بلڈپریشر

بلڈپریشر
 بلڈپریشر

  



عدمِ اطمینان ،بے چینی، بے قراری کے اس دور میں فشارالدم ایک تکلیف دو اور خوفناک مرض کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک عام انسان خواہ مرد ہو یا عورت اسے ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کا بلڈپریشر بڑھ نہ جائے، کسی آدمی کو فالج ہوتا ہے تو تشخیص یہ ہوتی ہے کہ مریض کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا، برین ہیمرج و شریان کے پھٹنے سے ناک کے ذریعہ اتنا خون آنا کہ موت واقع ہو جائے) کے حملہ سے جو لوگ موت سے بچ جاتے ہیں، ان کے مرض کا سبب یہی بلڈ پریشر بتایا جاتا ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اچھا بھلا صحت مند انسان جوں ہی کھانا کھاتا ہے تو فوراً ہی دوا بھی استعمال کرتا ہے پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر کی دوا صبح و شام استعمال کی جا رہی ہے۔

اسباب: اس مرض کے لئے یہ تعین کرنا کہ اس کا سبب فلاں خوراک ہے، ممکن نہیں، مختلف مریضوں میں مختلف حالات میں اس مرض کا سبب مختلف ہوتا ہے، تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ انسان کی خوراک، اس کے معاشی سماجی حالات، گھریلو زندگی کے معاملات اس مرض میں معاون ہوتے ہیں۔

غصہ جس پر قابو پانے کے لئے رحمت عالم ؐ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دشمن کو پچھاڑ دے، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے عالم میں خود کو قابو رکھے! حالات اور ماحول کتنا ہی ناسازگار کیوں نہ ہو، انسان، صبر، عقل، بردباری کی صفات کو اپنائے تو اس مرض کے حملہ سے بچ جاتا ہے۔ دوسروں کو معاف کر دینا اور خود کو دوسروں سے ادنیٰ تصور کرنا ہمارے مزاج کو نارمل رکھنے میں مددگار رہتا ہے۔

ایسے افراد جو اپنے کھانے پینے، سونے جاگنے اور عبادت کے اوقات میں توازن پیدا کر لیتے ہیں، وہ اس مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔ موجودہ دور جس کو خوش خوراکی کا دور سمجھا جاتا ہے، اس میں مرغن، چٹ پٹے اور مصالہ دار غذاؤں کا رواج عام ہے۔

موجودہ دور کا انسان مصروف ہے، گھر کا سادہ کھانا میسر نہیں، ہوٹلوں کے کھانے،برگر اور پیزہ (Pizza) جو حفظان صحت کے اصولوں کے بغیر تیار کئے جاتے ہیں، اس مرض کو بڑھانے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

اعتدال سے خوراک انسان کے لئے مفید ہے، لیکن کسی بھی غذا کا بے جا استعمال اور سیر نہ کرنا، خصوصاً پیدل نہ چلنا، بھنے ہوئے مرغ، روسٹ، کباب، تلی ہوئی مچھلی، تیز مرچ ، شادی بیاہ کے کھانوں میں غذا کو لطف اندوز بنانے کے لئے گرم مصالحہ کا استعمال، کھانے کے ساتھ سلاد یا دہی کے استعمال سے اجتناب بھی اس مرض کو پیدا کرتا ہے۔

قبض کو ام الامراض کہا جاتا ہے، میدہ کے نان، ڈبل روٹی، رس، باقرخانی اور ایسی غذا کا استعمال اس کا سبب ہے۔ اگر صحت مند انسان کو اجابت یا فراغت ہو تو ایک حد تک ایسے امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، یا کسی لیبارٹری سے کیمیاوی طور پر اس مرض کا سبب نہ بھی گردانا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی میں معاشی تنگدستی، گھریلو ناچاقی، بے روزگاری، بچوں کی تعلیم کے کمرتوڑ اخراجات، مہنگائی اور ناخالص غذائیں بھی اس مرض کو جنم دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ’’اشرافیہ‘‘ یا اَپر سوسائٹی Upper Society میں مے نوشی رواج پا رہی ہے، عملاً شراب کے رسیا لوگ بھی اس خطرناک مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں شریانوں میں کولیسٹرول کے بڑھنے سے خون کی گردش میں رکاوٹ بھی اس کا باعث ہے۔

علامات: اکثر اوقات مریض کھانے کے بعد سر میں بوجھ، آنکھوں سے حرارت کا نکلنا، کندھوں پر بوجھ، بعض اوقات ہاتھ پاؤں اور چہرے پر جلن محسوس کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ اسے ’’گرمی‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، ابتدا میں اگر توجہ دی جائے تو مرض جلد ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں صحت کے بارے غفلت اور لاپرواہی عام ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ فلاحی ریاستوں میں تیس سال کے بعد ہر شہری کا مکمل میڈیکل چیک اپ مقررہ مدت کے بعد ہوتا ہے، بلڈ پریشر،شوگر، کولیسٹرول کا بڑھنا، اور دیگر امراض کا شائبہ ہوتے ہی مریض کو احتیاط اور اگر ضروری ہو تو دوا سے صحت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں ’’مفت علاج‘‘ کے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس سینکڑوں ہیلتھ سنٹر ہونے کے باوجود ایسی کوئی سہولت میسر نہیں اور عام آدمی بھی ایسی کسی ضرورت کومحسوس نہیں کرتا۔

بلڈ پریشر یا فشارالدم کی اقسام : عام حالات میں ہم بلڈ پریشر کی دو ہی اقسام کو آسانی سے بیان کر سکتے ہیں۔

اولاً: بلڈ پریشر میں زیادتی

ثانیاً : بلڈ پریشر میں کمی

بلڈ پریشر کا بڑھنا خطرناک اور فوری توجہ چاہتا ہے، جبکہ بلڈ پریشر کا کم رہنا خطرناک تو نہیں، مگر تکلیف دہ ہے۔ مریض صبح اٹھنے کو بوجھ محسوس کرتا ہے، جسم میں شدید تھکاوٹ،نقاہت، کندھوں میں درد، پنڈلیوں میں درد، بغیر کوئی مشقت کے کام کرنے کے آرام و سکون کی تلاش، سردیوں میں شدید سردی محسوس کرنا، گرمی میں ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا ہونا، سردرد دونوں حالتوں میں ممکن ہے۔ جب بلڈپریشر بڑھا ہوگا، سردرد میں سر پھٹتا محسوس ہوتا ہے، اگر کم پریشر ہو تو سر میں ٹھنڈک اور بوجھ اور نیند کا غلبہ ہوگا۔

علاج : کسی ہیجان غصہ، نفرت یا غذا کے غلط استعمال کی وجہ سے مرض کی کیفیت ہو اور مریض کو قے آ جائے تو وقتی طور پر یہ مرض ختم ہو جاتا ہے، مریض کو جب عارضی طور پر مرض کی کیفیت ہو تو وقتی دوا کا سہارا جرم نہیں، لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی معالج دوا تجویز کرتا ہے تو یہ دوا اتنی دیر کھانی چاہیے جب تک معالج کہے! لیکن عوام میں یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ ایک مریض کو دوا سے فائدہ ہوتا ہے تو دوسرا آدمی مشورہ کے بغیر وہ دوا نمونہ کے طو رپر لے کر میڈیکل سٹور سے خریدتا اور دوا کو مسلسل بغیر ضرورت استعمال کرتا ہے جو خطرناک رجحان ہے۔

اگر مریض کو عارضی مرض ہو اور موسم گرما میں تربوز میسر آئے تو تربوز یا اس کے پانی کا استعمال کرنے سے فوری افاقہ ہوتا ہے۔ چاٹی کی لسی یا کچی لسی کا استعمال بھی تیز بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے! تازہ پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر استعمال کرنا بھی مفید ہے۔

مستقل مرض کی صورت میں اصولی علاج کے بغیر مرض سے نجات ممکن نہیں، مریض کو اگر قبض ہو تو اسے دور کرنا ضروری ہے۔ مریض کو مستقل طور پر ایسی غذائیں کھلائیں جن سے خون میں حدت بڑھتی ہے۔ مثلاً انڈہ، گوشت، مچھلی، پائے، پراٹھہ، شادی کے پُرتکلف کھانے سے بچنا ضروری ہے۔ سادہ غذا کدو، ٹینڈے ، شلجم، گاجر یا سادہ شوربہ جس میں نمک کم ہو، استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

حسب ذیل نسخہ جات: خود بنائیں اور استعمال سے مرض کے ازالہ کی صورت میں دعا دیں۔(ہائی بلڈ پریشر)

(1) اسرول (چھوٹی چندن)100گرام، کشنیتر خشک 100گرام، صندل سفید 50گرام، الائچی سبز25گرام، کالی مرچ10گرام، سفوف بنا کر عرق گاؤزبان کے ساتھ چٹکی بھرکر استعمال کریں۔

(2)صندل سفید100گرام، الائچی سبز50گرام، سنبل الطیب50گرام، سفوف تیار کریں۔صبح و شام بعد غذا تقریباً ایک گرام استعمال کریں۔

(3)دروگج عقربی، دھنیاخشک، لیموں کا چھلکا، پودینہ خشک، الائچی سبز، برابر وزن کے سفوف تیار کریں، بعد از غذا تازہ پانی سے استعمال کریں۔

(4) اگر کولیسٹرول زیادہ ہو تو حسب ذیل چٹنی کھانے کے ساتھ استعمال کریں۔

ہوالشافی: ادراک تازہ200گرام، عقدم،دس عدد، ذرشک شیریں150گرام، تازہ دھنیا50گرام، تازہ پودینہ50گرام، انار دانہ دو چمچ ، یا تازہ انار کے دانے سے چٹنی تیار کر لیں ،کھانے کے ساتھ کھائیں۔

بازار میں تیار شدہ ادویہ دوالشفاء (ہمدرد) شفائی گولیاں (قرشی)، قرض نشاپن (اشرف لیبارٹرز) حسب ہدایت استعمال کریں۔

لوبلڈ پریشر(جن مریضوں کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے۔ وہ نمک والی چائے، نمک ملاکر لیموں کا پانی، انڈہ، مچھلی، ایسے کھانے جن میں بادام پستہ شامل ہو استعمال کریں۔

دنیا کی آبادی کا 12سے 20فیصد طبقہ اس مرض میں مبتلا ہے۔ سیر کو معمول بنا کر اور سادہ غذا کے استعمال سے ہم اس مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر پریشانیوں کو کم کرتا ہے۔

مزید : کالم


loading...