54دن، 11کلوگرام وزن اور 22لاکھ بھارتی روپے ہسپتال کا بل، کورونا کی مریضہ اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے ساتھ یادداشت بھی کھو بیٹھی

54دن، 11کلوگرام وزن اور 22لاکھ بھارتی روپے ہسپتال کا بل، کورونا کی مریضہ اتنی ...
54دن، 11کلوگرام وزن اور 22لاکھ بھارتی روپے ہسپتال کا بل، کورونا کی مریضہ اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے ساتھ یادداشت بھی کھو بیٹھی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) 54دن، 11کلوگرام وزن اور 22لاکھ بھارتی روپے ہسپتال کا بل۔ یہ وہ قیمت تھی جو کورونا وائرس کی ایک بھارتی مریضہ نے چکائی اور اس سے بڑھ کر اس کی یادداشت کا کھو جانا اس موذی وباءکی سب سے بڑی قیمت تھی جو اسے چکانی پڑی۔ اس 50سالہ خاتون کا نام مہناز بیگ ہے جو کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر ممبئی کے علاقے جوہو کے نیناوتی ہسپتال میں 54دن تک زندگی اور موت کی جنگ لڑتی رہی اور بالآخر ڈاکٹر اس کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

مہناز بیگ کا شوہر فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چلاتا ہے۔ کورونا وائرس سے پہلے مہناز کا وزن 84کلوگرام تھا جو اب 73کلوگرام رہ گیا تھا۔ ہسپتال نے مہناز کے صحت مند ہونے کے بعد ان کا تمام 22لاکھ بھارتی روپے (تقریباً49لاکھ 37ہزار پاکستانی روپے) بل معاف کر دیا تاہم مہناز کی یادداشت جاتی رہی۔ ہسپتال میں گزارے گئے دنوں میں اسے چند باتیں ہی یاد رہیں۔ 

مہناز بیگ کا کہنا ہے کہ ”مجھے پہلی جو بات یاد ہے وہ یہ ہے کہ مجھے 11جون کے روز ایمرجنسی میں ہسپتال لیجایا گیا تھا۔ اس کے بعد مجھے جو بات یاد ہے وہ یہ ہے کہ ایک روز مجھے نرس نے بتایا تھا کہ ’آج 8جولائی ہے۔‘ جب میں کئی ہفتوں بعد ہوش میں آئی تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں 24گھنٹے تک سونے کے بعد بیدار ہوئی ہوں لیکن جب مجھے بتایا گیا کہ اتنے ہفتے گزر چکے ہیں تو مجھے شدید جھٹکا لگا۔ “واضح رہے کہ کورونا وائرس کے مریض اوسطاً15سے 21دن تک ہسپتال میں داخل رہتے ہیں لیکن مہناز بیگ کی طرح بے شمار کیس ایسے بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں مریض50دن سے زائد عرصے کے لیے ہسپتال میں داخل رہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -