سیرتِ رسولؐ سے راہنمائی اور قائد اعظمؒ

سیرتِ رسولؐ سے راہنمائی اور قائد اعظمؒ
سیرتِ رسولؐ سے راہنمائی اور قائد اعظمؒ

  



اسلام کے ساتھ قائد اعظمؒ کی محبت اور شیفتگی ایک قدرتی بات تھی، کیونکہ وہ اول و آخر ایک مسلمان تھے۔ قائد اعظمؒ کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اپنے قابل فخر بھائی محمد علی جناحؒ کے بارے میں فرماتی ہیں: ’’قائد اعظمؒ کے مخالف ہمیشہ انہیں مغربی تہذیب کا دلدادہ سمجھتے تھے۔

ان کی خوش پوشی اور روانی سے انگریزی بولنے کی مہارت سے غلط اندازے لگاتے تھے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ قائد اعظمؒ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور انہیں اپنے مذہب سے والہانہ عقیدت تھی‘‘۔۔۔ قائد اعظمؒ کی یہی خوبی تھی کہ انگریز حکومت اور دوسری کوئی سیاسی طاقت بھی نہ تو انہیں خرید سکی اور نہ ہی ان کے نظریات بدل سکی۔۔۔اسلام اوربنی کریمؐ کی ذات سے قائد اعظمؒ کی بے پناہ محبت اور گہری عقیدت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جب طالب علم محمد علی جناحؒ نے بیرسٹری کی تعلیم کے لئے مختلف اداروں میں سے کسی ایک برطانوی ادارے کا انتخاب کرنا تھا تو انہوں نے ’’لنکنز اِن‘‘ میں داخلہ لینے کا فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا تھا، کیونکہ اس ادارے کی ایک دیوار پر دنیا کے عظیم قانون دینے والوں کے نام تحریر تھے اور ان میں سر فہرست حضرت محمدؐ کا نام مبارک تھا۔

قائد اعظمؒ نے کراچی میں بطور گورنر جنرل پاکستانی وکلا کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خود یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ ’’ایک مسلمان کی حیثیت سے میرے دل میں رسول اکرمؐ کی بے پناہ عزت تھی۔

ایک دن میں اتفاق سے ’’لِنکنز اِن‘‘ گیا تو میں نے اس ادارے کی ایک دیوار پر پیغمبر اسلامؐ کا نام مبارک لکھا ہوا دیکھا۔ عظیم قانون سازوں میں ہمارے نبی کریمؐ کا نام سب سے نمایاں تھا، اس لئے میں نے ’’لنکنزاِن‘‘ میں داخلے کا ارادہ کرلیا‘‘۔

قائد اعظمؒ ایک مسلمان کی حیثیت سے حضور نبی کریمؐ کی پاکیزہ سیرت و کردار اور اخلاق حسنہ سے بہت متاثر تھے۔ یوں تو نبی پاکؐ کی سیرت کا ہر پہلو ہی بے مثل اور قابلِ تقلید ہے، مگر قائد اعظمؒ کی زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ قائد اعظم نے اپنے پیارے رسولؐ کے ان اوصاف سے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا کہ حضرت محمدؐ کی زبان سے کبھی جھوٹی بات نہیں نکلی تھی۔

حضور نبی اکرمؐ کے منہ سے کبھی کسی نے غیر مہذب اور ناپسندیدہ الفاظ نہیں سنے تھے اور نہ ہی کبھی کسی ناپسندیدہ مجلس میں محمد مصطفیٰؐ بیٹھے تھے۔ قائد اعظمؒ کے نزدیک آنحضرتؐ ایک ہی وقت میں مصلح اعظم، کمانڈر انچیف، حکمران، منصف اور قوموں کی زندگی میں انقلاب پیدا کرنے والے تھے۔

قائد اعظمؒ بھی علامہ اقبالؒ کی طرح دین اور سیاست کو الگ الگ نہیں سمجھتے تھے، کیونکہ رسول کریمؐ کی ذات ان کے لئے رول ماڈل تھی۔ قائد اعظمؒ کے مختلف ارشادات کی روح یہ ہے کہ وہ سیاست، اقتصادیات اور سماجی شعبوں میں حضور نبی کریمؐ کی تعلیمات کو انقلاب آفرین اور اپنے لئے کامِل راہنما سمجھتے تھے۔ قائد اعظمؒ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ ’’حضوررحمتہ اللعالمینؐ کی تعلیم پکار پکار کر اپنی طرف بلارہی ہے۔ کاش کہ ہم اس آواز کو سن سکیں‘‘۔

عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔ حضور نبی کریمؐ محسن انسانیت ہیں اور تمام بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری نجات دہند۔ قائد اعظمؒ کو بھی عقیدۂ ختم نبوت کا پوری طرح ادراک تھا، چنانچہ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا کہ ’’حضور اکرمؐ کی بعثت سے قبل دنیا کے مختلف حصوں اور مختلف وقتوں کے لئے انبیائے کرام تشریف لاتے رہے۔

ان کی تعلیم عالمگیر نہیں تھی اور عالمگیر ہو بھی کیسے سکتی تھی، جبکہ انسانیت کو ارتقائی منازل طے کرنے میں ابھی بہت وقت درکار تھا۔ بالآخر ہمارے ہادی عالم ؐ کا ورودِ مقدس اس وقت ہوا، جب دنیا ایک ایسی منزل تک پہنچ چکی تھی، جہاں پر وہ حقائق ومعارف کے تمام امور کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

اسی لئے ہمارے پیغمبرِ آخر الزمانؐ کو رحمتہ اللعالمینؐ کے معزز لقب سے خالق اکبر نے سرفراز فرمایا‘‘۔۔۔قائد اعظمؒ مسئلہ ختم نبوت پر اتنا واضح موقف رکھتے تھے کہ اسلام کے اس اساسی اصول کو جو تسلیم نہیں کرتا تھا، قائد اعظمؒ اسے مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔

میں یہاں یہ واضح کردوں کہ قادیانیوں کو 1974ء میں پارلیمنٹ نے جو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ قادیانیوں کے بارے میں اس سے پہلے مسلمان قوم کی رائے مختلف تھی۔ قرآن و سنت کی روشنی میں تمام مسلمان اُمت کا گزشتہ 1439ء سال سے یہی عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی کریمؐ، حضور سرور عالمؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی شخص ہو، وہ کاذب، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قادیانی گروہ چونکہ ایک جھوٹے مدعئ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا بنی تسلیم کرتا ہے، اس لئے تمام عالمِ اسلام قادیانیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہے۔

قیام پاکستان سے پہلے بھی کوئی قادیانی آل انڈیا مسلم لیگ کا رکن نہیں بن سکتا تھا۔ مسلم لیگ کے ترجمان انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ میں 11جون 1944ء کو قائد اعظمؒ کا حسب ذیل بیان شائع ہوا تھا۔

’’میں نے دیکھا ہے کہ اخبارات کے بعض حلقوں میں اکبر علی ایم ایل اے کے ساتھ میری ملاقات کے ضمن میں بہت سے الجھاؤ پیدا کئے جارہے ہیں اور غلط ترجمانی ہورہی ہے۔

میں نے اپنی ملاقات میں ان پر واضح کردیا تھا کہ جہاں تک آل انڈیا مسلم لیگ کا تعلق ہے، ہم اپنے دستور کے تابع ہیں۔ مسلم لیگ کے دستور کے مطابق اس کی پرائمری شاخ کے لئے رکنیت کے امیدوار کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اس کا انڈیا کا باشندہ ہونا اور 18سال عمر ہونا بھی لازمی شرط ہے۔

یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے ناظم امور عامہ خارجہ، قادیان کے خط موصول ہونے کے بعد کسی ایسی بات سے اتفاق کیا ہے کہ پارٹی دستور سے انحراف کرنا میرے اختیار میں ہے۔ میں نے تو اپنے 5مئی 1944ء کے خط میں اپنے موقف کی وضاحت کردی تھی‘‘۔

قائد اعظمؒ اگر مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن مجید اور احادیثِ رسولؐ میں موجود تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہ نہ ہوتے تو وہ مسلم لیگ کے دستور کے مطابق کبھی یہ وضاحت نہ کرتے کہ قادیانی مسلم لیگ کا ممبر نہیں ہوسکتا، کیونکہ مسلم لیگ کی رکنیت کے لئے مسلمان ہونا ضروری تھا۔

قائداعظم نے اپنی تقاریر میں متعدد بار قرآن و سنت سے راہنمائی لینے کی بات کی تھی۔ رسول کریمؐ پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری کتاب کو قائد اعظم ایک مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے تھے۔ دین اسلام کو کامل و اکمل سمجھنا اور قرآن مجید کو مکمل ضابطۂ حیات تسلیم کرنا مسلمان ہونے کی لازمی شرط ہے اور یہ شرط عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان لانے ہی سے پوری ہوتی ہے۔

اگر کوئی شخص عقیدۂ ختم نبوت کو نہیں مانتا تو پھر وہ اسلام کو مکمل دین اور قرآن کریم کو مکمل ضابطۂ حیات بھی نہیں مانتا۔ جہاں تک قائد اعظمؒ کا تعلق ہے ان کا ذہن اور تصور قرآن کریم کے مکمل ضابطۂ حیات ہونے کی نسبت بالکل واضح تھا۔ دینی امور ہوں یا سیاسی، معاشی اور معاشرتی معاملات، قائد اعظم قرآن کریم کو مسلمانوں کے لئے مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے۔

قائد اعظم نے اپنی ایک تقریر میں رسول اکرمؐ کے اس فرمان کا بھی حوالہ دیا تھا کہ ’’ہر مسلمان کے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ ہونا چاہئے تاکہ وہ اس کی روشنی میں خود اپنی راہنمائی کر سکے‘‘۔۔۔تحریک پاکستان کی کامیابی کے لئے مسلمانوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا بہت ضروری تھا اور قائد اعظم اس مقصد کے لئے سیرت رسولؐ کا حوالہ دیتے تھے۔

قائد اعظم کی تقریر کا اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں: ’’تیرہ سو سال قبل ہمارے رسولؐ نے جب دین اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس وقت ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔

بیس برس میں رسول اکرمؐ نے نہ صرف اسلام کو عرب، مصر اور یورپ تک پھیلا دیا، بلکہ ان علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ اگر ایک واحد مسلمان یہ کر سکتا ہے تو 9 کروڑ مسلمان کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ جب کبھی مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو وہ دوسرے مسلمانوں سے پہنچا، چنانچہ میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ متحد ہو جائیں تو دنیا میں کوئی طاقت مسلمانوں کو نہیں دبا سکتی‘‘۔۔۔

قائد اعظم نے اپنی ایک اور تقریر میں بھی اتحاد کا درس دیتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ ’’اس وقت میدانِ سیاست میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جنگ ہو رہی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کون فتح یاب ہو گا؟ غیب کا علم خدا کو ہے، لیکن میں ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ قرآن مجید کو اپنا قطعی اور آخری راہنما تسلیم کر کے صبر و رضا کا مظاہرہ کریں اور اس ارشاد خداوندی کو کبھی فراموش نہ کریں کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت، بلکہ کئی طاقتوں کا مجموعہ بھی مغلوب نہیں کر سکتا‘‘۔۔۔

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں‘‘۔۔۔ یہ تعلیماتِ محمدیؐ کی روح ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ہمیں حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی سرزمین تک ایک ہونے کی دعوت دی تھی۔ قائد اعظمؒ جب ہندوستان میں مقیم مسلمانوں اور ان کی قوم کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے تھے تو وہ ثقافتِ اسلامی اور تعلیماتِ محمدیؐ کے احیاء پر زور دیتے تھے۔ان دنوں بعض سیاست دان بالخصوص پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے مذہب اور سیاست کے گٹھ جوڑ پر بڑی سخت تنقید ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کو ابھی تک کسی جلسے میں زبانی تقریر کرتے ہوئے کم از کم میں نے نہیں دیکھا۔ دین اسلام اور سیاست کا آپس میں جو رشتہ و پیوند ہے، اس کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ تو ایک طرف رہا، میرے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کا اس حوالے سے سطحی سا مطالعہ بھی نہیں ہوگا۔ جو کچھ بلاول کے سیاسی اتالیق ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، بلاول رومن اردو کے جلی حروف میں لکھی ہوئی وہی تقریر کر دیتے ہیں۔

بلاول کو قیام پاکستان اور اس کے پس منظر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار و خیالات کا انہیں علم ہونا چاہئے۔ اس کے بعد جس پارٹی کے وہ چیئرمین ہیں، اس جماعت کے بانی اور اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں 1973ء میں پاکستان کا جو دستور ترتیب دیا گیا اور منظور کیا گیا تھا،اس کا مطالعہ بھی بلاول کو بار بار کرنا چاہئے۔

بلاول آئندہ الیکشن میں قومی اسمبلی کے لئے امیدوار بھی ہوں گے۔ وہ وزارت عظمیٰ تک کا بھی خواب دیکھ رہے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے رکن کو منتخب ہونے کے بعد یہ حلف بھی دینا ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظریے کا تحفظ کرے گا جو پاکستان کی بنیاد ہے۔

قرارداد مقاصد دستور پاکستان کا مستقل حصہ ہے۔ کیا بلاول نے وہ قرارداد مقاصد پڑھی ہے؟ پاکستان میں جمہور کے منتخب نمائندوں کو اپنے اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا ہے۔ حکمران طبقے کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت، مساوات اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر اسلام کی تشریح کے مطابق عمل کریں۔

حکومت کی یہ بھی دستوری ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل کو اس قابل بنایا جائے کہ مسلمان اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ جب مسلمانان پاکستان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن حکیم اور سنتِ رسولؐ پر عمل کیا جائے گا تو کیا اسے سیاست اور دین کا گٹھ جوڑ کہا جائے گا؟۔۔۔ سیاست تو اسلام کا ایک جزو ہے، اگر امور سلطنت اور کاروبار حکومت کو قرآن و سنت کے احکامات کے تابع کر دیا جائے تو اس پر ایک مسلمان کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اسلام نے حکومت کرنے کا جو لائحہ عمل دیا ہے، اس سے بہتر لائحہ عمل اور کیا ہو سکتا ہے؟

مزید : کالم