معافی کس سے اور کس لئے ؟ (2)

معافی کس سے اور کس لئے ؟ (2)
معافی کس سے اور کس لئے ؟ (2)

  



حقیقت یہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا واقعہ نہ صرف پاکستانی فوج اور عوام کے لئے اندوہناک تھا، بلکہ پاکستان کے دوست ممالک کے لئے بھی اتنا ہی افسوسناک تھا، اس لئے کہ پاکستان کے دوست ممالک چین اور سعودی عرب نے بنگلہ دیش کو ایک عرصے تک ،یعنی شیخ مجیب الرحمن کی موت سے قبل تسلیم نہیں کیا۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی کہ مشرقی پاکستان کے عوام کی اکثریت کی خواہش کے تحت نہیں، بلکہ بھارت کی کھلی مداخلت اور جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرکے بنگلہ دیش کا وجود بخشا گیا۔

بنگلہ دیش کو آزادی دلانے کا نعرہ کتنا مقبول تھا یا مجیب الرحمن کی طرف سے مغربی پاکستان کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم وستم یا غیر منصفانہ سلوک میں کتنی حقیقت تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ساڑھے تین سال کے عرصے میں بنگلہ دیش کے عوام نے اپنے خودساختہ اور نام نہاد نجات دہندہ سے چھٹکارا حاصل کرلیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو سقوط ڈھاکہ کے بعد جنوری 1971ء میں رہا کیا گیا۔ وہ 10جنوری کو ڈھاکہ پہنچا ،اس کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، لیکن جس قسم کی طرز حکومت کا اس نے مظاہرہ کیا، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے پیش نظر بنگلہ دیش کے عوام کی فلاح وبہبود نہیں تھی، بلکہ اپنی شخصی حکومت کا قیام اور ہندوستان کے مفادات پیش نظر تھے۔ 1975ء کے اوائل میں اس نے ایسے قوانین کا اجراء کیا جس سے مرکزی اور مقامی سطح پر ایک پارٹی کی یعنی عوامی لیگ کی حکومت قائم ہو جاتی۔ اس کا اطلاق یکم ستمبر 1975ء سے ہونا تھا، لیکن اسے اس کا موقع میسر نہ آسکا۔اس کے پورے دور حکومت میں ہندوستان کا عمل دخل بہت بڑھ گیا تھا اور ہندوستان کی حکومت بنگلہ دیش جیسے نوزائیدہ ملک کی تمام پالیسیوں پر اثرانداز تھی،جس کو بھانپتے ہوئے فوج کی کچھ یونٹوں نے 14اور 15اگست کی درمیانی رات کو اس کے گھر میں گھس کر گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس حملے میں اس کے گھر کے سارے افراد ہلاک ہوئے سوائے اس کی بیٹی حسینہ واجد اور ایک اور فرد کے جو اس وقت ہندوستان میں تھیں۔ جس گھر میں اسے قتل کیا گیا ،اسے بعد میں میوزیم کا درجہ دے دیا گیا۔ راقم جب پہلی بار سال 2000ء میں ڈھاکہ گیا تو اس کے گھر ،یعنی میوزیم کو بطور خاص دیکھا۔ اس دومنزلہ گھر میں ،جو دھان منڈی کے علاقے میں دریاکے کنارے واقع ہے، کچھ کمرے گھر کی پچھلی طرف بعد میں تعمیر کئے گئے۔ اسی حصے میں اوپر کی منزل پر آنے جانے کے لئے الگ سے سیڑھیاں بھی ہیں۔

جب حملہ آور فوجی اس کے گھرمیں داخل ہوئے تو اس نے اس وقت کے فوج کے سربراہ کو مدد کے لئے فون کیا، جس نے واشگاف الفاظ میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ حملہ آوروں سے بچنے کے لئے وہ پیچھے کی سیڑھیوں سے اتر کر بھاگنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ خون کے دھبے سیڑھیوں کی دیوار پر گرے ،جنہیں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ یہ سارے مناظر بہت ہی عبرتناک ہیں۔ ان مناظر کے مشاہدے کے بعد جب میرے میزبان نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرنے کے لئے کہا تو مَیں نے لکھا کہ کتنے دکھ اور المیہ کی بات ہے کہ وہ شخص، جسے بنگلہ دیشی عوام نے بابائے قوم کا خطاب دیا ، اس کی رحلت اتنے اندوہناک اور خوفناک حالات میں ہوئی۔ اس کی وفات کے سولہ دن بعد چین نے ،پھر سعودی عرب نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ مجیب کی وفات کے بعد حملہ آور فوجیوں یا دوسرے افراد میں سے کوئی بھی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوا، بلکہ عوامی لیگ ہی کے افراد پر مشتمل حکومت بنی۔ یہ الگ بات ہے کہ تھوڑے ہی عرصے بعد دوبارہ ایک بغاوت ہوئی جس کے بعد ضیاء الرحمن نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، لیکن اس سے قبل جیل میں قید بنگلہ دیش کی نام نہاد جنگ آزادی کے دور میں جو عبوری کابینہ بنی تھی اور جس کا قیام ہندوستان میں عمل میں آیا تھا، اس کابینہ کے باقی ماندہ چار افراد کو جیل ہی میں قتل کردیا گیا تھا۔ اس سے آپ جنگ آزادی کی اعتباریت اور اس کے خلاف بنگلہ دیشی عوام کے ردعمل کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

میجر شریف الاسلام والم، جو پاکستانی فوج سے بھاگ کر ہندوستان پہنچا ،بعد میں بنگلہ دیش کی جدوجہد میں بھی شامل رہا اور فوج میں بھی اور اب غالباً کسی اور ملک میں رہائش پذیر ہے اس نے اپنی ڈائری میں اس واقعہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس نے واضح طورپر لکھا ہے کہ جب اسے ہندوستانی فوج کے حوالے کیا گیا اور فوج نے اسے اور اس کے دیگر ساتھیوں کو بریفنگ دی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ ہندوستان ،حکومت بنگلہ دیش کی جدوجہد میں ایک سہولت کار کی بجائے خود ساری صورت حال کو نہ صرف کنٹرول کررہا ہے، بلکہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اس نے واضح طورپر لکھا ہے کہ وہ عوامی لیگ کے ممبران کے سوا کسی اور گروپ پر اعتبار کرنے کے لئے نہ تو تیار تھے اور نہ ہی آئندہ کے کسی منصوبے میں شامل کرنے کے لئے راضی۔ یہاں ایک بار پھر بنگلہ دیش کی آزادی کے پس منظر اور اس حوالے سے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کی کامیابیوں اور کارروائیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے لکھی گئی کتاب کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کتاب کا پورا نام کاؤبوائز آف راء ڈاؤن میموری لین ہے۔۔۔Kao boys of Raw: Down Memory lane(جاری ہے)

مصنف نے راء کی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کی مشرقی اور مغربی پاکستان سے متعلق سوچ، پالیسی اور منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہندوستان کا خیال تھا کہ ساٹھ کے عشرے میں بھارتی ریاستوں ناگالینڈ اور میزورام میں اٹھنے والی علیحدگی کی تحریکوں کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ تھا۔ اسی لئے اندرا گاندھی نے 1968ء میں حتمی فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹ کر بنگلہ دیش قائم کیا جائے۔ مصنف نے ساٹھ کے عشرے میں ،بالخصوص مشرقی پاکستان میں را کی کارروائی کے حوالے سے حکومت پاکستان اور فوج کی ناقص حکمت عملی کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتاہے کہ پاکستان کی حکومت ،فوج اور خفیہ ایجنسیاں اتنی غیر محتاط اور غیر ذمہ دار تھیں کہ یحییٰ خان مشرقی کمان سے فون کے ذریعے رابطہ رکھتاتھا ۔ اگر مشرقی کمان سے رابطے کے لئے کوئی خفیہ پیغام رسانی کا نظام موجود بھی تھا، تو اس کا مکمل علم را کو حاصل تھا اور اس پیغام رسانی کی پوری تفصیل اندرا گاندھی کو مہیا کی جاتی تھی۔ آگے چل کر جی دامن لکھتا ہے کہ پاکستان کو یہ خدشہ تھا کہ بھارت بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کے مغربی حصے، خاص طورپر بلوچستان میں بھی مداخلت کرے گا۔ مصنف ایک طرف تو مشرقی محاذ پر را کی کامیاب کارروائیوں پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف یہ اعتراف بھی کرتاہے کہ مغربی محاذ پر را کو اس طرح کامیابی حاصل نہ ہوسکی، جیسی کہ مشرقی محاذ پر ہوئی۔

جی رامن اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ بلوچستان ان کے لئے ایک نرم ہدف تھا، لیکن بین الاقوامی برادری کے ردعمل کے خدشے کی وجہ سے اور دوسراایران کے ممکنہ شکوک وشبہات کی وجہ سے را نے اس محاذ پر زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ بھارت کا خیال تھا کہ بلوچستان میں کارروائی کی وجہ سے ایرانی بلوچوں کو شہ ملتی اور اس سے ایران کے ناراض ہونے کا خدشہ موجود تھا۔ اگر یک بار پیچھے مڑ کر ساٹھ کے عشرے کے اواخر کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت ہندوستان کی مداخلت کے لئے حالات کتنے سازگارتھے ۔ عمومی طورپر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ 1970ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا قرار دیا جاتا ہے، لیکن کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ جماعت اسلامی کے سوا دیگر کتنی جماعتوں نے ملک کے دونوں حصوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ؟ پیپلزپارٹی نے صرف مغربی پاکستان میں اور عوامی لیگ نے صرف مشرقی پاکستان کو ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کیوں بنایا ؟ دوران انتخاب مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے علاوہ کسی اور امیدوار کو اپنی انتخابی مہم چلانے کی اجازت کیوں نہیں تھی ؟ پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کا جلسہ عوامی لیگ کے غنڈوں نے کیوں نہ ہونے دیا ؟ کیا اس کے باوجود 1970ء کے انتخابات آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تھے ؟

پھر ظاہری طورپر ایوب خان کو فوجی آمر اور جابر قراردے کر تاشقند کے معاہدے کے بعد جمہوری مجلس عمل کے تحت جو تحریک چلائی گئی، اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اسی تحریک کے تحت مجیب الرحمن کو اگر تلہ سازش سے بری قرار دے کر رہا کیا گیا، مگر آج کے حقائق یہ بتاتے ہیں کہ نہ تو اگر تلہ سازش کیس مصنوعی تھا اور نہ ہی مجیب الرحمن بے گناہ۔ وہ نہ صرف اگر تلہ سازش کیس میں ملوث تھا ، بلکہ اس نے ہندوستان سے مل کر مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔ آج پھر پاکستان کو تقریباً ویسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف بلوچستان میں قوم پرستوں کی تحریک جاری ہے اور دوسری طرف انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک۔ ڈرون حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے حالات کا تجزیہ سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں کیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے گئے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں اندرونی حالات میں الجھ کر رہ گئی ہیں اور پاکستان کے اردگرد ، سرحدوں پر منڈلاتے خطرات اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے جاری سازشوں پر یہ ایجنسیاں نظر رکھنے سے قاصر ہیں۔ آج کی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، بشمول مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف، مل کر پاکستان کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کا بندوبست کریں اور پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو اندرونی معاملات سے نجات دلا کر بیرونی سرحدوں اور مخالف ہمسایہ ممالک کی طرف سے روارکھی جانے والی کارروائیوں کے سدباب کے لئے تیار کریں تاکہ باقی ماندہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہوسکے۔

مزید : کالم