سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں

سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں
سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں

  

آنکھ کورات بھر جگایا ہے

تب کوئی خواب جھلملایا ہے

سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں

میں نے کاغذ پہ دِل بنایا ہے

رنج تصویر کر گئے مجھ کو

تُو نے دیوار سے لگایا ہے

میں تو حیران ہوں کہ اشکوں کا

رَب نے کیا ذائقہ بنایا ہے

آکے سر پر مِرے سوار ہوا

اس کو آنکھوں پہ کیا بٹھایا ہے

شاعر:راول حسین

مزید :

شاعری -رومانوی شاعری -