والدین کے وجود کی برکتیں اور ہمارے فرائض

والدین کے وجود کی برکتیں اور ہمارے فرائض
والدین کے وجود کی برکتیں اور ہمارے فرائض

  

تحریر:عمران محمود ای میل

والدین کا وجود ہمارے لیئے اللہ کی نعمت اورر حمت ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی سے ہمیں بے پناہ برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیئے ہر لمحہ دعا گو ہوتے ہیں اور ان کی کامیابیوںکو دیکھنے کے لیئے منتظر ہوتے ہیں۔بچوں کی خوشیوں

 پر خوش ہوتے ہیں اور ان کی پریشانیوں پر پریشان ہو جاتے ہیں اور اپنی دعاﺅں سے ان کو پریشانیوں سے نکال لیتے ہیں۔آج میں اپنی زندگی کے کچھ حالات وواقعات بیان کر تا ہوں جس سے ہم والدین کے وجود کی برکتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی زندگی کی CDکو rewindکر کے کچھ حصے چلاتا ہوں اور قارئین کے ساتھ shareکرتا ہوںکیونکہ جو حقیقی واقعات اور باتیں ہوتی ہیں وہی ہمارے دلوں پر اثر کرتی ہیں۔

متوسط خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے مالی حالات اتنے کشادہ نہیں تھے۔ بہتtough حالات بھی دیکھنے کو ملے۔والد صا حب کو سخت محنت کرتے دیکھا، امی کو بھی بہادر پایا اور گھر کونہایت کفایت شعاری کے ساتھ سنبھالتے دیکھا۔ اس لیئے میںمشکلات کو دیکھتا رہا، سیکھتا رہا اور حالات کا مقابلہ کرنا سیکھتا گیا۔

اللہ کا شکر ،ابو آرمی سے صوبیدار میجر (ریٹائرڈ )ہوئے اس لیئے مجھے آفس منیجمنٹ ، ڈرافٹنگ، ٹائپنگ اور آفس کے دیگر کاموں کے ساتھ پہلے ہی کافی حد تک آگاہی ہو گئی تھی جیسے صحیح خط و درخواست لکھنا، اچھے لفظوں کا استعمال کرنا، سادہ اور صحیح گرائمر کے مطابق جملے لکھنااورڈاکومنٹس کو properlyتیار کرنا۔اس سب نے مجھے ہمیشہ گائیڈ کیا اور آج تک مجھے نہ صرف آسانی ہو رہی ہے بلکہ دوسرے لوگوں کی نسبت امتیاز ی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ زندگی میں disciplineبھی سیکھا۔ یہ والد صاحب کے وجود کی برکت سے ممکن ہوا۔

میںنے ایف ایس سی (پر ی میڈیکل )کرنے کے بعد، گھر کے حالات کی وجہ سے جاب ڈھونڈنا شروع کی، معاشرے اوردنیا داری کی اتنی سمجھ نہیں تھے، میرے ابو میرے ساتھ ٹیسٹ کے لیئے گئے اور انٹرویو کے وقت بھی ساتھ ہی، ان کے وجود کی برکت سے پہلے applyپر ہی میر ی تعلیم کے مطابق جاب مل گئی تھی۔اسی طرح دوسری جاب ملی، تیسری اور چوتھی جاب کے ٹیسٹ انٹرویو میں بھی ابو ساتھ تھے، وہ بھی جاب ملی۔ایم بی اے بھی کر لیا، بعد میں ایک اور اچھی جاب بھی ملی جو جاری ہے۔ زمانے کا مقابلہ کرنے کی غرض سے میں نے مختلف اہم مہارتوں میںproficiencyحاصل کی جیسے ڈرافٹنگ، آفس منیجمنٹ ، ایم ایس آفس، میڈیم لیول ڈیٹا بیس، ڈیزائننگ، انگلش و اردو کمپوزنگ، ایونٹ منیجمنٹ، ایڈیٹنگ و پروف ریڈنگ اور بزنس فلو چارٹ وغیرہ سیکھے۔ان کی بدولت ہر جگہ کاموں کی انجام دہی میں آسانی ہوتی ہے۔تجربہ بھی حاصل کر لیا،ٹریننگز بھی کر لیں،ٹیکنالوجی میں بھی مہارت حاصل کر لی، اور بلاشبہ یہ ان کے وجودہی کی برکت سے ممکن ہوا ، اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ لیکن ابو کے manual،دیسی حساب کتاب اور تجربات کے آگے میری سب ٹیکنالوجی، تجربہ اور تعلیم وغیرہ صِفررہی ہے۔

پھر جب میر ی ڈیوٹی شروع ہوئی تو اس کے دوران ٹائم پر اُٹھنا، ٹائم پردفتر جانا، ٹائم پر ناشتہ ملنا اور ڈیوٹی میں punctuality،اس سب کا سہرا میری امی کے سر جاتا ہے۔ جنہوں نے یہ سب manageکیا اورسخت گرمی و سردی میں بہت صبح کے وقت جاگ کر پہلے سے ناشتہ تیار کرتیں اورپھر مجھے جگاتیں۔ ان کے وجود کی برکت سے میری زندگی میں punctualityآئی۔

مجھے یاد ہے ایف ایس سی تک امی ہی ہمارے لیئے کپڑے اور جوتے وغیرہ لینے ساتھ جاتیں تھیں۔ کبھی کبھی تو مجھے شرم بھی محسوس ہوتی تھی کہ باقی لڑکے خود جاکر خریداری کرتے ہیں اور ہم امی کے ساتھ جاتے ہیں اور وہ بھی اپنی مرضی اور اپنے بجٹ کے مطابق خریدتی ہیں۔ لیکن اس نے مجھے یہ سکھایا کہ بزرگوں کی چوائس بہترین اور decent ہوتی ہے ان کا تجربہ ہوتا ہے اور برکت بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ کفایت شعاری سے بچی رقم گھر کے دیگر کاموں کے لیئے utilizeکی جاتی ہے۔ اس سے مجھے ایک دوسرا پہلو بھی سمجھ آیا کہ سربراہ کی ذمہ داریاںہوتی ہیں اور برابری کرناہوتا ہے۔ آج ہم بڑے ہو گئے ہیں۔ اپنی مرضی سے خریداری کرتے ہیں۔ والدین بھی ماشاءاللہ موجود ہیں۔ لیکن میں اکثر وہ خوبصورت وقت یاد کر کے اداس ہو جاتا ہوں۔ 

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب بھی صبح تیز بارش ہوتی یا بارش کافی وقت جاری رہتی ہے اور ہمارے دفتر جانے کا وقت قریب ہو تو امی ہندکو زبان میں دعا کرتی ہیں کہ ©"اللہ جی، سو ہنیا ہُن تے بس کر دے بچے کما ں تے جانااے"۔ والدین کا ڈائریکٹ رابطہ اللہ سے ہوتا ہے اسی لیئے تو اپنے بچوں کے لیئے بلا خوف اللہ سے ہر قسم کی بات کر لیتے ہیں۔ 

ہم سب بھائیوں کو والدین کی طرف سے سخت warningبھی تھی کہ رات 9بجے کے بعد دروازہ بند کر دیا جائے گا، نہیں کھلے گا۔ اس سے ہم سب بھائیوں کی زندگی کی ایک routineبنی۔ اور شریعت کے احکامات بھی سمجھ آئے کہ رات اللہ نے سونے اور آرام کے لیئے بنائی ہے۔ اور سب سے محفوظ جگہ گھر ہے۔ اسی طرح صبح جلدی جاگنے کی بھی تربیت ہوئی۔

والدین کی برکت سے ہم سب بہن بھائیوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر لی۔ کیونکہ ہمارے والد صاحب نے اس وقت 50-60کی دہائی میںمیٹرک میں فرسٹ divisionلے کر سکول میں پہلی پوزیشن حا صل کی تھی۔ اور آرمی میں بھرتی ہوئے ۔ مالی حالات میں مشکلات کی وجہ سے کیسے انہوں نے بمشکل میٹرک کی ، یہ ایک الگ دُکھی کہانی ہے۔

اس طرح مجھے یاد ہے کہ جب شادی کے 4-5سال گزر جانے کے بعد بھی میری اولاد نہیں ہو رہی تھی اور میں بہت مایوس ہو چکا تھا، دعا تک چھوڑ دی تھی۔ تومیری امی بتاتی ہیں کہ اس دوران تمہارے ابو رو رو کر دعا کرتے تھے کہ یا اللہ "میرا یہ بچہ سیدھا سادا ہے کسی کے اچھے برے میں نہیں ، صاف دل ہے" اس کو اولاد عطا کر۔ اسی طرح والدہ بھی بہت دعائیں کرتی رہیں۔ ان کی دعاﺅں سے اب ماشاءاللہ میرے دو خوبصورت صحت مند بیٹے ہیں۔یہ والدین ہی کی برکت سے ہے۔

پھر قدم قدم پر والدین کی رہنمائی،جیسے ٹیسٹ و انٹرویو کے لیئے جاتے ہوئے پوچھنا کہ کاغذ پورے ہیں، شناختی کارڈ ساتھ لے لیا۔ اسی طرح ڈاکٹر کے پاس جاتے وقت پوچھنا کہ سارے پرانے ڈاکومنٹس اور رپورٹس وغیرہ ساتھ ہیں یا نہیں۔دفتر سے لیٹ واپسی ہو تو کالز کر کے پوچھنا، اور مشورے دینا کے دھیا ن سے اور خیال سے آنا، ہسپتالوں میں پوچھنا کہ تمام رسیدیں اور ڈاکومنٹس لے لیئے۔ ابھی حالیہ کرونا کے دنوں میں،میں اپنے اور ابو کے چیک اپ کے لیئے جاتے وقت ماسک لگانا بھول گیا، ابو نے کہا ماسک پہن لو ہسپتال میں تو پہننا ضروری ہے۔میر ی غفلت تھی لیکن ابو کے بتانے پر احساس ہوا۔ ایسی ہی بے شماراور ان گنت رہنمائیاں اور برکتیں کہ میں دہنگ رہ جاتا ہوںکہ کیسے ہر چیز پر نظر اور guidance، واقعی یہ والدین ہی کا کام ہے۔ بعض لوگ یہ محسو س کر سکتے ہیں کہ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، لیکن میری نظر میں دراصل یہی سب کچھ ہے اور یہ زندگی گزارنے کا پورا نصاب اور کوڈ ہے، برکتیں ہیں۔ زندگی میں کو ئی بھی ایسا بندہ نہیں دیکھا اور سُنا جو والدین کی دعاﺅںاور رہنما ئی کے بغیر کامیابی کا دعویٰ کرتا ہو۔

جیسا کہ ہمارے والدین ہمارے لیئے باعثِ برکت اور رحمت ہیںاس لیئے اب ہمارا بھی فرض ہے کہ والدین کا بے حد خیال رکھیں۔ ان کہ کہنے سے پہلے ہر چیز اور سہولت ان کو میسر کریں۔ان کی خدمت کریں۔ کیونکہ ان ہی کی بدولت ہماری جنت اور جہنم ہے۔ درج ذیل چند قرآنی آیات واحادیث کے مفہوم اور بزرگان ِ دین کے اقوال سے والدین کی importanceکو سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں۔

قرآن پاک کی روشنی میں:

۱۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، "اور والدین کے ساتھ بھلا ئی کرو"۔

۲۔ جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کے سامنے اُف تک نہ کہو ۔

احادیث نبویﷺ کی روشنی میں:

۱۔ میرے نبی نے فرمایا کہ اللہ کی رضا، والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ، والد کی نا راضگی میں ہے ۔

۲۔  سب سے زیادہ قبول ہو نے والی اور با اثر دعا باپ کی ہے، اور بد دعا بھی با پ کی ہے۔

۳۔ باپ جنت کے دروازو ں میں سے ایک دروازہ ہے۔

۴۔ حضور پاک خاتم النبین ﷺ نے فرمایا، کاش میری ما ں زندہ ہو تی اور میں عشا ءکی فرض نماز ادا کر رہا ہوتااور سورہ فاتحہ پڑھ رہا ہوتا، اور میری ما ں مجھے آواز دیتی محمد، تو میں نماز توڑ کر کہتا ما ں جی میں حاضر ہو ں۔ 

۵۔ جنت ما ں کے قدموں تلے ہے۔

بزرگانِ دین کے اقوال:

۱۔ حسن بصری ؒ نے فرمایا ماں باپ کی صورت میں میرے لیئے جنت کے دو دروازے کھلے تھے، جب ماں فوت ہوئی تو ایک جنت کا دروازہ بند ہو گیا۔

۲۔ واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں وہ انسان روح کے ویرانے سے نکل نہیں سکتا، جس نے ماں باپ کا ادب نہ کیا اور جس کو اولاد سے پیار نہ ہو۔ 

ان سب خوبصورت احکاماتِ باری تعالیٰ واحادیث نبوی اوربزرگان ِدین کی پیاری باتوں کے deepمطالعہ سے ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ والدین کا ادب، خدمت اور ان کا خیال رکھنافرض ہے۔ان کی ناراضگی سے بچنا ہے۔وہ ہمارے لیے رحمت اور برکت ہیں۔اس جملے کواس لیئے بار بار repeatکر رہا ہوں تاکہ ہمیں یہ بات ذہن نشین ہو جائے۔ والدین کے سامنے جھکنے ہی میں دنیا و آخرت کی کامیابیاں پو شیدہ ہیں۔ اور اُن کی بے ادبی کرنے سے دنیا وآخرت کی ناکامیاں ہیں۔آئیے ہم سب عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ کی عزت کریں گے، ان کا خیال رکھیں گے اور ان کی خدمت کریں گے، اس میں ہمارا اپنا ہی فائد ہ ہے۔اس سے اللہ اور اس کا رسول ﷺ بھی ہم سے راضی اور خوش رہیں گے۔ اور دنیا بھی ہماری مثالیں دے گی۔ انشاءاللہ۔اور جن لوگوں کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں دنیا سے پردہ فرما گئے ان کے لیئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی قبر کو جنت کے باغو ں میں سے ایک با غ کرے۔ آمین۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -