مجلسِ پاکستان نے جشنِ آزادی کی پروقار تقریب کا اہتمام کیا

مجلسِ پاکستان نے جشنِ آزادی کی پروقار تقریب کا اہتمام کیا
مجلسِ پاکستان نے جشنِ آزادی کی پروقار تقریب کا اہتمام کیا

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مجلسِ پاکستان کی جانب سے یوم آزادی کی مناسبت سے تقریب منعقد کی گئی جس میں سیاسی، سماجی، ادبی اور مذہبی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی، شرکاء سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمان اور ممتاز صحافی و تجزیہ نگار سجاد میر نے قیامِ پاکستان پر روشنی ڈالی. 

دارالحکومت ریاض میں مجلسِ پاکستان کی جانب سے منعقدہ تقریب کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور تجزیہ نگار سجاد میر نے کہا کہ ریاست کو جب قائم کرنے کی جدوجہد جاری تھی تو اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی کر لیا گیا تھا اور اسے مکمل اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کا وژن دیا گیا تھا جس میں تمام طبقات کو تمام حقوق یکساں طور پر میسر ہوں، آج بھی اگر ملک میں اسلامی اصولوں کے مطابق اصلاحات لائی جائیں تو جہاں معاشرہ بہتری کی جانب جائے گا وہیں پر ملک بھی ترقی کرے گا. 

سجاد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے، قائد اعظمؒ کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ آج لوگ قیام پاکستان کے اس مقصد کو متنازع بنانا چاہتے ہیں۔ گذشتہ پچیس تیس سال سے اس ملک میں ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو ملک کی ان نظریاتی اساسوں کو زمین بوس کرنا چاہتا ہے۔

سجاد میر نے مزید کہا کہ لوگ قائد اعظمؒ کی 11 اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں اور اس سے اپنی مرضی کے معنی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ قائد کی 11 اگست کی تقریر اور میثاق مدینہ منورہ دونوں ایک ہی ہیں، اس لیے کہ جب نبی ﷺ نے میثاق مدینہ کیا تھا تو مدینہ کے یہودیوں سے کہا تھا کہ ہم ایک ہی امت ہیں۔ ایک ہی رب کے ماننے والے ہیں۔ بعینہ قائد نے بھی یہی کہا تھا کہ اس ملک میں اقلیتوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہو گا، بطور شہری اس ملک میں ہر ایک کے حقوق یکساں ہونگے، ہر ایک کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیار  ہو گا، قائد اعظم نے اپنی ساری زندگی میں جتنی تقاریر کی ہیں میں یہ بات چیلنج کے طور پر کہتا ہوں کہ کوئی ایک تقریر ایسی دکھا دیں جس میں انہوں نے سیکولرازم کا لفظ استعمال کیا ہو۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ دن ہمیں اپنی اس عہد کی تجدید کرواتا ہے جو عہد ہم نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، آج ہم چوہترواں یومِ آزادی منا رہے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے ہم نے یہ خطہ حاصل کیا تھا وہ مقصد ہم آج تک حاصل نہیں کر سکے، ہم نے اپنے آپ کو مختلف قسم کے تعصبات میں تقسیم کر لیا۔ ہم کہیں مہاجر کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں تو کہیں پنجابی، بلوچ اور پشتون کے نام سے ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے، اس ملک کو جوڑ کے رکھنے کی ضمانت صرف اور صرف اسلام ہے۔ کوئی ادارہ اس ملک کو جوڑ کے نہیں رکھ سکتا، کوئی دوسری قوت اس ملک کو متحد نہیں رکھ سکتی۔ اگر کوئی چیز اس ملک کو آپس میں جوڑ کر رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ اس لیے کہ اسی اسلام کے نام پر ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا۔ 

تقریب سے ریاض کی معروف سماجی شخصیت محمد نعمان صابر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ  اصغر سودائی روزانہ ایک قومی نظم لکھ کر لاتے اور جلسے میں موجود افراد کو سناتے تھے۔ ایک دن وہ ایک ایسی نظم لکھ کر لائے، جس کے ایک مصرعہ نے گویا مسلمانوں کے دلوں کے تار کو چھو لیا، آپ سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ یہ مصرع کیسے آپ کے ذہن میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ:” جب لوگ پوچھتے تھے کہ مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا ہے ؟؟؟“ تو میرے ذہن میں آیا کہ سب کو بتانا چاہیئے کہ”پاکستان کا مطلب کیا ہے؟؟؟“، یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے اور اسی لیے قائد اعظم نے کہا تھا کہ ”تحریکِ پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔“

تقریب سے مجلسِ پاکستان کے صدر رانا عبدالرؤف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں ترقی پسند سوچ کو اجاگر کرنے کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل تابناک بنایا جاسکے جو دنیا بھر کا مقابلہ باآسانی کرسکیں، اس موقع پر رانا عبدالرؤف نے تمام شرکائے محفل اور شرکائے زوم، صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس پروقار تقریب کی نظامت کے فرائض حافظ عبدالوحید نے بخوبی سرانجام دئیے جبکہ تقریب کے معاون رانا عمر فاروق تھے، قبل ازیں تلاوتِ کلام پاک سے تقریب کی ابتداء ضیغم عبدالوحید نے کی، ڈاکٹر سعید احمد وینس نے ہدیہء نعتؐ پیش کیا، تقریب کے اختتام پر شرکائے تقریب کے اعزاز میں ہرتکلف عشائیہ دیا گیا. 

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -