ایس ڈاکٹر ممتاز حسین نے میڈیا کو بتایا کہ اینٹی ریبیز ویکسین کی پورے پاکستان میں کمی ہے اور انہیں قلیل تعداد میں ویکسین فراہم کی جاتی ہے تاہم ان کی بھرپور کوشش ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور سول ہسپتال پاراچنار میں ویکسین کی کمی کو جلد از جلد پورا کیا جائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -