قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!(2)

قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!(2)
 قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!(2)

  

بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر ہماری بہادر افواج کو بحری اور فضائی مدد حاصل نہیں تھی، اس کا مقابلہ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے ساتھ تھا۔ اس خطے میں بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی اور اس کے گوریلے ہر جگہ ہماری افواج کے خلاف چھاپہ مار جنگ اور خفیہ کارروائیوں میں مصروف تھے۔ فضا میں بھارت کے جدید ہوائی جہازوں کی گھن گرج تھی، اس کے باوجود ہماری بہادر افواج نے دشمن کو زمینی راستے سے ملک کے اندر آنے سے روکے رکھا۔۔۔جیسا کہ مَیں نے اوپر تحریر کیا ہے کہ جنگی تاریخ میں ھلی سیکٹر کی جنگ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہاں پر فرنٹیئر فورس کے میجر محمد اکرم اپنے دستے کی کمان نہایت بہادری سے کر رہے تھے۔ ان پر 26 اور 27 نومبر کی رات بھارتی افواج نے بھرپور حملہ کردیا، جسے بھارتی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی، لیکن 19 دن تک دشمن ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ ہمارے جوانوں نے وسائل کی کمی کے باوجود بھی بہادری، شجاعت اور شہادت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ بھارتی کمانڈر جنرل لچھمن سنگھ بھی ہمارے جری بہادر سپوت میجر محمد اکرم اور ان کی سپاہ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔

15 دسمبر 1971ء کی رات وطن کے اس بہادر سپاہی نے اپنے پاک خون سے پاکستان کی سرزمین کو سیراب کردیا اور شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’وطن کا یہ بیٹا‘‘ 16 دسمبر کو ہتھیار ڈالنے کی صبح کو طلوع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس جرأت، بہادری اور وطن کی حفاظت میں اپنی جان قربان کرنے پر پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری جنگی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے، لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں، ہم گروہوں میں بٹ چکے ہیں، صوبائی تعصب، رنگ، نسل، زبان، مفادات اور دولت کی جنگ میں باہم دست و گریبان ہیں۔ ہم نے بانئ پاکستان کے عظیم قول ’’اتحاد، تنظیم، یقین محکم‘‘ کو یکسر فراموش کرچکے ہیں۔ قومی وحدت، قومی مفاد، قومی کردار، اخوت، محبت، بھائی چارے، رواداری، عدل و انصاف، صبر و برداشت، ہمدردی، اصول و ضوابط کچھ بھی تو نہیں بچا۔ فرقہ واریت، گروہ بندی، دہشت گردی، قبضہ مافیا، دھونس دھاندلی، ظلم و زیادتی، چوری بازاری سب کچھ تو ہو رہا ہے، مسجد کا امام، سکول کا ٹیچر، گھر کا سربراہ سب تو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں، اب ہم نام کے پاکستانی اور مسلمان ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی صورتحال کو بال جبریل کے ان اشعار میں بیان کیا ہے آپ بھی ملاحظہ کریں:

اے لا اِلہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتارِ دلیرانہ، کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھوگیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق اور یکجہتی پیدا کریں، اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور اس پیارے وطن کو مضبوط، ترقی یافتہ، خوشحال اور طاقتور بنانے کے لئے دن رات ایک کردیں۔ یہ سوچ لیں کہ ہمارا دشمن تاک میں بیٹھا ہوا ہے، ہمیں اس کے ناپاک عزائم کو پوری جرأت اور بہادری کے ساتھ ناکام بنانا ہے۔ ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھ کر اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اس حوالے سے بھارت کا بے بنیاد پراپیگنڈہ اب بھی جاری ہے۔ 44 سال گزرجانے کے باوجود بھی وہ ہماری بہادر افواج کو مطعون کرنے میں مصروف رہی۔ جب سے بھارت میں نریندر مودی کی متعصب سرکار اقتدار میں آئی ہے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کی جابرانہ، ظالمانہ اور سفاکانہ سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس نے عالمی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے ضعیف العمر محب وطن پاکستانیوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیاہواہے۔ اس پر عالمی برادری، انصاف پسند قوتیں، این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نہ جانے کیوں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ 1974ء میں بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی کانفرنس میں یہ متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ ماضی کی تمام غلطیوں اور تلخیوں کو بھلا کر خیر سگالی کے جذبے کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت ہی 1973ء کا وار کرائم ٹربیونل ختم کیا گیا تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو نہ صرف تسلیم کیا، بلکہ وزیراعظم پاکستان نے خود بنگلہ دیش کا خیر سگالی دورہ بھی کیا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے اب 44 سال پرانے واقعات کی بنا پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی پر لٹکا کر بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ حسینہ واجد کے دل و دماغ میں تعصب، نفرت، پاکستان دشمنی اور انتقام کا جذبہ عود آیا ہے۔ اس ظالم سے کوئی پوچھے کہ 1971ء میں تو مشرقی پاکستان تھا، جس کی حفاظت کی جنگ پوری قوم اور مسلح افواج لڑ رہی تھیں۔۔۔ باغی، بھارت اور مکتی باہنی تو حملہ آور تھے۔ ’’عقل کے اندھو‘‘ اس وقت بنگلہ دیش کہاں تھا۔ یہ مظلوم لوگ، جنہیں تم اپنی انتقام کی آگ میں جھونک رہے ہو محب وطن پاکستانی تھے۔۔۔ اور جب بنگلہ دیش بن گیا تو یہ وہاں ہی رہ رہے تھے، پھر ان پر اس قدر ظلم۔۔۔ اسلامی ممالک کیوں خاموش ہیں؟ اسلامی ممالک کی تنظیمیں کہاں گئیں؟ اسلامی کانفرنس کیوں نہیں بلائی جا رہی؟ اس ظلم پر یو این او کی خاموشی بھی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے ایک اور سبق بھی ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں 1971ء کی طرح امریکی بحری بیڑے (یو ایس ایس انٹر پرائز) کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہمیں اپنی طاقت، اپنے وسائل، اپنے عوام اور اپنی بہادر افواج پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ مولانا ظفر علی خان کے اس خوبصورت شعر میں ہمارے لیے یقیناًایسا ہی پیغام ہے :

اے مسلمان غیر کیوں ہوں تیرے حق کے پاسبان

جب یہ طاقت خود ترے بازوئے فولادی میں ہو

قارئین! 16 دسمبر کا دن یقیناًپوری قوم کے لئے رنج و الم کا دن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنرل نیازی کے جنرل جگجیت سنگھ کے سامنے شرمناک انداز میں ہتھیار ڈالنے کے مناظر ہندوستانی میڈیا نے زور شور سے دکھائے، لیکن ہمیں اس سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینا ہے اور اس کی اصلاح کرنی ہے اور ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا ہے۔ اپنی صفوں کے اندر اتحاد رکھنا ہے، اتفاق رکھنا ہے، دل و دماغ، کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں کے اندر چھپے ہوئے شرپسند اور دہشت گرد عناصر کو کان سے پکڑ کر باہر نکالنا ہے اور کچل دینا ہے، خاص طور پر صوبہ بلوچستان پر انتہائی کڑی نظر رکھنی ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی ترقی اور خوشحالی اس صوبے اور یہاں کے عوام کا مقدر بننے والی ہے جو ہمارے ازلی دشمن کو کس طرح ہضم ہوسکتی ہے، اس لئے اس نے کافی عرصہ پہلے سے ہی اس علاقے میں ’’را‘‘کے ذریعے سرگرمیاں شروع کی ہوئی ہیں،جنہیں اللہ کے فضل و کرم سے ہماری بہادر افواج اور صوبے کے عوام نے ناکام بنا دیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کے پی کے، قبائلی علاقہ جات، بلوچستان اور کراچی میں کامیاب کارروائیاں حکومت کی اسی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جس پر حکومت پاکستان اور مسلح افواج یقیناًمبارکباد کی مستحق ہیں۔یاد رکھیے حضرت قائداعظمؒ نوجوان نسل پر بڑا اعتماد کرتے تھے، تحریک پاکستان میں بھی قائداعظمؒ کی قیادت میں یہی نوجوان ہراول دستہ تھے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ہمیشہ اپنے کلام کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی ہے۔ آپ کا یہ خوبصورت شعر نوجوانوں کی خدمت میں پیش ہے :

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نوجوان نسل نے یقیناًاس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اسی لئے انہیں سانحہ مشرقی پاکستان، بھارتی سازشوں، عالمی طاقتوں کے سفاکانہ رویے، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مفادات اور اسلامی ممالک کی بے حسی سے آگاہ کرنا بے حد ضروری تھا۔ ہمیں امید ہے کہ نوجوان نسل سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھتے ہوئے دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ وہ اس وطن کی ترقی، خوشحالی، مضبوطی، خود داری اور سالمیت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -