مولانا فضل الرحمان کی باچاخان مرکز کو بعض افراد نے غلط رنگ دینے کی ناکام کوشش کی: میاں افتخار 

مولانا فضل الرحمان کی باچاخان مرکز کو بعض افراد نے غلط رنگ دینے کی ناکام ...

  

پبی (نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمیعت علماء اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان کا ان کے مرحوم بھائی کی فاتحہ کے لیے باچاخان مرکز آنے کو چند لوگوں نے انتہائی غلط رنگ دیا ہے جس کا ان کو بے حد افسوس اور رنج ہے۔ مجھے حکومت سے کوئی گلہ نہیں بس گلہ اس بات کا ہے کہ مولانا جیسے مہمان کی آمد کو متنازعہ بنانے کی بے تکی کوشش کی گئی ہے۔ باچاخان پشاور سے جاری اپنے ایک بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کا ان کے بھائی کی دعا کے لیے آنے کا ایک بار پھر شکریہ اور اس سادہ سی بات کو غلط رنگ دینے کی مذموم کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاتحہ کے بعد مولانا اور ان کی میڈیا سے کی گئی گفتگو ریکارڈ پر موجود ہے لیکن اس سب کے باوجود ان کی باتوں کو غلط پیرائے میں پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور دنیا میں جہاں بھی مظالم ہوتے ہیں، ان کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ہماری پارٹی ظالم کے خلاف مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور یہ روز اول سے ہماری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ظالم اور جارح جبکہ فلسطین ایک مظلوم قوم ہے، اس لیے پارٹی اسرائیل کے مظالم کی مذمت اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا تو درکنار الٹا ہم ان کیاس روش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے زمانہ طالبعلمی سے لے کر اب تک اسرائیل کے مظالم کے خلاف اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے سینکڑوں جلوس نکالے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ کس طرح کوئی ذی شعور انسان قبلہ اول پر حملہ اور قبضہ برداشت کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا کے باچا خان مرکز آنے سے بہت سے لوگوں کو تکلیف  پہنچی ہے اور اب بے سر و پا کی باتیں کر رہے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت اور ان کے حواری نہیں چاہتے کہ اپوزیشن اکٹھی ہوجائے لیکن عمران حکومت کی نااہلیوں، ناکامیوں اور پے درپے غلطیوں کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن نے لا محالہ اکٹھا ہونا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ موجودہ حکومت سے عوام تنگ آگئے ہیں اور اگر اپوزیشن باہر نہیں نکلی تو عوام خود نکل آئیں گے کیونکہ عمران حکومت ناکامیوں کی ساری ڈگریاں سمیٹ چکی ہے۔ میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ سے آئی ہے اور وقت کی پکار ہے کہ نئے، غیر جانبدار اور کسی بھی مداخلت سے پاک انتخابات ہوں اور جو جیتے حکومت ان کے حوالے کی جائے۔ مولانا صاحب کے مرکز آنے پر کچھ لوگوں کی جانب سے اس تنقید کے جواب میں کہ وہ تعزیت کے لیے میاں افتخار حسین کے گھر کیوں نہیں گئے، مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ 2010 سے ان کا گاوں میں حجرہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ باچاخان مرکز ان کو اپنے گھر سے بھی زیادہ عزیز تر ہے لہذا مخالفین کو اس بات پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔

مزید :

صفحہ اول -