دو سال میں ملک کی سمت تبدیل کی ، اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا:وزیراعظم

دو سال میں ملک کی سمت تبدیل کی ، اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے ...
دو سال میں ملک کی سمت تبدیل کی ، اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا:وزیراعظم

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح کے ہمارے ملک کے حالات تھے ،اسے ٹھیک کرنے کے لیے چا ر پانچ سال لگتے ہیں ۔نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری ساری زندگی جدو جہد میں گزری پہلے کرکٹ اور ہسپتال کے لیے جدو جہد کی پھر سیاسی زندگی میں بڑی جدو جہد کی لیکن سب سے زیادہ جدو جہد وزیراعظم بن کر پہلے دو سالو ں میں کی ۔ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم بنا تو معیشت اور اداروں کا برا حال تھا جس کی وجہ سے صورتحال بہت زیادہ چیلنجنگ تھی ،ان دو سالوں میں ملک کی سمت تبدیل کر کے رخ اس طرف موڑ دیا جو پاکستان بنانے والوں کا خواب تھا ،اسلامی فلاحی ریاست اور مدینہ کی ریاست کی طرف ملک بڑھ رہا ۔عمران خان نے کہا کہ اس ملک کو اشرافیہ کے چھوٹے سے طبقے نے یرغمال بنا یا ہوا ہے،اگر انہیں نیب بلائے تو لوگ ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں ،اگر عدالت فیصلہ دے تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا،پہلی دفعہ اس طبقے کا احتساب ہو رہا ہے اس لیے شور مچا یا جا رہا ہے کہ ملک تباہ ہو گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا۔ اسرائیل کے بارے ہمارا موقف بڑا کلیئر ہے۔ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر ہم اسرائیل کوتسلیم کر لیں گے تو پھر کشمیر بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطین بارے ہم نے اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔سعودی عرب کیساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار مسلم دنیا کو تقسیم نہیں اکٹھا کرنا ہے۔ سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔

پاکستان کے دیرینہ دوست چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ واضح ہو جانا چاہیے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چین نے ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ چین کو بھی پاکستان کی بڑی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک بھارت کو چین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چینی صدر نے رواں سال مئی میں پاکستان آنا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے دورہ تاخیر کا شکار ہوا۔ آئندہ سردیوں میں چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان متوقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انرجی کے مسائل کا سوچ کر سونا مشکل ہے۔ صرف بجلی کی ڈسٹریبیوشن، چوری اور لائن لاسز کم کرنا مسئلے کا حل نہیں، جب تک بجلی کی پیداواری قیمت نیچے نہیں لائی جائے گی، مسئلہ مکمل حل نہیں ہوگا۔ ہم ایسے معاہدوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے تحت بجلی لیں یا نہیں پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ہم عذاب میں پھنسے ہوئے ہیں، بجلی کی قیمت نہ بڑھے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، حکومت بجلی کی قیمت بڑھائے تو عوام پس جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل صنعت سے وابستہ ہے، جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پچھلے سال 2 ہزار ارب قرضوں کی قسط میں ادا کیے، اس سال 2 ہزار 700 ارب کرنے ہیں۔ جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے یہ قرضوں کی ادائیگی بڑھتی ہی جائے گی۔ ہم اب حکومت کے پاور پلانٹس میں بننے والی بجلی کی قیمتوں کو بھی نیچے لائیں گے۔ حکومتی پاور پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے سے متعلق منصوبہ لا رہے ہیں۔ حکومت ایک وسیع اور جامع پاور پالیسی لے کر آ رہی ہے۔ پاور پالیسی تقریباً تیار ہے، ایک یا دو ہفتے میں عوام کے سامنے لے کر آئیں گے۔

پائلٹس کے جعلی لائسنس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں 260 پائلٹ کے مشکوک لائسنس کا پتا چلا۔ پچھلے دس سالوں میں پائلٹس کی غلطیوں کی وجہ سے چار حادثات ہوئے۔ تاہم پائلٹس کا معاملہ جیسے پیش کیا گیا اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ میں نے سمجھایا تھا کہ میڈیا میں جب پیش کریں تو بہتر طریقے سے پیش کریں۔ جعلی لائسنس کا معاملہ جیسے پیش کیا ہماری غلطی تھی۔ انکوائری رپورٹ جو سامنے آئی بڑی خوفناک تھی۔ ایوی ایشن کا اسٹرکچر ہی غلط تھا۔ سول ایوی ایشن ریگولیٹر ہے اسےعلیحدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے چیزوں میں تاخیر ہوئی۔ ادارے کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا ٹھیک کرنے میں لگتا ہے۔ پی آئی اے میں غلط بھرتیاں کرکے سٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں کسی مافیا کا حصہ نہیں ہوں۔ نئے پاکستان کا مقصد کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والوں کو پکڑنا ہے۔ میری زندگی کا مشن مافیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ لوگ پکڑے جائیں تو بلیک میل کرتے ہیں، عدالتوں میں جاتے ہیں۔ مافیا متحد ہو کر دباؤ ڈالتا ہے۔ کمیشن رپورٹ پر شوگر ملز ایسوسی ایشن حکم امتناع لے آئی۔

ہر قائد کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کو دیکھتا ہوں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ 80ء کی دہائی میں لسانیت کی سیاست نہ ہوتی تو کراچی بہت ترقی کرتا۔ متحدہ بانی کے گن کلچر نے کراچی میں بہت تباہی مچائی۔ کراچی کے نقصان سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔ کراچی کا مسئلہ لوکل گورنمنٹ سسٹم نہ ہونا ہے۔ کراچی کے لوکل سسٹم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہمارا کیس چل رہا ہے۔ کراچی کا میٹروپولیٹن سسٹم ہونا چاہیے۔ کراچی کے بہت برے حالات ہیں۔ کراچی کے حوالے سے ہم فیصلے کرنے والے ہیں، حالات اب بہتر ہونگے۔ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، ملک میں پہلے خاندانی پارٹیاں تھیں، ہم تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنے میں لگے گا، تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی۔ کئی چیزیں جلدی کچھ چیزوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ پہلا سال بہت ہی مشکل سال تھا، مشکل وقت سے نکل گئے، اسی سال فرق نظر آئے گا۔ معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مشکل وقت نکل چکا ہے، آنے والا وقت میں بہتر ہی بہتر ہوتا جائے گا۔ بہتری نظر آئے گی، جو 1960ء والا پاکستان ترقی کر رہا تھا، اس طرح ترقی نظر آئے گی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -