مودی یہودی کے نقش قدم پر

مودی یہودی کے نقش قدم پر
مودی یہودی کے نقش قدم پر

  

اس وقت اسلامی مشرق، بلکہ پورا ایشیا دو نسل پرست گروہوں کے نشانے پر ہے۔ ان دونوں گروہوں میں نہ صرف یہ کہ پوری پوری ہم آہنگی اور تعاون ہے، بلکہ ان کے درمیان فوجی معاہدے بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تو صہیونی ریاست اسرائیل ہے اور دوسرا بت پرست ہندو بھارت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زبانی کلامی تو یہ دونوں سیکولرازم اور جمہوریت کے دعویدار ہیں، مگر اندر سے شدید ہی نہیں، غلیظ قسم کے مذہبی جنونی اور خوفناک حد تک متعصب ہیں۔ سر دست تو ان کی زد میں بظاہر صرف مسلمان ہیں، مگر آگے چل کر یہ دونوں گائے کے پجاری ہٹلر سے بھی زیادہ ہولناک نسل پرست ثابت ہونے والے ہیں اور اس کے ثبوت کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ گزشتہ پون صدی سے مسلمان اقلیت کے ساتھ ساتھ مسیحی اقلیت اور سکھ بھی جنونی ہندو کی زد میں ہیں!

اسرائیل کا صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو اقوام متحدہ کی غالب اکثریت کے فیصلے کے باوجود آزاد فلسطین کو ماننے کے لئے تیار نہیں، غزہ کے نہتے فلسطینیوں کے خلاف انتہائی درندگی اور ظلم کا مظاہرہ کر چکا ہے اور اب صہیونی پولیس کے درندوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی وزیر کا سرعام گلا گھونٹ کر مروا چکا ہے۔ نہایت حقارت اور غیظ و غضب کے ساتھ مغربی کنارے پر آزاد فلسطینی ریاست کو بھی ٹھکرا چکا ہے۔ ادھر مودی جیسا مسلمان دشمن دہشت گرد فیصلہ کن اکثریت حاصل کر کے جب سے وزیراعظم بنا ہے، ہندو مہا سبھا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو چکا ہے۔ پہلے قدم کے طور پر کشمیر کی خاص آئینی حیثیت تبدیل کر کے اپنے فوجی درندوں کے ہاتھوں گجرات کی طرح کشمیر میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کر کے پورے برصغیر کو، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت خوف و دہشت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تاکہ ہندو مہاسبھا کے ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے!

پاکستانی لیڈروں کا فرض بنتا ہے کہ تمام باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر دنیا کو ان دو نسل پرست گروہوں کے خطرات سے آگاہ کریں۔ اس وقت نہ صرف باضمیر و بیدار مغز مسیحی یورپ جاگ اُٹھا ہے اور فلسطین کی آزاد ریاست تسلیم کرنے پر کمر بستہ ہے، بلکہ مشرق و مغرب کا انسان بدمست صہیونی اسرائیل کو لگام دینا چاہتا ہے۔ پاپائے روم بھی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اسلامی ملکوں کے دورے پر نکلے ہیں اور دنیا میں انصاف اور امن کا بول بالا دیکھنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں پاپائے روم نے ترکی کا دورہ کیا ہے، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا استقبال کرتے ہوئے عدل و امن کے لئے پوپ کی کوششوں کو سراہا، ترکی کے مفتی اعظم بھی ہر جگہ پوپ کے ہمراہ رہے ہیں۔ کنائس اور مساجد کے دورے پر مفتی اعظم نے پوپ کو بتایا ہے کہ آپ جس انصاف اور امن کے قیام کے لئے نکلے ہیں،وہ تو ہمارے پیغمبر عدل و امن نبی پاک ؐ کا حکم ہے کہ تم دنیا میں عدل و انصاف قائم کر دو، اس کے نتیجے میں امن تو خودبخود قائم ہو جائے گا۔

پوپ کا یہ دورہ جہاں مسلم مسیحی مفاہمت کی طرف میلان کا غماز ہے، وہاں اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ مسلمان اور مسیحی مفاہمت و تعاون سے اس اتحاد اہل کتاب کی بھی راہ ہموار ہو گی، جس کی دعوت قرآن کریم نے دے رکھی ہے، جس سے دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اور وہ دوستی اور محبت بھی عملی شکل اختیار کر سکتی ہے،جس کی پیشین گوئی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر82 میں آ چکی ہے۔ اگر دنیا میں مسلم۔۔۔ مسیحی دوستی اور تعاون کا سلسلہ قائم ہو جائے گا تو نیکی اور تقویٰ، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی فضا پیدا ہو سکتی ہے،جس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو، سب مطمئن ہو جائیں، کیونکہ اس وقت روئے زمین کا 80فیصد سے بھی زائد رقبہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے قبضے میں ہے اور دنیا کی فیصلہ کن اور غالب اکثریت بھی انہی کی ہے۔ پوری دنیا یہود و ہنود کے خفیہ ناپاک تعاون اور ضد سے بھی خبردار ہو چکی ہے، یورپ اور پاپائے روم کا موجودہ ردعمل اور منصفانہ موقف بھی اِسی کا نتیجہ ہو سکتا ہے! اس لئے اب یہ وقت ہے کہ برہمن کے نظریہ ’’اکھنڈ بھارت اور رام راج‘‘ کا پردہ چاک کرنے کے علاوہ ہم اپنے آپ کو بھی اور دنیا کو بھی قیام پاکستان کے پس منظر سے آگاہ کر سکتے ہیں!

یہ برہمن ہی ہے، جو برصغیر کے تمام انسانوں کو ، آج بھی اور کل بھی، ایک ہی متحدہ قومیت کی لڑی میں پرونا چاہتا ہے، جس کا نام ہے ہندو مت۔۔۔(یا ایڈوانی اور نریندر مودی کی زبان میں ہندتوا)۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب گروہ اپنا مذہب اور اپنی ثقافت چھوڑ کر ہندو مذہب اور ہندو ثقافت اپنا لیں! بھلا ایسی متحدہ قومیت کو کون گوارا کر سکتا ہے؟ مگر مکار برہمن اپنے نام نہاد سیکولرزم اور جمہوریت کے پردے میں قائداعظم ؒ کو مذہبی قرار دیتا ہے، جنہوں نے پاکستان کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو پُرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر آزادی رائے کے ساتھ رہنے کی ضمانت دی تھی، جبکہ فریب کار برہمن اپنی ریاستی طاقت سے بے بس اقلیتوں کو زبردستی ہندو بنانے کے جتن کر رہا ہے، چونکہ اس کی اصل زد اسلام اور مسلمانوں پر پڑتی ہے، اس لئے پاپائے روم اور یورپ بھی خاموش تھا، کیونکہ عالمی صہیونیت نے سب کو ’’اسلامو فوبیا‘‘ میں مبتلا کر رکھا تھا،مگر اب کافی حد تک یہ لوگ حقیقتِ حال کو جان چکے ہیں، اس لئے اگر اس فضا میں ہم ان کے سامنے کشمیریوں کا حق اور ہندو کی حقیقت کو پیش کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں!

ہم مسلمان تو سادہ لوح ہیں، مگر برہمن ہمیں متحد رکھنا چاہتا ہے۔ برہمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عربوں کو بتایا کہ جس طرح انگریز عالم عرب کے ٹکڑے کر رہا ہے، اِسی طرح وہ ہندوستان کو بھی ہندو مسلم میں بانٹنا چاہتا ہے، جبکہ مسلمان اور ان کے لیڈر انگریز کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں!حالانکہ انگریز کی پالیسی یہ تھی کہ روس کے مقابلے کے لئے ہندوستان برہمن کے ہاتھ میں متحد رہے! اسی وجہ سے عرب کل کی طرح آج بھی مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے نہیں تھکتے کہ ہندو کے ساتھ مل کر رہو! ہم یہ تاثر زائل کرنے میں بُری طرح ناکام ہیں!

برہمن ’’ہندو مہاسبھا‘‘ سے شروع ہوا، شدھی کی تحریک، بھگتی تحریک اور متحدہ قومیت کے نعرے لگاتا اور لگواتا آ رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ(بلکہ ایجنڈا یہ ہے کہ) مسلمان کو زبردستی ہندو بنا لیا جائے، بھگا دیا جائے یا مار دیا جائے۔ ہندو کانگرس کے بڑے منافقسب کو (مسلمان، سکھ،عیسائی اور اچھوت کو) متحدہ قومیت کے جھانسے سے ساتھ ملا کر انگریز کو بھگانے کے نعرے لگواتے رہےٖ! مگر جب انگریز چلا گیا تو اصل ہندو سامنے آ گیا، آخر کار مہاسبھا، آر ایس ایس اور جن سنگھ نے بی جے پی کا روپ دھارا، جو اب پھر مودی کی قیادت میں الٹی زقند لگا کر ہندو مہاسبھا بن چکی ہے اور ایجنڈے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کرسمس سے پہلے صرف آگرہ میں کم سے کم پانچ ہزار مسلمانوں کو مودی زبردستی ہندو بنوانے کا فیصلہ کر چکے ہیں!

مزید :

کالم -