فاٹا کا فیصلہ قبائلی عوام کو کرنے دیا جائے

فاٹا کا فیصلہ قبائلی عوام کو کرنے دیا جائے

  



وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فاٹا معاملے کو سب سے پہلے مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ہی اُٹھایا تھا اور اسے ہم ہی پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے،فاٹا کا نظام ایک صدی پرانا ہے جسے سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا،آج مُلک میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بڑے بڑے جلسوں میں بات کی جاتی ہے۔ حکومت فاٹا کے علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ مُلک کی تمام سیاسی جماعتوں اور مسلح افواج نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا، دہشت گردی کم ہوگئی ہے،بچی کھچی دہشت گردی بھی جلد ختم کر دی جائے گی،کوہاٹ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) واحد جماعت ہے،جو صرف باتیں نہیں بناتی، عملاً کام کر کے بھی دکھاتی ہے ہم اس کارکردگی کی بنیاد پر اگلے الیکشن میں جائیں گے، جو15 جولائی2018ء کو ہوں گے۔ بیس سال میں وہ کام نہیں ہوئے جو چار سال میں کئے گئے ہماری حکومت نے مُلک میں انتشار کا مقابلہ کیا،مسلم لیگ(ن) خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

حزبِ ختلاف کی جماعتوں نے فاٹا اصلاحات کے معاملے پر قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب تک اِن اصلاحات کا بِل جو پیش کر کے واپس لے لیا گیا تھا دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گااُس وقت تک احتجاج جاری رہے گا، بِل واپس لیتے ہوئے حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ اِسے جلد دوبارہ پیش کر دیا جائے گا، اب تک ایسا نہیں ہو سکا اِس لئے حزب اختلاف کو احتجاج کی ضرورت پیش آ رہی ہے،بہتر ہوتا کہ حکومت یا قومی اسمبلی کے سپیکر حزب اختلاف کو اِس معاملے پر اعتماد میں لیتے اور اُن وجوہ کی وضاحت کر دیتے جن کی بنا پر بِل پیش کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئے، جو سیاسی جماعتیں فوری طور پر یہ انضمام نہیں چاہتیں وہ بھی اِس حد تک تو ضرور متفق ہیں کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کر لینا چاہئے، اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اگر اِس مسئلے پر مذاکرات ہوں تو کوئی نہ کوئی نقطہ اتصال ایسا آ سکتا ہے، جس پر سب متفق ہوں اور اتفاق رائے کی روشنی میں آگے بڑھا جائے۔

حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام(ف) فاٹا کے علاقوں کو صوبے میں شامل کرنے کے خلاف ہے اور پہلے اِس معاملے میں قبائلی عوام کی رائے لینے کی خواہاں ہے قبائلی ملک جو قبائلی معاشرے میں ہمیشہ سے اہمیت کے حامل رہے ہیں اور اب تک چلے آ رہے ہیں اُن کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ فاٹا کوصوبے میں ضم نہیں ہونا چاہئے۔ وہ بھی عام جلسے کر کے اپنی اِس رائے کا اظہار کر چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی جماعتیں بھی بہت زیادہ سرگرم ہیں،جو فوری طور پر کسی تاخیر کے بغیر فاٹا کا انضمام چاہتی ہیں ان میں پیپلز پارٹی تحریک انصاف، جماعت اسلامی، اے این پی اور قومی وطن پارٹی جیسی جماعتیں بھی شامل ہیں، جماعت اسلامی نے تو برستی بارش میں ایک لانگ مارچ بھی کر دیا تھا،حالانکہ ایک صدی پرانے اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے لانگ مارچوں اور ڈیڈ لائنوں سے زیادہ سنجیدہ غورو فکر کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔

فاٹا کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کا موقف ہمیشہ بدلتا رہا ہے، ماضی میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے بھی اِس معاملے پر زیادہ پیش رفت نہیں کی،اِن میں چار فوجی حکومتیں بھی شامل تھیں،جنہوں نے بہت سے اہم فیصلے چشم زدن میں کر دیئے، مغربی پاکستان کا وَن یونٹ مارشل لا کے ایک حکم کے ذریعے ایک فوجی حکمران نے ختم کر دیا۔ وَن مین وَن ووٹ کا حکم بھی اس طرح جاری ہوا تھا، بلوچستان کا صوبہ بھی اسی طرح تشکیل پا گیا۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کسی حکم کے ذریعے فاٹا کو قومی دھارے میں نہیں لایا جا سکتا تھا؟ اگر ایسا کیا جا سکتا تھا ،تو پھر ضمنی سوال یہی بنتا ہے کہ کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا اس وقت فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی سوچ پروان نہیں چڑھی تھی؟ یا اس میں کوئی خطرات محسوس کئے جاتے تھے۔ فوجی حکمرانوں کی طرف سے اگر کوئی جواب دہی کے لئے موجود نہیں تو پیپلز پارٹی تو قائم دائم ہے اور اگلے انتخاب جیت کر دوبارہ وفاق میں برسر اقتدار آنے کے دعوے بھی کر رہی ہے اِس کی قیادت کو تو ضرور بتانا چاہئے کہ اس نے اپنی چار سابق حکومتوں کے دوران فاٹا کو قومی دھارے میں کیوں شامل نہیں کیا؟ویسے تو دعوے بہت کئے جاتے ہیں،لیکن اگر یہ کام پہلے ہو جاتا تو کیا مضائقہ تھا،یہ کام اگر پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے چار ادوار میں نہیں کرسکی تو اب اسے کیا جلدی ہے؟

باقی جماعتیں تو کہہ سکتی ہیں کہ اُنہیں اقتدار نہیں ملا اِس لئے وہ یہ مسئلہ حل نہیں کر سکیں، البتہ وزیراعظم کی اِس بات میں وزن ہے کہ فاٹا اصلاحات کا آغاز مسلم لیگ(ن) نے کیا ہے اور وہی اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔بہتر یہ ہے کہ اِس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے،قومی اسمبلی کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر کے اور میڈیا میں اِس معاملے کو اُجاگر کر کے سیاسی فائدے تو اٹھائے جا سکتے ہیں،لیکن اِس طرح مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اِس معاملے پرکوئی اے پی سی بلائی جاسکتی ہے، جو جماعتیں بات بات پر آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبے کرتی رہتی ہیں اُن کی جانب سے بھی کوئی آواز اس کے حق میں نہیں اُٹھی، ویسے تو قبائلی عوام اِس معاملے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں۔ اُن کی رائے براہِ راست معلوم کرنے کے لئے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا،بس چند سو یا چند ہزار لوگوں سے مل کر یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ سارے قبائلی عوام فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لئے بے قرار ہیں،حالانکہ ایسا نہیں ہے اور مخالفانہ آوازیں بھی سُنی جا رہی ہیں اِس لئے بہترین لائحہ عمل یہی ہے کہ فاٹا کے عوام کی خواہشات کو مقدم رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کیا جائے،جو جماعتیں سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے کرانا چاہتی ہیں اُن کے لئے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنا مطالبہ منوانے کی بجائے یہ معاملہ قبائلی عوام اور اُن کے نمائندوں پر چھوڑ دیں۔

مزید : اداریہ


loading...