تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ

تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ
تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ

  

ڈاکٹر ناصر اقبال

گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان بجلی او ر گیس کی قلت کا شکار ہے جس کی وجہ سے ہماری معیشت اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر رہی جتنی بصورت دیگر کر سکتی تھی۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی کھپت اور آبادی میں ہوش ربااضافے کی وجہ سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک دردِسر بن چکا ہے۔ بجلی کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے متبادل ذریعہ کے طور پر گیس کو بھی استعمال کرنا معمول بنالیا جس کی وجہ سے ملک میں گیس کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہاہے۔

موجودہ حکومت کو نہ صرف بجلی بلکہ گیس دونوں کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ناکامی کی صورت میں مقبولیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ حکمران پارٹی نے الیکشن سے قبل اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ملک میں توانائی کی کمی کو پورا کرے گی اور ملکی معیشت کو راہ راست پر لانے کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ اسی منشور کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے بجلی کے کئی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا جن سے اگلے دو سال میں پیداوار حاصل ہونا شروع ہوجائے گی۔

گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے کئی منصوبوں پر کام شروع کردیاہے۔لیکن ان میں سب سے اہم تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ ہے جس کا سنگ بنیاد وزیراعظم نوازشریف نے 13دسمبر کو رکھ دیا ہے۔اس منصوبہ سے ترکمانستان سے براستہ افغانستان قدرتی گیس پاکستان اور بھارت کو مہیا کی جائے گی۔ تاپی گیس پراجیکٹ سے سی پیک منصوبے کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی جس سے معیشت پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوں گے۔

10ارب ڈالر کے ترکمانستان، افغانستان ، پاکستان ، بھارت گیس منصوبے کے بارے میں 1995 کے اوائل ہی میں ذکر شروع ہوگیا تھا مگر آنے والی حکومتوں نے مستقبل میں آنے والے توانائی کے مسائل کو مد نظر نہیں رکھا اور اس منصوبے کو ملتوی کیے رکھا۔ حکمران جماعت نے حالات کی نزاکت اور توانائی کے مسائل کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے جنگی بنیادوں پر تاپی منصوبے پر تحقیق مکمل کروائی اور ایسا منصوبہ جو 20سال سے لٹکتا آرہا تھا بالآخر دسمبر 2015 میں اس کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔ اس بات کا کریڈٹ جہاں وزیراعظم کو جاتا ہے وہیں ترکمانستان اور افغانستان کی لیڈرشپ کی تعریف کرنا بھی لازم ہے۔ ان ممالک کے رہنماؤں کی سنجیدگی نہ ہوتی تو حالات کچھ اورہوتے۔

تاپی منصوبہ سٹرٹیجک اعتبار سے بھی پاکستان کے لیے نوید مسرت ثابت ہوگا۔ اس سے ہمارے ملک کے ترکمانستان، افغانستان اوربھارت سے تعلقات میں بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب دو یا دوسے زائد ممالک ایک دوسرے سے معاشی طور پر منسلک ہو جائیں توباہمی تعلقات میں مثبت تبدیلی ہی آتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور بھارت کے ساتھ سرد تعلقات میں مستقبل قریب میں بدلاؤ کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ تاپی منصوبہ ہمارے ملک کے لیے اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی منصوبہ ہٰذا پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانے سے گریز کیا ہے اور وزیراعظم کے منصوبہ سے متعلق پیش رفت کے اقدامات کو سراہا ہے۔

شورشرابے، احتجاج اور اچھل کود کی سیاست اب دم توڑ رہی ہے۔ عوام بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ سمجھدار ہیں۔ میڈیا کی آزادی کے سبب انہیں یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ کون ان کے ساتھ کتنا وفادار ہے۔ تاپی جیسے منصوبوں سے عوام کی نظر میں نہ صرف وفاقی حکومت کا امیج مزید بہتر ہوگا بلکہ اس سے صوبائی حکومتوں میں بھی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔ اگر صوبوں میں موجود حکمران پارٹیاں عوامی خوشحالی کے لیے کام نہیں کریں گی تو یقیناًعوام انہیں رد کرکے کسی اور کو اپنا رہنما بنالیں گے۔

وزیراعظم نے تاپی گیس لائن پراجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھ کے مستقبل میں متوقع توانائی کے بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی قابو پانے کی کوشش کی ہے لیکن صرف ایک شخص کے اقدامات سے ملکی مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ اس میں پوری سٹیٹ مشینری کو ملکی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔ بیورکریسی کو بھی سیاسی قیادت کی طرح مستعدی جاں فشانی اور لگن سے بین الاقوامی اہمیت کے حامل اس منصوبے پر کام کرنا ہوگا تاکہ جس کام کا آغاز اتنے جذبے سے کیا گیا ہے، اس کے ثمرات جلدازجلد عوام تک منتقل ہونا شروع ہوں۔ اسی میں پاکستان کی ترقی مضمر ہے۔

مزید :

کالم -