زرعی ترقی کے لئے ورلڈ بینک کا قرضہ

زرعی ترقی کے لئے ورلڈ بینک کا قرضہ

  



یہ خبر حوصلہ افزا ہے کہ ورلڈ بینک نے زرعی اصلاحات لانے کے لئے پنجاب حکومت کو 30کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم اگلے پانچ سال کے دوران میں موسمی تبدیلیوں اور حالات کے مطابق زرعی پیداوار کو بہتر بنانے اور کاشتکاروں کی آمدن بڑھانے کے لئے استعمال ہوگی۔ حکومت پنجاب کے زرعی ماہرین نے رپورٹ تیار کی تھی کہ زرعی اصلاحات لانے سے 17لاکھ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آجائیں گے اور کئی دہائیوں سے موجود زراعت کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی، ورلڈ بینک نے اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے 30کروڑ ڈالر کا امدادی قرضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ورلڈ بینک نے اس توقع کا اظہار بھی کیا ہے کہ زرعی اصلاحات کے اس پروگرام پر عملدرآمد ہونے سے صوبے میں عورتوں اور مردوں کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔ زراعت کے حوالے سے پنجاب کو دوسرے صوبوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ایک سروے کے مطابق پنجاب کی 72فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور اس کی آمدن کا انحصار زراعت پر ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ معاشی مشکلات کم کرنے کے لئے شہروں کا رخ کرنے لگے ہیں۔جو لوگ بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کی زمینوں پر اپنے خاندان کے دیگر افراد(بڑے بچوں سمیت) مستقل کام کرتے ہیں، انہیں گزر اوقات کے لئے زمیندار زرعی اجناس (سبزیوں سمیت) بہت کم مقدار میں مہیا کرتے ہیں۔ زمیندار اور جاگیر دار یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اُن کے کھیتوں میں پیداوار کم ہوتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پرانے اور فرسودہ طریقوں سے کاشتکاری ہورہی ہے۔ یہ مسئلہ چھوٹے اور بڑے زمینداروں کا یکساں ہے۔زرعی شعبے میں ترقی کے لئے جدید طریقے بھی اختیار کئے جارہے ہیں لیکن ایسے زمینداروں اور کاشتکاروں کی تعداد کم ہے ۔ جس کے نتیجے میں زرعی آمدن میں اطمینان بخش اضافہ نہیں ہو رہا اور زراعت سے وابستہ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزرانا پڑرہی ہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومتی سطح پر کوششیں توہوتی رہتی ہیں لیکن وسائل کی کمی اور چھوٹے کاشتکاروں کو سرکاری سہولتیں کم ملنے کی وجہ سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوسکا۔بڑے زمیندار تو اپنے اثر ورسوخ اور تعلقات سے رعائتیں اور سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کو کھاد، بیج،ٹیوب ویل سے پانی، کیڑے مار ادویات اور دیگر سہولتوں کی کمی کا شکوہ رہتا ہے۔ حکومتی سطح پر چھوٹے کاشتکاروں کو پوار حق نہیں ملتا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی وسائل ہوں یا زرعی قرضوں کا استعمال، ماضی میں کا شتکاروں اور زمینداروں کو نظر انداز کرنے کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ورلڈ بینک سے جو قرضہ ملے اس کی تقسیم میں بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کو اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کا حق مارنے نہ دیا جائے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 30کروڑ ڈالر کے زرعی قرضے سے ساڑھے تین لاکھ افراد کو روزگار کی سہولت بھی ملے گی۔ اگر اس رقم کا صیحح استعمال ہو تو قوی امید ہے کہ صوبے میں زراعت کا شعبہ نچلی سطح پر بہت ترقی کرے گا۔

مزید : اداریہ


loading...