لاہور کے محاصرے کے دوران ترک گورنر شاہنواز خان شہر چھوڑ کر بھاگ گیا

لاہور کے محاصرے کے دوران ترک گورنر شاہنواز خان شہر چھوڑ کر بھاگ گیا
لاہور کے محاصرے کے دوران ترک گورنر شاہنواز خان شہر چھوڑ کر بھاگ گیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:16 

شاہنواز خان نے اب اپنا نقطۂ نظر تبدیل کر لیا اور احمد شاہ ابدالی کا استقبال کرنے کی بجائے اس سے مقابلے کی ٹھانی۔ ابدالی کے لیے اب حملے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیونکہ اب اسے کوئی خوش آمدید کہہ کر ہندوستان میں داخل کرانے کےلئے تیار نہیں تھا۔ گنڈا سنگھ کہتا ہے ”دوسری طرف احمد شاہ ابدالی اپنی تیاریاں بالکل مکمل کر چکا تھا۔ افغان مہم پسندوں کی ایک بڑی جماعت جو اردگرد کے قبائل کے افراد پر مشتمل تھی ہندوستان کے بھرے پرے شہروں کی لوٹ کھسوٹ کی طمع میں اس کے ساتھ ہو گئی تھی۔“

لاہور کے محاصرے کے دوران ترک گورنر شاہنواز خان شہر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اہل لاہور نے احمد شاہ غازی کی لوٹ مار سے بچنے کےلیے اسے 32لاکھ روپے کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کر لیا۔ تاہم اہل لاہور کی جان پھر بھی نہ بچی۔ افغان قبائلی جو لوٹ مار کےلئے اس کے ہمراہ آئے تھے اپنے اصل مقصد کی تکمیل میں لگ گئے۔ گنڈا سنگھ کے مطابق اہل لاہور کو امان دینے کے باوجود جو کچھ ہوا وہ یہ تھا۔ 

”اس کے باوجود بہت سے مقامات اور بہت سے گھر لوٹے گئے۔ خاص طور پر مغل محلہ (مغل پورہ) کو پوری طرح لوٹ لیا گیا....اس فتح کے نتیجے میں احمد شاہ کو جو مال غنیمت ملا وہ بے شمار تھا۔ شہریوں کی طرف سے جو نذرانہ ملا اور مفرور گورنر اور اس کے خاندان کا سارا بیش قیمت اثاثہ اور گراں بہا سامان منقولہ ملا۔ اس کے علاوہ بہت بڑا خزانہ بھی ہاتھ آیا۔ گذشتہ 35سال سے جو کچھ از قبیل زرنقد و سامان جنگ جمع ہوتا چلا آ رہا تھا وہ سب مل گیا۔ شفقت خان میر سامان کو ان چیزوں کا تحویل دار بنا دیا گیا۔ شہر میں جتنے گھوڑے اوراونٹ تھے وہ سب قبضے میں لے لیے گئے۔ بلکہ آس پاس کے علاقوں سے چھین لیے گئے اور فوج کے استعمال کےلئے دےدئیے گئے۔ یہ سب کچھ اتنا تھا کہ ابدالی کی فوج کے5 ہزار پیادے ایک باقاعدہ سوار رجمنٹ میں تبدیل کر دئیے گئے۔ اور ایک ہلکے پھلکے توپ خانے کا بھی ابدالی فوج میں اضافہ ہو گیا۔“

یہ تھا وہ لٹیروں والا سلوک جو لاہور کی بیگناہ آبادی کے ساتھ کیا گیا۔ اس آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ حملہ آور بھی مسلمان تھے لٹنے والے بھی مسلمان تھے۔ 

احمد شاہ ابدالی کے دوسرے حملے کا سبب دہلی کے سیاسی حالات تھے محمد شاہ رنگیلا انتقال کر گیا تھا مگر نیا بادشاہ بھی اس سے زیادہ مختلف نہ تھا۔ دربار میں ہر طرف سازشیں تھیں۔ بادشاہ کا اکثر وقت حرم سرا میں گزرتا تھا۔ وہ نہ ملک کے نظم و نسق سے واقف تھا اور نہ جنگ لڑنے کے طریق کار سے۔ 

اہل پنجاب پر احمد شاہ ابدالی پھر بلا کی طرح نازل ہوا۔ سارا علاقہ تہس نہس کرد یا۔ نہتے باشندوں نے مجبوراً صلح کی درخواست کی اور14 لاکھ روپیہ سالانہ کی آمدنی کے چہار محل یعنی سیالکوٹ، اورنگ آباد ، پسرور اور گجرات کے محاصل ادا کرنے کا وعدہ کرکے جان چھڑائی۔ 

دہلی پر قبضہ کرنے کی اس جنگ میں ابدالی کو مان پور کے مقام پر شاہی لشکر سے جنگ لڑنی پڑی اور اسے اس جنگ میں شکست ہوئی۔ دونوں لشکروں کے سالار بھی مسلمان تھے اور فوجی بھی زیادہ تر مسلمان تھے۔ ملک گیری کی اس جنگ میں مسلمانوں نے مسلمانوں پر دھاوا بولا، ایک دوسرے کو قتل کیا، ایک دوسرے کے اعضا ءکاٹے۔ وزیرقمر الدین ایک طرف اور احمد شاہ ابدالی دوسری طرف۔ احمد شاہ ابدالی کو شکست تو ہو گئی پر اس سے پہلے وہ سرہند کا شہر لوٹ چکا تھا۔ وہ سرہند جسے مسلمان سرہند شریف کہتے ہیں کس طرح لوٹا گیا اس کا تذکرہ گنڈا سنگھ میں پڑھ لیں۔ 

”قلعہ کا سارا خزانہ، جملہ سازوسامان اور وزیر قمر الدین کی خواتین حرم احمد شاہ کے قبضے میں آ گئیں مردوں کی بڑی تعداد کی گردنیں تلوار سے اڑا دی گئیں اور عورتیں کنیزیں بنا لی گئیں۔ اندرون اور بیرون قلعہ بہت سے مکانات نذر آتش کر دئیے گئے اور ان کا مال اور سازوسامان لوٹ لیا گیا۔“ 

احمد شاہ ابدالی کا پانی پت کی تیسری جنگ میں مقابلہ مرہٹوں سے ہوا۔ اگر اس وقت دہلی کا بادشاہ احمد شاہ کا مقابلہ کرنے کی حیثیت میں ہوتا تو پھر جنگ مسلمان بادشاہ سے ہوتی اور ہندوﺅں سے لڑنے کی بجائے ابدالی مسلمانوں کا گلا کاٹ رہا ہوتا۔ یہ ایک تاریخی حادثہ تھا کہ اس وقت احمد شاہ کے مدمقابل مرہٹے تھے۔ جیساکہ ہم نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہ نہ تو خاص طور پر انہیں ختم کرنے کے درپے تھا اور نہ سکھوں کو جن کا اگلے سال 1762ءمیں اس نے جنگ دوراہا میں قتل عام کیا۔ 

احمد شاہ ابدالی کے پے درپے حملوں نے سلطنت مغلیہ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ ان قوتوں کو جو کچھ عرصہ مزید انگریزوں کا مقابلہ کر سکتی تھیں کمزور کر دیا۔ اس سے انگریزوں کو اپنی طاقت مستحکم کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اور وہ سارے ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -