خوبصورت زبان اور جدید ادب 

 خوبصورت زبان اور جدید ادب 
 خوبصورت زبان اور جدید ادب 

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 48

 مزین زبان سے ارسطو کی مراد زبان کا آہنگ اور ترنم ہے یعنی بات کو شعر میں ادا کرنا اور حظ بخش صورتوں سے مراد موسیقی ہے۔ ڈرامہ میں زبان کے حظ بخش پہلوﺅں کو اس طرح مختلف حصوں میں پیش کیا جاتا ہے کہ کسی حصے میں صرف شعر سے کام لیا جاتا ہے اور کسی حصے میں موسیقی سے۔

 ارسطو کے وقت تک جس قدر ادب موجود تھا تمام تر شعری ادب تھا۔ طربیہ، حزنیہ اور حماسہ وغیرہ تمام اصنافِ ادب درحقیقت اصنافِ شاعری تھے۔ تمام ڈرامے شعر میں لکھے جاتے تھے۔ آج بھی کچھ شاعر ڈرامہ شعر میں لکھتے ہیں۔ لیکن کلاسیکی ادب میں ڈرامہ لازمی طور پر نظم کیا جاتا تھا۔ چنانچہ ہم بخوبی واقف ہیں کہ شیکسپیئر کے تمام ڈرامہ نظم معرا میں ہیں۔ارسطو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ڈرامہ کے لیے نظم کے بجائے نثر کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے یا کیا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ ارسطو کا طریقہ کار بھی فن پر خارج سے تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے داخل سے اس کے فنی اصول دریافت کرنا تھا۔ اس وجہ سے بھی اسے ڈرامے کو نثری صورت میں تصور کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔

 اگرچہ ڈرامہ صدیوں تک نظم میں لکھا جاتا رہا اور اس میں وہ تمام حظ بخش لوازم موجود رہے جن کا ذکر ارسطو نے کیا اور جو یونانی ڈراموں میں پائے جاتے تھے تاہم عصرِ حاضر کا کوئی نقاد یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ڈرامہ لازمی طور پر نظم میں لکھا جانا چاہیے نہ ہی آج کل اس بات کی طرف ذرا بھی وزن دیا جاتا ہے کہ ڈرامے میں موسیقی لازمی طور پر ہو۔ بے شک ارسطو نے بھی کمالِ بصیرت سے کام لیتے ہوئے، شعر اور موسیقی کو ڈرامے کے لیے ناگزیر قرار نہیں دیا۔

 موجودہ ادب نے جس طرح اور بہت سی قدیم ادبی قدریں ترک کر دی ہیں اور پے درپے بغاوت کرکے بہت سے متحجر اور جامد کلاسیکی اصول و قواعد سے نجات حاصل کر لی ہے اسی طرح ڈرامے کے سلسلے میں بھی اجتہاد سے کام لیا ہے۔ جدید ادب ہر لحاظ سے زندگی کے ساتھ گہرا رشتہ استوار کرنے کی کوشش میں ہے اور ادب میں بے جان تصنع کو پسند نہیں کرتا۔ جو ادب نظم میں بھی قافیہ اور ردیف وغیرہ سے نجات حاصل کرنے کی سعی کر رہا ہے، اس سے یہ توقع رکھنا کہ ڈرامہ کے لیے نظم کی صورت کو لازمی قرار دے، بے معنی ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں کوئی مخالف بھی نہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم اپنی معاشرتی اور مجلسی زندگی میں نثر استعمال کرتے ہیں اور کبھی نظم میں گفتگو نہیں کرتے۔ اس لیے ڈرامہ میں حکایات کا نظم میں ہونا غایت درجہ تصنع معلوم ہوتا ہے تا وقتیکہ اس کا کوئی فنی جواز موجود ہو۔ موجودہ ڈراموں میں موسیقی کا ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ موسیقی کو خارج کر دینے کی طرف رجحان ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ ارسطو کا ان حالات کے پیش نظر مزین زبان اور زبان کے حظ بخش پہلوﺅں کے سلسلے میں کیا مؤقف ہو سکتا ہے۔ ایک واضح اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ بہت سے بعد میں آنے والے نقادوں کے برعکس ارسطو نے ادب کا مقصد حظ اور مسرت نہیں بتایا بلکہ اسے ایک فلسفیانہ عمل کہہ کر اس کا رشتہ انسانی فطرت کی گہری حقیقتوں سے جوڑ دیا ہے(جو بجائے خود بیشک درست ہے)۔ تاہم اس نے زبان و بیان کی حظ بخش صورتوں کو حزنیہ کی تعریف میں ضمناً شامل کرکے ادب کے بالعموم حظ بخش ہونے کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس لحا ظ سے ارسطو کے نزدیک ادب زبان و بیان اور نتیجتاً اسلوب کے باعث مسرت بخش ہو جاتا ہے۔ اس نے حروف، الفاظ اور ترکیب وغیرہ پر بحث کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی نظر زبان کی باریکیوں اور نیرنگیوں پر تھی۔ وہ لغت کی اہمیت اور اسلوب کے وسیلے سے بیان میں آہنگ اور ترنم کا قائل تھا۔ شاید وہ ادب کی سرور کن کیفیت پر زیادہ گفتگو کرتا لیکن اس کے سامنے افلاطون کا یہ اعتراض موجود تھا کہ شاعری جذبات کی پرورش کرتی ہے۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ شاعری کو جذبہ و تخیل کے ماتحت نہ کیا جائے بلکہ اسے عقل و فکر اور وجدان و بصیرت کی عملداری میں لایا جائے اور جذبات کے سلسلے میں اس کا جواب افلاطون کے اعتراض کو مو¿ثر طور پر رد نہ کر سکا۔ لیکن اس (ارسطو) نے شاعری کی ماہیت پر بہت گرانقدر افکار پیش کئے۔ اس مشغولیت میں وہ ادب کے مسرت بخش ہونے کی اہمیت پر زیادہ زور نہ دے سکا۔ اس کی اس کوتاہی سے ایک نقصان ہوا اور ایک فائدہ۔ نقصان تو یہ ہوا کہ اس نے ادب کے حظ بخش ہونے کی بہت بڑی خصوصیت کو ایک ضمنی حیثیت دی اور فائدہ یہ ہوا کہ اس نے شعر اور موسیقی کو ڈرامہ بلکہ ادب کی ماہیت سے خارج کر دیا(یہاں شعر سے مراد کلامِ موزوں ہے)۔ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ اگر تاریخ کو شعر میں بیان کر دیا جائے تو وہ تاریخ ہی رہے گی، شاعری نہیں کہلا سکے گی۔ اس کے باوجود شعر اور موسیقی صدیوں تک ڈرامے کی ہیئت میں شریک رہے۔ ارسطو کی کوشش یہ تھی کہ شاعری کی ماہیئت دریافت کی جائے اور اسے اس سلسلے میں بہت بڑی کامیابی ہوئی۔ اس نے بجا طور پر عمل اور پلاٹ پر زور دے کر ڈرامے کے باقی پہلوﺅں کو پس منظر میں ڈال دیا۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -