نگران حکومت کی عوام کو پٹرول بم کی سلامی نے مایوسی بڑھا دی

نگران حکومت کی عوام کو پٹرول بم کی سلامی نے مایوسی بڑھا دی
نگران حکومت کی عوام کو پٹرول بم کی سلامی نے مایوسی بڑھا دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پی ڈی ایم حکومت نے16ماہ کے مختصر عرصے میں عوام کو مہنگائی کے پے در پے جھٹکے دے کر اتنا دکھی کر دیا تھا کہ چھوٹے بڑے ان کی مدت پوری  ہونے پر رخصتی کے دن گن رہے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے پی ڈی ایم کے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا موقف ہے ہم نے ریاست بچانے کے لئے اپنی سیاست قربان کی ہے۔ تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو دریا بُرد کر دیا تھا ہم نے مشکل فیصلے کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تجدید کی اور اب جو مہنگائی بھی ہم کرنے پر مجبور ہوئے وہ آئی ایم ایف کی شرائط عمران خان حکومت کی بداعمالیاں ہیں۔
آج کی نشست میں پی ڈی ایم حکومت کو زیر بحث لانا مقصود نہیں ہے البتہ نگران وزیراعظم اور نگران کابینہ کے لئے اپنی اپنی جماعتوں کے نمائندے خاطر میں نہ لائے جانے پر ان سے افسوس ضرور کرنا ہے افسوس کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں جو 16 ماہ پہلے اپنے نظریات جدوجہد دفن کر کے اقتدار کے لئے متحد ہوئے تھے انہوں نے مختصر وقت میں آئین سازی کا ریکارڈ بناتے ہو ئے اپنے اپنے کیس بھی ختم کرا لئے ہیں،افسوس عوام کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ مہنگائی کتنی ہوئی آٹا، چینی، گھی کی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں۔آٹا چور، چینی چور قرار پانے والے اے ٹی ایم کسی کو نظر نہیں آ رہے البتہ سوشل میڈیا نے سب کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے پی ڈی ایم کی حکومت نے اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا، کاروبار کتنے تباہ ہوئے،کون کون سے کاروبار چل رہے ہیں،کون سے ادارے نجکاری کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔آج کی نشست میں کسی کو زیر بحث نہیں لانا البتہ میاں محمد شہباز شریف کی حکومت جاتے جاتے یوٹیلیٹی سٹور پر آٹا اور چینی کی رعایت جو بہت بڑا ریلیف تھا، ختم کر گئے اس پر افسوس ضرور کرنا ہے۔میاں شہباز شریف اب وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہو چکے ہیں اب وہ سینکڑوں اہلکاروں کی سکیورٹی سے بھی آزاد ہو چکے ہیں ایک دفعہ بھیس بدل کر عوام میں ضرور جائیں اور ان کی حالت ِ زار دیکھیں،ان کی16ماہ کی ریاست بچانے کی جدوجہد کیا رنگ دکھا رہی ہے۔روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں اور یوٹیلیٹی بلز نے ان کا کیا حال کر دیا ہے یقینا وہ عوام میں جانے کی بجائے لندن جائیں گے، کیونکہ انہوں نے ریاست بچانے کے چکر میں اپنی اہلیہ کا علاج نہیں کروایا۔ اب بیگم کا علاج کروائیں گے۔تمہید ہی طویل ہو گئی اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا بیان سنا اور بدھ کے اخبارات میں پڑھا جس میں وہ فرماتے ہیں کابینہ مختصر اور سابق حکومت کی معاشی پالیسیاں برقرار رکھوں گا، مشکل فیصلے کروں گا، معاشی مشکلات کا شکار ملک پر مزید بوجھ نہیں ڈالوں گا، میرا پروٹوکول کم ہو گا،نگران وزیراعظم کے عزائم سن اور پڑھ کر ایک دفعہ خوشی ہو نے لگی پھر مجھے 16ماہ پہلے حلف اٹھانے کے بعد سبکدوش ہونے والے وزیراعظم میاں شہباز شریف کا خطاب یاد آ گیا جس میں نگران وزیراعظم جیسے خیالات کا اظہار انہی جیسے الفاظوں میں کیا گیا تھا۔


ان کی کابینہ80 کا ہندسہ کراس کر گئی تھی ان کی بچت، سادگی اور پروٹوکول نہ لینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ انہوں نے ہر وہ کام کیا جو حکمران کرتے چلے آ رہے ہیں فرق صرف اتنا رکھا ہر غلطی اور ناکامی کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو ٹھہرایا،یقینا نگران حکومت پی ڈی ایم حکومت پر تو الزام نہیں دھرے گی،کیونکہ آئینی اعتبار سے ان کی ذمہ داری الیکشن کرانا ہے جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے وکلاء کے سپریم کورٹ میں خاموش بیانات نے واضع اشارے دے دیئے ہیں،میں بات کر رہا تھا نگران وزیراعظم کی گفتگو کی، جس میں انہوں نے سابقہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا عزم اس انداز سے کیا۔پٹرول17.50پیسے اور ڈیزل 20 روپے لٹر مہنگا کر دیا ہے۔نگران حکومت کی عوام کے لئے پٹرول بم کی سلامی نے ایک اور ریکارڈ بنا ڈالا ہے۔پٹرول مصنوعات کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے زیادہ ہو گئی ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ہیں افسوسناک پہلو اشرافیہ اور ماہر معیشت کے بیانات نے عوام کو اور دُکھی کر دیا ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر کے برابر ہوئی ہے عام بات ہے پوری دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے  یہ بیانات، غریب کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور، عوام کے زخموں پر نمک پھینکنے کے برابر ہے۔سچی بات یہ ہے ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی آئینی اور معاشی بحران نے ملک میں لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، تشویشناک امر یہ ہے میاں نواز شریف ہوں یا میاں شہباز شریف یا سربراہ پی ڈی ایم یا چیئرمین پیپلزپارٹی، تسلیم بھی کرتے ہیں عوام مشکل میں ہیں،  مگر ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں یا آئی ایم ایف پر۔ عوام کہنے اور ڈھول بجانے میں حق بجانب ہیں۔آئی ایم ایف سے قرض آپ نے لیا، کہاں گیا عوام تو پہلے دن سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔سیاست دانوں کا ایک دوسرے کو ذمہ داری قرار دینا اور مورد الزام ٹھہرانا عوام کے لئے مزید تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔


جناب میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے اپنی حکمت عملی سے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچا لیا،لیکن آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بظاہر بچا لیا گیا عملاً عوام کو دیوالیہ کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک محب وطن کا خطاب مقبولیت پا رہا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں ہمارے ملک کو دیوالیہ ہو جانا چاہئے پھر دیوالیہ ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں جب ہمارا ملک ڈیفالٹ کر جائے گا تو کوئی ملک ہمیں قرض نہیں دے گا یہ تو اچھا ہو گا قرض نہیں ملے گا، سیاست دانوں کی عیاشیاں ختم ہوں گی میں اس دانشور سے بھی اتفاق نہیں کرتا، مگر جو حالات ہمارے نام نہاد جمہوری سیاست دانوں نے ملک کے کر دیئے ہیں پاکستان میں موجود اور بیرون ملک میں موجود سر پکڑے بیٹھا ہے۔ابتری کی صورت حال ہے مایوسی، بداعتمادی بڑھ رہی ہے،نئی نسل پاکستان میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے۔باہر بھیجنے والوں کا دھندہ عروج پر ہے، پاسپورٹ دفاتر کے سامنے لمبی قطاریں ہیں۔ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے ان حالات میں عوام کو نگرانوں سے بڑی اُمیدیں تھیں اور ہیں ان کی پہلی پٹرول بم کی سلامی اور سابقہ حکمرانوں کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے اعلان سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔انوار الحق کاکڑ اور مقتدر قوتیں مل کر عوام کو مایوسی سے نکالیں اور امید دینے کے لئے عملی ریلیف کے لئے اقدامات کریں،جو حالات بن رہے ہیں الیکشن سے زیادہ بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر بڑھ رہی ہے اب بھی نہ سنبھلے تو کچھ نہیں بچے گا۔اب بھی وقت ہے24کروڑ 15 لاکھ سے زائد پاکستانی عوام جمہوری اداروں اور جمہوریت کے علمبرداروں کی طرف دیکھ رہی ہے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -