میں صرف یہ چاہتا تھا کہ اپنی زندگی کے متعلق فیصلے خود کر سکوں اور میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا 

میں صرف یہ چاہتا تھا کہ اپنی زندگی کے متعلق فیصلے خود کر سکوں اور میں ایسا ...
میں صرف یہ چاہتا تھا کہ اپنی زندگی کے متعلق فیصلے خود کر سکوں اور میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا 

  

مترجم:علی عباس

قسط: 49

 کیا اس کی وجہ سے میرے اور باپ کے مابین تعلقات خراب ہو گئے تھے؟ مجھے علم نہیں ہے کہ اگر اُس کے دل میں ایسا کوئی جذبہ اُبھرا تھا لیکن میری طرف یقیناً ایسا نہیں تھا۔ میں آگاہ تھا کہ یہ ایک قدم تھا جسے مجھے بہرصورت اُٹھانا تھا کیونکہ اُس وقت میں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ میرے لئے کام نہیں کر رہا بلکہ میں اُس کےلئے کام کر رہا تھا اور تخلیقی سطح پر ہم دونوں کی سوچ مختلف تھی۔ وہ اُن خیالات کے ساتھ آتا جن سے میں اتفاق نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ میرے لئے درست نہیں ہوتے تھے۔ میں صرف یہ چاہتا تھا کہ اپنی زندگی کے متعلق فیصلے خود کر سکوں اور میں کامیاب رہا تھا۔ مجھے ایسا کرنا پڑا تھا۔ جلد یا بدیر ہر ایک کو اس نکتے پر آنا ہوتاہے اور میں اس شعبے میں طویل عرصہ سے موجود تھا۔ میں 21برس کی عمر میں خاصا تجربہ حاصل کر چکا تھا۔۔۔ ایک 15 سال کا آزمودہ کار تھا۔

ہم اپنی البم Destiny کو لے کر متجسس تھے اور اس کا مرکزی خیال تشکیل پا رہا تھا لیکن میرا بہت سارے شوز اور گلوکاری کرکے گلا خراب ہو گیا تھا۔ جب ہم نے کچھ شوز منسوخ کر دیئے تو کسی نے میری مخالفت نہیں کی تھی۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ جیسے میں نے اپنے بھائیوں کو روک دیا تھا۔ قبل ازیں انہوں نے زبردست کام کیا تھا، ہم نے اپنی منزل تک پہنچنے کےلئے ملکر کام کیا تھا۔ ہم نے کچھ عارضی انتظامات کئے تھے تاکہ میرے حلق کی درد کو کچھ سکون مل سکے۔ مارلن نے مجھ سے کچھ طویل سُر والے گیت لے لئے تھے۔ "Shake your body" (Down to the Ground) البم میں شامل ہمارا دلچسپ گیت تھا جو سٹیج پر ہماری بقا ءکی وجہ بنا کیونکہ ہم نے پہلے ہی اسے سٹوڈیو میں بناتے ہوئے خاصی تیاری کی تھی۔ یہ مایوس کُن تھا جب بالآخر ہمیں یہ اداراک ہوا کہ ہماری موسیقی کو نمائشی چیز کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، نہ کہ گیت کے نئے پن کی وجہ سے اور ہم اپنا شاہکار پیش نہیں کر سکے تھے۔

جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے ادراک ہوتا ہے کہ میں اُس سے زیادہ متحمل مزاج تھا جتنا میرے بھائی مجھ سے چاہتے تھے۔ جب ہم Destinyکی ری مکسنگ کر رہے تھے تو مجھے احساس ہوا کہ ہم کچھ چیزیں ’ ’پیچھے“ چھوڑ آئے تھے اور میں نے اس بارے میں اپنے بھائیوں کو نہیں بتایا تھا کیونکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ ان میں میری طرح ہی دلچسپی لیں گے۔ ایپک نے معاہدے میں شق رکھی تھی کہ وہ سولو البم بنا سکتے تھے،یہ امکان تھا کہ میں اسے کر سکتا تھا۔ شاید وہ ممکنہ نقصان سے بچنے کےلئے حفاظتی تدابیر کر رہے تھے۔ اگر جیکسنز اپنی نئی موسیقی ترتیب نہ دے پاتے تو وہ مجھ سے کچھ ایسا کرانے کی کوشش کرسکتے تھے کہ میری زندگی اُن کے مقاصد کی تکمیل کےلئے معاون ثابت ہو سکے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سوچنے کا ایک پُراسرار طریقہ دکھائی دیتا ہو لیکن میں تجربے کے باعث آگاہ تھا کہ کاروباری لوگ ہمیشہ یہ جاننے کی جستجو میں رہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو سکتا ہے اور وہ اپنی سرمایہ کاری کو کیسے پورا کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کےلئے اس طرح سوچنا منطقی ہو۔ میں اُس وقت تک اپنی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اپنے فہم پر حیران تھا لیکن اُس سمے یہ حقیقی تھا۔ )جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -