میڈیا کے چیف جسٹس کی روانگی

میڈیا کے چیف جسٹس کی روانگی

  

ہر کوئی ہر کسی سے خوش نہیں ہوتا، اسی لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں تمام لوگ خدا پر بھی یقین نہیں رکھتے یا پھر اس سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ یہ معاملہ بھی انسانوں کا ہی ہے۔ وہ انسان جو خوب سے خوب تر کی تلاش میں موجود حقائق یا پھر شخصیات سے توقعات وابستہ کرتا ہے، لیکن جب وہ توقعات پورا نہیں اترتیں تو ایک فطری عمل میں بیزاری اور اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کا بھی ہے ۔ان کی ایک ”نہ“ نے ان کے تمام سابقہ گناہوں کو نظرانداز کر کے زیرو سے ہیرو بنا دیا ، پھر جب وہ اپنے عہدہ جلیلہ پر عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں بحال ہوئے تو عوام کی توقعات کا دائرہ بھی انہی کے گرد گھومنے لگا۔بلاشبہ انہو ںنے ان توقعات کو پورا کرنے کی کوشش بھی کی۔عدلیہ کی آزادی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لئے تاریخی فیصلے بھی دیئے، جن سے کچھ لوگوں نے خوشی واطمینان کا اظہار بھی کیا، مگر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان کے فیصلوں سے متاثر ہوئے توانہوں نے ان فیصلوں پر اعتراضات بھی کئے اور خود افتخار محمد چودھری کی بطور ”قاضی“ غیرجانبداری پر انگلیاں بھی اٹھائیں، جن کے لئے ان کے پاس اپنے نقطہ نظر میں جواز بھی موجود تھے۔

یہی وہ مرحلہ تھا جب تحریک بحالی منصف میں ان کے شانہ بشانہ چلنے والے متحرک ساتھی آہستہ آہستہ ان سے دور ہوتے گئے۔ پرانی دوستیاں ناراضگی میں تبدیل ہوئیں، ہم رکاب رہنے والے فاصلوں پر کھڑے ہوگئے ، لیکن خود چیف جسٹس مطمئن تھے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، عدلیہ کی آزادی کو ایک طاقت میں تبدیل کرنے اور آئین کی بالادستی کو مستحکم بنیادیں فراہم کرنے کے لئے کر رہے ہیں، چنانچہ اگر صدرمملکت کے خلاف کوئی فیصلہ آیا ہے یا پھر ان کے ایک فیصلے سے وزیر اعظم کو سبکدوشی کی غیرآئینی راہ پر چلنا پڑا ہے تو انہیں کسی کی پرواہ نہیں۔ ویسے بھی انہیں اس وقت تک ”میڈیا“ کاساتھ مل چکا تھا، بلکہ وہ ایک ایسے دوست کی شکل میں سامنے آیا تھا جو ہر معاملے پر انہیں نمایاں کر رہا تھا۔ ان کی اخبارات میں تصویریں بھی شائع ہوئیں اور ان کی آبزرویشنز کو شہ سرخیاں بھی بنایا جاتا تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا تھا ،ورنہ جسٹس اے آر کارنیلس جیسے آئین پرست بھی چیف جسٹس رہے ہیں اور جسٹس یعقوب علی خان جیسے چیف جسٹس بھی تھے، جنہوں نے جنرل ضیاءالحق کے سامنے نہ کی تھی.... ہاں، مگر اس وقت آزاد میڈیا نہیں تھا جو ان کی آبزرویشنز کو شہ سرخیاں بناتا اور نہ ہی ان کے ”ٹکر“ ٹیلی ویژن کی سکرین پر چلتے تھے ، پھر یہ بھی کہ وہ فیصلے سے پہلے ”آبزرویشن“ نہیں دیتے تھے ،جو اخبارات میں شائع ہو کر سیاسی رنگ اختیارکریں اور نہ ہی وہ پرائیویٹ تقریبات میں شریک ہوتے تھے ۔

گذشتہ روز سینیٹر بابر اعوان ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں بتا رہے تھے کہ ہندوستان کے چیف جسٹس سے بار کے ایک وفد نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ،انہوں نے اس کا مقصد پوچھا تو انہیں بہترین تعلقات کی مضبوطی کے لئے ضروری قراردیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سلسلہ میں جو بھی تجاویز ہیں وہ رجسٹرار آفس میں جمع کرا دی جائیں۔ انہوں نے پھر بھی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور دوبارہ ملاقات کی وجہ دریافت کی گئی تو بار کے وفد کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کے چیف جسٹس کے ساتھ محض ایک تصویر بنوانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ وہ افتخار محمد چودھری سے ملاقات کریں، یعنی مجھے تصویریں بنوانے کا کوئی شوق نہیں۔

لیکن ادھر ہمارے سابق چیف جسٹس تو ہر مرحلے پر تصویریں بنوانے اور چھپوانے کا ہنر ہی آزماتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج انہیں کچھ لوگ میڈیا کا چیف جسٹس کہہ کر یاد کر رہے ہیں اور ان کے ان فیصلوں کو بھی یاد نہیں کر رہے جو انہوں نے کرپشن کے خاتمے اور گم شدہ لوگوں کی تلاش کے لئے صادر فرمائے تھے، اگرچہ وہ لوگ ان کو بھی ادھورے فیصلے قرار دیتے ہیں کہ ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ ٭

مزید :

کالم -