تقسیم ہند کی 585ریاستیں اور قائد اعظم کیلئے ” دعا “

تقسیم ہند کی 585ریاستیں اور قائد اعظم کیلئے ” دعا “
تقسیم ہند کی 585ریاستیں اور قائد اعظم کیلئے ” دعا “

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 18 

کیونکہ ان کا تعلق ہندوستان کی ایک ریاست سے تھا اور تقسیم ہند سے قبل تقریباً 585ریاستیں موجود تھیں اور زندگی کے معمولات مختلف تھے۔ کسی ریاست میں بہارآزادی تھی، کسی ریاست میں جبروتشدد تھا۔ بہادر یار جنگ کی علم وعمل نگاہ نے ریاستوںپرنظر ڈالی اور ان کو اپنے ذہن پر گامزن کرنے کی ٹھان لی۔ لہٰذا انہوں نے آل انڈیا مسلم ریاستوں کی میٹنگ الہ آباد میں 5اپریل1942ءکو طلب کی اور ان کے سامنے دوقومی نظریہ کی شناسائی پیش کی اور آرزو رکھی کہ وہ بیدارہوں اور مسلم قومیت یا ملّت اسلامیہ پر احسان کر کے تمام ریاستیں محسنین بن کر قدم اٹھائیں تاکہ مسلمانوں پر آفتاب ولایت کی روشنی رشد و ہدایت کے چراغ روشن ہو جائیں۔ یہ بہادریار جنگ کی عظیم نگاہوں کی تاثیر تھی کہ مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا ان کو ماضی کے مسلمانوں کے لازوال اقتدار سے آشنا کرنا، ان کے فکر و نظر کے نقوش میں تبدیلی لانا تاکہ وہ اپنی قوت بصیرت رہنمائی محمد علی جناحؒ کی فراست سے حاصل کریں اور ملّت اسلامیہ کی زندگی میں ایک نئے باب پر نظر عنایت کریں تاکہ مسلمانوں میں اصلاح کاپہلو شامل ہوجائے اور وہ ایک اُمت، قوم کی طرح اپنے حقوق کی خاطر اپنے آپ کو تیار کریں۔ اس سے قبل آپ نے ورکنگ کمیٹی آل انڈیا ریاست ہائے مسلم لیگ نیودہلی میں23فروری1941ءکو میٹنگ طلب کی تھی اور اس میں نوابوں کو گلزار صدا بہار محبت اسلامیان کے حسن و یگانگت کی راہ دکھائی اور کہا کہ گوشہ خاموشی سے باہر نکلیں اور مسلم لیگ کے علمبردار بن جائیں اور صدق دل سے مسلمانوں کے مستقبل کو ایک روشن مینار بنانے میں لگ جائیں۔ 

 چونکہ جو سیشن آل انڈیا سٹیٹ مسلم لیگ نیودہلی26اپریل1943ءکو ہوا اور پھر آل انڈیا سیشن مسلم لیگ لاہور23مارچ1940ءمیں خطاب کیا۔ آپ نے رہنمائی حاصل کرنے کا ٹارگٹ محمد علی جناحؒ کو بنایا اور تمام لوگوں کو ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی تلقین کی۔ وہ دوقومی نظریہ کی خاطر کشمیر کے مسلمانوں کو بھی اُجاگر کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے اُردو کی خاطر مجاہدانہ للکار کے ساتھ ہندو مسلم کلچر پر روشنی ڈالی۔ وہ ریاست جموں کشمیر گئے۔ کشمیر کے اندر ان کی تقریر سے حیرت انگیز آزادی کا احساس محسوس ہونے لگا۔وہ مسلمانوں کو آزادی کی راہ دکھانے لگے۔ مہاراجہ کشمیر نے26اگست1943ءکو ان کو کشمیر سے نکلنے کا حکم دیا اور پھر واپسی پر انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس اگست 1943ءمیں کی۔ خاکسار تحریک سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ علامہ مشرقی کو بھی اپیل کی کہ وہ بھی مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں۔نواب بہادر یار جنگ جوشیلے مجاہد تھے،قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی سے بے حد متاثر تھے اور وہ قائداعظم کی اطاعت بڑے اُنس سے کرتے تھے۔ ان کا خلوص قائداعظم محمد علی جناحؒ کے لیے اتنا تھا کہ ان کے مقابلے میں کسی دوسرے انسان کو مثال کے طور پر بھی ان کے برابر نہ سمجھتے تھے۔ بہادر یار جنگ کا ایمان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت میں اتنا پختہ ہو گیاکہ محمد علی جناحؒ عمل و بصیرت کا ایک نیک نمونہ ہیں اور اس بات پر بھی ان کا ایمان تھاکہ حضرت علامہ اقبالؒ نے بھی ان ہی کو مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے چنا ۔ سرآغا خان نے بھی مسلمانوں کی قیادت کے لیے انگلی سے ان کی طرف اشارہ کیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے بھی قیادت مسلمین اور آزادی مسلمین کی رہنمائی کے لیے محمد علی جناحؒ کا ہی انتخاب کیا۔یہ سب لوگ چاہتے تھے کہ مسلمان آزاد،خود مختار ہوں اور نسل انسانیت کی خدمت کرنے کے مواقع حاصل کریں اور مسلمان ایک کنبہ کی حیثیت اختیار کر کے سامنے آئیں۔ یہ جذبات اور احساسات کی دنیا ایک عجیب سرمایہ ہوتی ہے اور یہ اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں سے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک تقریر میں بہادر یار جنگ نے جوش میں آ کر کہا ”اے خدا اگرمحمد علی جناحؒکی عمر کم ہے تو میری عمر ان کو لگ جائے تاکہ وہ مسلمانوں کو ایک آزاد وطن دلاسکیں۔“ان کی یہ دعا اور الفاظ اتنے بااثر تھے کہ جس میں مسلمانوں کے ساتھ ہمدردری غمگساری کے جذبے سرشار تھے ۔ لہٰذا یہ دُعا ان کی قبول ہوگی۔ان کا حق ادا ہوگیا۔ان کو انعامات والی زندگی عطا ہوگی اوروہ 27جون 1944ءکو کم عمر جوانی میں اچانک اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ ان کا قول و فعل یکجا ہو گیا۔یہ دُعا اسی طرح منظور ہوئی جس طرح ظہیر الدین بابر نے اپنے بیٹے شہزادے ہمایوں کےلئے چارپائی کے گرد گھومتے چکر لگاتے ہوئے دُعا کی تھی۔

 نواب بہادر یار جنگ عرض پاک کو نہ دیکھ سکے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ان کی وفات پر بڑا افسوس کیا اور آل انڈیامسلم لیگ نے بھی ان کی وفات پر عقیدت کے پھول بکھیرے۔

 نواب بہادر یار جنگ کی بات حرف آخر ہوتی تھی۔ سچ بات کہنا ان کا معمول تھا۔ ان کو معلوم تھا کہ عمر فانی ہے۔ہر شے نے فنا ہو نا ہے اور حکمرانی صرف اللہ کی ہے۔ وہ نظام حیدر آباد دکن کے مفاد عزوشرف رکھنے میں بھی وہ پیچھے نہ تھے۔ان کا ماحول عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سودا تھا۔ وہ کامل ان کو ہی گردانتے مگر ڈھارس اوران کی دانائی کےلئے محمدعلی جناحؒ کو مسلمانوں کی آزادی کا راستہ تلاش کرنے والا سمجھتے تھے۔ بہادر یار جنگ یعنی بہادر دوست اور انہوں نے اپنے نام کی لاج رکھی اور بڑی بہادری سے نشیب و فراز کا سامنا کیا اور اپنی تقریروں،کیفیتوںکی عبارت سے مسلم لیگ کا پیغام جگہ جگہ پہنچایا اور غم انگیز سے مسلمانوںکو اپنی کھوئی ہوئی زیب و زینت سے آشناکیا اور بہادری سے زندگی کو اپنایا۔ استحصالی قوتوںکے خلاف علم بلند کیا اور موت کو اپنے گلے لگایا۔ موت کی خواہش کو پورا کیا۔ انہوں نے جنگ بھی لڑی۔ اس جنگ میں منفی عنصر کی جھلک نہ تھی۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -