مَیں عدلیہ کے ساتھ ہوں

مَیں عدلیہ کے ساتھ ہوں
 مَیں عدلیہ کے ساتھ ہوں

  



اگر ملک کے چیف جسٹس کو بھی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کی قسم اٹھانی پڑے تو اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ایک بھلے مانس اور صلح جو طبیعت کے مالک ہیں، شاید اسی وجہ سے انہوں نے افتخار محمد چودھری کی طرح محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے کھلے لفظوں میں صورت حال کی وضاحت کر دی ہے۔ ان کا یہ کہنا ایک بڑا اعلان ہے کہ کسی مائی کے لعل میں عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی جرأت نہیں۔

مجھے ان کی بات پر حرف بحرف یقین ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے منصب پر بیٹھنے والا کبھی غلط بیانی نہیں کر سکتا۔ اگرہم عدلیہ کو ہی متنازعہ بنا دیں گے تو یہ سب سے بڑی تباہی ہو گی، شاید فوج کے کمزور ہونے سے بھی زیادہ۔

نوازشریف کی منطق سمجھ میں نہیں آ رہی۔ وہ اب اس بات پر تپے بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو نا اہل کیوں نہیں کیا؟ ۔۔۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ ایک سزا یافتہ یہ ڈکٹیشن دے کہ مجھے سزا دی ہے تو باقیوں کو بھی لازمی دی جائے۔

نوازشریف ایک طرف یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ان کا عمران خان سے کیا مقابلہ، جسے حکمرانی کی الف بے کا بھی پتہ نہیں، جبکہ میں تو تین بار وزیر اعظم رہ چکا ہوں ۔۔۔ یہی تو اصل بات ہے، جسے میاں صاحب اپنی نا اہلی کے فیصلے میں بھول جاتے ہیں۔

عمران خان کے پاس جب کوئی پبلک عہدہ ہی نہیں رہا تو ان کا نوازشریف سے مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہوتا کہ قتل کے ایک ہی مقدمے میں ملوث دو ملزمان میں سے ایک کو عدالت شک کا فائدہ دے کر بری کر دیتی ہے اور دوسرے کو موت کی سزا سناتی ہے عدالت نے فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا ہوتا ہے، اسے تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔

کیا انہی عدالتوں نے خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کو حکم امتناعی پر نااہل ہونے سے نہیں بچا یا؟ حالانکہ ان کے خلاف ٹربیونل کے فیصلے آچکے ۔ خواجہ آصف کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آگیا، البتہ سعد رفیق کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔ کیا حدیبیہ کیس جیسے ایک بڑے پھندے کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے گلے سے نہیں اتارا، کیا اب نوازشریف یہ کہیں گے کہ ایسا ان کے دباؤ پر ہوا؟ گویا دباؤ سپریم کورٹ پر کسی اور کا نہیں نوازشریف کا چل رہا ہے۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کو بھرے جلسے میں یہ باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ انہوں نے تو یہ باتیں نیک نیتی سے کی ہیں مگر ان کا اثر الٹا ہوگا، کیونکہ جن کو وہ سمجھا رہے تھے، وہ ان باتوں سے مزید شیر ہو جاتے ہیں، ان کے خیال میں ایسی باتیں اس امر کو ظاہر کرتی ہیں کہ عدلیہ ان کے دباؤ میں آ رہی ہے۔

جب اہل اقتدار خود ہی افواہیں اڑانے لگیں تو ان کا ایک مقصد ہوتا ہے، لوگ حیران ہیں کہ بیٹھے بٹھائے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے یہ افواہ کیوں اُڑائی کہ اسمبلی کو خطرہ ہے کیا خطرہ ہے، کیسے خطرہ ہے؟ کچھ نہیں بتایا ۔۔۔ یہ تو بجائے خود ایک سوچا سمجھا منصوبہ نظر آتا ہے جس کے تحت ملک میں یہ تاثر پیدا کرنا مقصود ہے کہ کوئی ایسی کھچڑی پک رہی ہے، جس کے ذریعے نظام کی بساط لپیٹنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔

