آنکھیں کھلی اور ٹی وی بند رکھئے

 آنکھیں کھلی اور ٹی وی بند رکھئے
 آنکھیں کھلی اور ٹی وی بند رکھئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 9مئی کے بعد سے تحریک انصاف کے حمائتی حلقوں کے تور بور گھومے ہوئے ہیں،انہیں ہر شے اسٹیبلشمنٹ کی بو آتی ہے، تازہ معاملہ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا ہے،یہ لوگ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں کہ کاکڑ صاحب کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز کیا ہے مگر اس نہ ماننے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں سوائے اس کے کہ کاکڑ  صاحب کا تو نام ہی زیر گردشن ناموں میں شامل نہ تھا، حالانکہ ڈاکٹر مالک کا نام بھی تو زیر گردش ناموں میں شامل نہ تھا۔ 
ایسا ہی کنفیوژن پیمرا ترمیمی بل پیش ہونے پر پیدا کیا گیا تھا کہ پڑھے بغیر اس پر تنقید کے ڈونگرے برسائے گئے اور اسے کالا قانون قرار دے کر مسترد کردیا گیا، وہ تو بھلا ہو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا جس نے پورے زور سے اس بل کو مسترد کرنے والوں کو مسترد کردیا اور جاتی ہوئی حکومت سے اسے آخری لمحات میں پاس کروالیا۔ 


اس سے قبل سائفر کے معاملے پر بھی کوئی سوال اٹھانے کی بجائے یہی حلقے عمران خان کی مقبولیت کے گن گانے لگے تھے۔ سائفر کی چوری کے حوالے سے جو سوالات اب اٹھائے جا رہے ہیں اگر اپریل 2022ء میں ہی اٹھائے جاتے تو ممکن ہے کہ پاکستان میں اس قدر سیاسی عدم استحکام نہ ہوتا، آئی ایم ایف سے بہت پہلے مذکرات کامیاب ہو جاتے، پاکستان کو مطلوبہ فنڈز دستیاب ہوتے اور آج عوام کا وہ حال نہ ہوتا، جو ہوچکا ہے۔ 
ایسا ہی کنفیوژن پانامہ کے نام پر اقامہ میں ایک منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل کرکے کھڑا کیا گیا تھا۔ تب اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان قانون کی شقوں کے حوالے دینے کی بجائے اپنے فیصلوں میں ناول ’گاڈ فادر‘ سے اقتباسات دے رہے تھے جسے شام کو اینکروں کا ایک مخصوص ٹولہ مزے لے لے کر دہراتا اور There is a crime behind every fortuneکی تسبیح کرتا پایا جاتا تھا۔ 
کچھ ایسا ہی غل غپاڑہ آصف زرداری کی کرپشن کے حوالے سے مچایا گیا تھا، ان کے گھوڑوں کو سیب کے مربعے کھلائے گئے تھے اور مقامی ہی نہیں بین الاقوامی میڈیا بھی انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کہتا پایا جاتا تھا اور عوام کو اس قدر متنفر کیا گیا کہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی تمام تر مقبولیت کے باوجود پنجاب سے صرف 18نشستیں جیت پائی تھی۔ 


یہی کچھ تب کیا گیا تھا جب یہی حلقے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ہو گئے تھے اور ملک میں اسلامی نظام کے رائج کرنے کا مطالبہ کرتے کرتے بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لے گئے تھے۔ تب بھی عدلیہ نے دباؤ میں وہ کچھ کر دیا تھا جس کا تذکرہ آج کل پانامہ مقدمے کے حوالے سے صبح شام ٹی وی چینلوں پر سننے کو ملتا تھا یا جس چمک کی باتیں کرتے کرتے بے نظیر بھٹو راہی ملک عدم ہو گئیں۔ 
بات یہیں نہیں رکتی،بلکہ ہم نے 1970ء میں انتخابی نتائج کو اس قدر متنازع بنادیا تھا کہ بالآخر مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو گیا۔ یہ کسی بھی سیاسی تنازع کی حد تھی جس نے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ تب اِدھر ہم اُدھر تم کی سرخیاں جمانے والوں کے اپنے مفادات تھے اور آج حکومت کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی کا اعلان ہونے پر اسے لینے سے انکار کرنے والوں کے اپنے مفادات ہیں۔ 
انہی حلقوں کا آئندہ عام انتخابات کے فری اینڈ فیئر ہونے کے حوالے سے ایک اپنا ہی تاثر ہے جسے دن رات چمکانے کے لئے یہ لوگ کہتے پائے جاتے ہیں کہ عمران خان کی مقبولیت ہی مقبولیت ہے اور نواز شریف اس لئے واپس نہیں آرہے ہیں کہ ان کے پاس عوام کے پاس لے جانے کا کوئی بیانیہ نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ نہ صرف یہ حلقے انتخابات میں غیر معمولی تاخیر نہیں ہونے دے رہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں اس پراپیگنڈے کو بھی راسخ کرتے جا رہے ہیں کہ فری اینڈ فیئر انتخابات کا مطلب ہی یہ ہے کہ عمران خان دوتہائی اکثریت کے ساتھ جیت جائیں گے۔ اب اگر کل کو ایسا نہیں ہوتا تو ان حلقوں کے لئے عوام کو یہ باور کرانا کچھ مشکل نہ ہوگا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ 


ان حلقوں کا منصوبہ ہی یہ ہے کہ کسی طرح اگلا انتخاب تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دیا جائے اور اگر اسٹیبلشمنٹ ایسا نہ کرے تو پورے انتخابات کو ہی متنازع بنا دیا جائے۔ اس حوالے سے معروف صحافی نصرت جاوید اور سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان تسلسل کے ساتھ لکھتے چلے آرہے ہیں۔ اسی ایجنڈے کے تحت انوارالحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تعیناتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اسی منصوبے کے تحت نواز شریف کی واپسی کو متنازع بنایا جا رہا ہے، اسی نیت کے ساتھ 9مئی کے سانحے پر مٹی ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو کبھی سیاسی حقوق اور خواتین کے حقوق کے نام پر قانون کی زد سے چھڑوانے کے جتن کئے جا رہے ہیں۔ 
سازشوں پر سازشیں بنی جا رہی ہیں، جھوٹ پر جھوٹ گھڑا جا رہا ہے، گمراہی پر گمراہی پھیلائی جا رہی ہے اور اس سارے کھیل کا مقصد محض یہ ہے کہ نواز شریف کی مقبولیت کو متنازع کر دیا جائے اور ان کی جگہ عمران خان کی جھوٹی مقبولیت کا سہارا لے کر عوام کو تقسیم کر دیا جائے، کسی کو کوئی واضح مینڈیٹ نہ لینے دیا جائے تاکہ ان کے تعصبات کی تسکین ہوتی رہے۔یہ ایک گھمبیر صورت حال ہے اور اس سے  نپٹنے کے لئے خالی اسٹیبلشمنٹ کو ہی نہیں عوام کو بھی آنکھیں کھلی اور ٹی وی بند رکھنے پڑیں گے۔تب کہیں جا کر پیمرا ترمیمی بل قانون کی شکل اختیار کر سکے گا،سپریم کورٹ (ریویو آف ججمنٹ اینڈر آرڈرز) ایکٹ 2003ء کو عدالتی خوردبرد سے بچایا جا سکے گا اور نواز شریف کو جتوایا جا سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -