بیت المقدس بارے پاکستان کا ٹھوس موقف

بیت المقدس بارے پاکستان کا ٹھوس موقف
 بیت المقدس بارے پاکستان کا ٹھوس موقف

  



او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان سمیت 22اسلامی ممالک کے سربراہان، جبکہ 25 ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکہ کو بیت المقدس کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے ۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے پر زوردیا، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا۔

عرب ممالک کے سربراہان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قراردیا۔فلسطینی صدر محمودعباس نے کہا کہ ٹرمپ کا اعلان بڑا جرم ہے، امریکہ کا بطور ثالث کردار قبول نہیں کریں گے۔۔۔ امریکہ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ۔

دراصل اسرائیل کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا صلہ دیاگیاہے ،اس حوالے سے ٹرمپ بھی ایوارڈ کے حق دار ہیں۔اسلامی ممالک آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ اسرائیل کے حق میں امریکہ کا تعصب سامنے آ گیا ہے اور امریکہ امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لئے نااہل ہو گیا ہے۔

ٹرمپ کے اس جارحانہ اعلان کے بعد امن بات چیت میں امریکہ کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے تک مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوگا۔ مسلم ممالک بیت المقدس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، تاہم ٹرمپ کے نامعقول فیصلے سے انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچے گا۔

او آئی سی اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی تقریر بڑی مدلل اور قابل توجہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مقدس شہر کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش ناقابل برداشت ہے۔

مسلم امہ اپنی کمزوریوں پر قابو پائے بغیر کشمیر اور فلسطین کے مسائل حل نہیں کروا سکتی، امت مسلمہ، او آئی سی کا واحد اور متفقہ روڈ میپ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کے متنازعہ فیصلے کی مذمت کی۔

انہوں نے واضح کیاکہ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کوئی نئی حرکت نہیں، وہ 70 سال سے یہی کچھ کر رہا ہے۔

70سال سے بھارت بھی مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کئے ہوئے ہے ۔ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال کر رہا ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی مذموم کوشش کر رہا ہے ۔

اس موقعہ پر پورا پاکستان فلسطین اور فلسطینی عوام کے پیچھے کھڑا ہے ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی کوشش کی ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو انصاف اور آزادی کے لئے متحد ہونا ہو گا۔

وزیراعظم پاکستان نے یروشلم تنازع اور مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے جو تین سفارشات پیش کیں، ان کو تمام اسلامی ممالک نے سراہا۔اس وقت ضرورت بھی اس مسئلے کے حل کی ہے ۔صرف احتجاج سے کام نہیں چل سکتا۔

امریکہ تو چاہتا ہی یہی ہے کہ اسلامی ممالک احتجاج اور جلوسوں کے بعد ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جائیں۔ یہ اپنے ہی ملک کی شاہراؤں پر آگ لگائیں اور توڑ پھوڑ کریں تاکہ ان ممالک میں مزید انارکی پیدا ہو۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مسئلے کے حل کے لئے جو تین سفارشات پیش کیں، اگر ان پر عمل ہو جائے تو کوئی شک نہیں کہ مسئلہ فلسطین اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل اس معاملے پر سنجیدگی نہیں دکھاتی تو اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اقتصادی طور پر بھی دباؤ ڈالے ،کشمیر اور فلسطین میں قابض افواج کے رویوں کو تبدیل کرانے کے لئے او آئی سی کو اقتصادی لائحہ عمل اپنانا ہو گا، ایسے اقدامات اٹھائے بغیر ہم ان مسائل کو حل نہیں کروا سکیں گے ۔تیسری سفارش یہ تھی کہ اس مسئلے کو عالمی عدالت انصاف میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کا فیصلہ دراصل دہشت گردی اور انتہاپسندی میں اضافے کا محرک ہو گا۔

اس موقعہ پر 50سے زائد ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت،وزرائے خارجہ نے مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قراردیا، جس سے امریکہ پر یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ مسلم اُمہ اس معاملے پر یکجا اور متفق ہے اور ان کے درمیان اس مسئلے پر کسی قسم کی نااتفاقی موجود نہیں۔

ٹرمپ کا فیصلہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے بھی منافی ہے،اس فیصلے کو ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں نے بھی مسترد کر دیا ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے بھی بڑا واضح سٹینڈ لیا اور کہاکہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مشرق وسطیٰ امن عمل میں دیانتدار ثالث کے طور پر اس کا کردار متاثر ہواہے ۔

اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوئی کارروائی نہیں کرتی تو پھر او آئی سی کو امریکی فیصلے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے۔

علاقائی امن و استحکام کی بہتری اور شدت پسند قوتوں کو مزید مستحکم ہونے سے روکنے کے لئے امریکہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے لئے دو ریاستی حل واحد قابل عمل روڈ میپ ہے، جس کا عالمی برادری نے فلسطینی عوام سے وعدہ کر رکھا ہے ۔

ہمیں امریکی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر بھی سوچنا چاہیے ، ہمیں حقیقی اتحاد کا مظاہرہ کرنا اور باہمی اختلافات پر قابو پانا ہو گا اور مسلم ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہو گا۔

القدس اسلام کا پہلا قبلہ تھا۔ القدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش دنیا بھر کے 1.5 ارب مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کرنے کے مترادف ہو گی۔

وزیراعظم نے اس موقعہ پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کر کے دنیا کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ جب تک پورے شد و مد سے نہیں اٹھایا جائے گا، کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا نہ ہی فلسطینیوں کا آزاد ریاست کا خواب پورا ہو سکے گا۔

امریکہ ایک طرف دنیا میں امن کا ٹھیکیدار بنتا ہے، دوسری طرف ایسے اقدامات کرتا ہے، جن سے بدامنی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ کی یہ دوغلی پالیسی نئی نہیں۔ وہ پہلے چنگاری سلگاتا ہے، پھر اسے ہوا دیتا ہے اور جب آگ بھڑک اٹھتی ہے تو اس پر مزید تیل گراتا ہے۔

مسلم اُمہ کمزور ضرور ہے، لیکن بعض ایشوز ایسے ہیں، جن پر یہ کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ فلسطین اور کشمیر ایسے ہی دو ایشوز ہیں، خطے میں پائیدار امن کے لئے جن کا فوری حل بہت ضروری ہے۔

اگر ان کا حل نہ نکالا گیا تو خطے میں امن و آشتی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا۔ او آئی سی کا اعلامیہ بہت وزن رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور ٹرمپ کو یہ اعلان واپس لینے پر مجبور کرنا چاہیے۔بیت المقدس فلسطینیوں کا دارالحکومت قرار دیا جائے، یہی ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔

مزید : کالم


loading...