اب ذرا اس نکتے پر غور کیجئے کہ اسپیکر ایاز صادق نے اپنے بیان میں اس بات کی نفی کی تھی کہ ملک میں مارشل لاء لگ سکتا ہے، گویا انہوں نے بالواسطہ طور پر سپریم کورٹ کی طرف اشارہ کیا تھا کہ تبدیلی وہاں سے آسکتی ہے۔

کیا یہ مسلم لیگ (ن) کے اس پلان کے مطابق نہیں کہ عدلیہ کو زیادہ سے زیادہ معتوب قرار دو ۔۔۔ ایسے میں اگر چیف جسٹس ثاقب نثار کو واشگاف الفاظ میں یہ کہنا پڑا کہ عدلیہ کسی خفیہ منصوبے کا حصہ نہیں، تو یہ کہہ کر انہوں نے کیا غلط کیا؟ انہوں نے تو ان چہ میگوئیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو قبل از وقت اسمبلیوں کے خاتمے اور طویل المدتی قومی حکومت بنانے کے سلسلے میں جاری ہیں اور جن کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ اہم کردار ادا کرے گی۔

مَیں جب بھی عدلیہ کی حمایت میں لکھتا ہوں تو سیاستدانوں کی طرح کچھ دوست بھی مجھے عدلیہ کا ماضی یاد دلانے لگ جاتے ہیں۔ وہ ماضی جس میں انہوں نے آمروں کو آئین کی چھتری فراہم کی اور خود بھی اس کے دیئے ہوئے حلف پر بیعت کرتے رہے۔

صاحبو! ہمارے ذہنوں میں اتنا جمود کیوں ہے؟ کیوں ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے، اب بھی وہی ہوگا گزشتہ دس برسوں سے فوج اور عدلیہ کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ جمہوریت کی طرف فوج نے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا حالانکہ کئی ایسے مواقع آئے کہ ٹرپل ون بریگیڈ بآسانی راولپنڈی اور اسلام آباد پر قبضہ کر سکتا تھا اور مٹھائیاں بانٹنے کے مناظر بھی نظر آنے تھے۔

اب جبکہ واضح طور پر یہ باب بند ہو گیا ہے تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عدلیہ کو زیر دام لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ سینئر ترین ججوں نے دیا۔

اب یہ عجیب بات کہی جا رہی ہے کہ فوج خود تو آنا نہیں چاہتی، عدلیہ پر دباؤ ڈال کر فیصلے کرا رہی ہے، کیوں کرا رہی ہے؟ نوازشریف کو منظر سے ہٹا کر کسی کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ ابھی تک ان کی حکومت چل رہی ہے اور ساری پالیسیاں بھی وہی ہیں، حتیٰ کہ ان کے حکم پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔

اگر واقعتاً نوازشریف کو ختم کرنا مقصود ہوتا تو سپریم کورٹ سے ہی پوری حکومت کے خلاف بھی فیصلہ حاصل کیا جا سکتا تھا کیونکہ بقول شخصے سپریم کورٹ سب کچھ تو فوج کے دباؤ پر کر رہی ہے ۔۔۔یہ ایسی احمقانہ بات ہے جسے سن کر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔

اب شنید ہے نوازشریف ملک واپس آنے کے بعد عدلیہ کے خلاف ایک بھرپور تحریک چلانے کا ارادہ باندھ چکے ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ عدلیہ انصاف کے لئے دو ترازو استعمال کر رہی ہے۔

ان کے لئے کچھ اور ہے، عمران خان کے لئے کچھ اور، وہ عدلیہ کا تختہ اُلٹا دینا چاہتے ہیں اور اضطراب اتنا ہے کہ انہیں یہ بات بھی بھول چکی ہے کہ اس طرح کے احتجاج سے سپریم کورٹ خود بھی چاہے تو انہیں کوئی ریلیف نہیں دے سکتی۔

یہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقعہ ہوگا کہ جب نوازشریف عدلیہ کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ ایک ایسی عدلیہ کے خلاف جو ملکی آئین کے مطابق کام کر رہی ہے اور جس کے بغیر ملک کا ریاستی ڈھانچہ ہی مکمل نہیں ہوتا۔ یہ کام تو کوئی عام آدمی بھی نہیں کرتا۔

جس کے خلاف جب تک مقدمہ پولیس میں ہو، اس کا احتجاج جاری رہتا ہے، مگر جونہی مقدمہ عدالت میں جاتا ہے، وہ احتجاج ختم کر کے عدلیہ سے انصاف مانگنے چلا جاتا ہے۔ نوازشریف کے پاس چونکہ اہل ہونے کا کوئی راستہ بچا ہی نہیں، اس لئے وہ دباؤ ڈال کر کسی این آر او کے لئے کوشاں ہیں ۔۔۔ ممکن ہے وہ اپنے نا اہل ہونے سے زیادہ ان نیب کیسوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہوں جو ان کے پورے خاندان کو لپیٹ چکے ہیں، تاہم جس راستے پر وہ چلنا چاہتے ہیں، وہ ان کے شایان شان نہیں۔ وہ ملک کو ایک بڑے بحران سے دو چار کرنا چاہتے ہیں، اس سے ان کے ہاتھ کیا آئے گا؟ اس کا جواب دینا مشکل ہے، البتہ کھونے کے لئے بہت کچھ پڑا ہے۔

میاں صاحب کو ماضی کی طرف دیکھنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے۔ ضروری نہیں کہ وہ وزیر اعظم بننے کے اہل ہی ہوں گے تو کچھ کر سکیں گے ۔۔۔ا گر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں عوام کو لیڈ کرنے کی صلاحیت ہے تو مثبت انداز میں انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔

جو کام وہ کرنے جا رہے ہیں، وہ تو پاکستان کو ایک گہرے انتشار میں دھکیل سکتا ہے۔ قومی اداروں کو نشانہ بنا کر کس طرح ملک کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے، مَیں نے زندگی میں سب سیاسی جماعتوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ان کے نظریات (گر کوئی تھے) تو ان کی ماہیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی، کچھ سیاسی جماعتوں سے وابستگی بھی رہی۔

خاص طور پر ذہنی ہم آہنگی کے باعث ان سے قربت بھی محسوس کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک چیز ذہن میں واضح ہوتی چلی گئی کہ سیاسی وابستگی کو قومی اداروں پر غالب نہیں آنا چاہئے۔

دوسرے لفظوں میں ریاست سے اوپر سیاست نہیں ہو سکتی، اسے بہر طور ریاست کے تابع ہی رہنا ہے۔ ہمارا مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ لیڈر ہوں یا کارکن، اگر کوئی فیصلہ یا کوئی کام ان کی مرضی و منشاء سے لگا نہ کھائے تو وہ پورے ادارے کو بیک زدِ قلم قابل نفرت قرار دے دیتے ہیں ۔

یہ گزشتہ ایک دو دہائیوں کا رجحان ہے، جو اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر طاقتور طبقے یہ چاہتے ہیں کہ ریاست ان کے پیروں تلے بچھ بچھ جائے۔

دنیا میں جو ریاستیں ایک با وقار طرز حکمرانی کی مثال بنی ہوئی ہیں، ان میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ وہاں اچھا لگے یا برا، ریاست کا فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ سو مَیں جب آج کے منظر نامے کو دیکھتا ہوں تو شعوری طور پر میرا جھکاؤ اپنے ریاستی اداروں کی طرف ہوتا ہے۔

خاص طور پر اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں تو مَیں اپنے ذہن کو دو رائے کرنا ہی نہیں چاہتا، کیونکہ اس سے انتثار کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ چیف جسٹس نے جو بھی کہا ہے، مَیں اس میں کیڑے نکالنے کی بجائے اسے من و عن تسلیم کرتا ہوں۔ مَیں عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہوں اور اس کو مہذب ریاست میں واحد راستہ سمجھتا ہوں۔

مزید : کالم


loading...