شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت

شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت
 شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کےجسمانی  ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی ۔

نجی ٹی وی "سماء"کے مطابق جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا شہباز گل کی کوئی تازہ میڈیکل رپور ٹ سامنے آئی ہے ؟ تین چار دن سے ہر جگہ ذکر ہے ، شہباز گل پر تشدد ہوا ہے، شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر گواہ ہیں ان پر تشد د ہو اہے ، عدالت نے سوال کیا کہ کیا ان کے سامنے شہباز گل کو مارا گیا؟جس پر فیصل چودھری نے جواب دیا کہ ان کے سامنے تشدد کے نشان شہباز گل نے عدالت میں دکھائے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں اور آپ ایکسپرٹ نہیں ، بہتر ہو گا اس پر ماہرین رائے دیں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ کیا رپورٹ میں کوئی تشد دکی علامات سامنے آئی ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تشدد کی کوئی رپورٹ نہیں صرف سانس کے مسئلے کا ذکر ہے ۔

عدالت نے سوال کیا کہ اس وقت شہباز گل کہاں ہیں؟ فیصل چودھری نے کہا شہباز گل اس وقت پمزہسپتال میں بیہوشی کی حالت میں پڑے ہیں ، عدالت نے کہا کہ آپ توکہہ رہے تھے کہ آپ کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا،شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ملنے نہیں دیا گیا، جب وارڈ میں لے جار ہے تھے اس وقت کی تصویر دیکھی ہے ،عدالت نے کہا کہ روز کسی نہ کسی کا ریمانڈ ہوتا ہے کوئی نہیں دیکھتا، یہ اہم کیس ہے اس لیے ساڑھے 4بجے کورٹ فل ہے، یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔

اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر ریکارڈ کے بغیر ہی عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت نے سوال کیا کہ جس دن شہباز گل کو آپ نے ریسیو کیا تب کی میڈیکل رپورٹ دکھائیں، میڈیکل آفیسر اڈیالہ جیل نے جواب دیا کہ وہ میڈیکل رپورٹ میرے پاس نہیں ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ تو پھر آپ کیوں آئے؟ آپ کو کیا میں نے علاج کیلئے بلایا ہے ؟شہباز گل نے کل کس وقت خرابی طبیعت کی شکایت کی ؟

جیل حکا م نے بتایا کہ کل سوا 4بجے انہوں نے سانس میں تکلیف کی شکایت کی ،کل شہباز گل کے ریمانڈ کی روبکار کس وقت ملی؟حوالے کب کیا؟ اڈیالہ جیل حکام نے بتایا کہ ہمیں 4بجے روبکار وصول ہوئی ، 9بجے حوالے کیا،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب ریمانڈ کا فیصلہ آگیا پھر تکلیف ہوئی پہلے ٹھیک تھا وہ ؟5گھنٹے تک وہاں چائے پلا رہے تھے؟

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اڈیالہ جیل حکا م کو کنڈکٹ پر نوٹس جاری کر رہا ہوں، اسلام آباد انتظامیہ کو بھی نوٹس کرونگا، یہ سب کیوں ہو رہا ہے ،جان بوجھ کر عدالتی احکامات میں رکاوٹ نکلی تو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے ، 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی، سارے معاملے کی ایک ابتدائی رپورٹ بنا کر پیر کو پیش کریں ،پی ٹی آئی وکلاءکی عدالت سے تشدد کی جوڈیشل انکوائری کی استدعا کہا کہ آئی جی پر ہمیں اعتبار نہیں ہے ، جس پر عدالت نے کہا کہ ایسا نہ کہیں ، ان سے ایک ابتدائی رپورٹ ہم مانگ رہے ہیں ۔

پی ٹی آئی وکلاءنے ہسپتال میں شہباز گل سے ملنے کی اجازت بھی مانگ لی، عدالت نے کہا کہ وکلاءملیں مگر اتنا رش نہ ہو کہ باقی مریض ڈسٹرب ہوں 

مزید :

اہم خبریں -قومی -