۔۔۔کابل کی نسبت اسلام آباد آسان ٹارگٹ ہے؟

۔۔۔کابل کی نسبت اسلام آباد آسان ٹارگٹ ہے؟
 ۔۔۔کابل کی نسبت اسلام آباد آسان ٹارگٹ ہے؟

  



کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر مُلک ہے جس کا لغوی اور مرادی معنی یہی لیا جاتا ہے کہ پاکستان مسلسل ترقی کی راہوں پر گامزن ایک ریاست ہے۔ اس خیال کی تائید ان حقائق سے بھی ہوتی ہے کہ پاکستان کی تینوں افواج رفتہ رفتہ ترقی کر رہی ہیں، خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، ہم نے جوہری دھماکے بھی کر دیئے ہیں، انٹرمیڈیٹ سطح کے بلاسٹک میزائل بھی بنا چکے ہیں اور ہماری دفاعی صنعت بھی بتدریج پروان چڑھ رہی ہے۔

لیکن یہ سب کچھ گزشتہ پون صدی کی ان کوششوں کا ثمر خیال کیا جاتا ہے جسے ہم ترقی پذیر ریاست کے تصور کا لیبل اپنے سینے سے چِپکا کر مطمئن ہیں اور بے فکری کی نیند سو رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آیا کوئی مُلک سات عشروں تک ترقی پذیر ہونے کے حصار سے باہر بھی نکل سکتا ہے یا نہیں۔ہمارے دیکھتے دیکھتے بہت سے ممالک ہیں جو کبھی ہماری طرح ترقی پذیر کہلاتے تھے، لیکن آج وہ ترقی یافتہ کہلانے کی سطح پر آ چکے ہیں۔ نام لینے کی ضرورت نہیں۔

سب جانتے ہیں کہ ہمارے دائیں بائیں اور اوپر شمال میں واقع کئی ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں یا نکلے جا رہے ہیں۔ لیکن پاکستان ہے کہ ابھی تک ترقی پذیری کی سرحدوں سے باہر نہیں نکل رہا۔بلکہ مَیں تو یہاں تک کہنے میں شائد حق بجانب ہوں گا کہ ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

ہمارے وہ صنعتی، زرعی، تعلیمی اور دوسرے بہت سے قومی سطح کے ادارے جن کو اب تک ترقی یافتہ ہو جانا چاہئے تھا وہ ترقی پذیر ہونے کے لیول سے بھی نیچے اُتر کر غیر ترقی یافتہ اداروں کی صف میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ گڈگورننس نام کی کوئی چیز گزشتہ کئی عشروں سے ناپید ہے اور ہم دن بدن اپنی اس انحطاط پذیری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مجھے معلوم نہیں کتنے پاکستانیوں نے اس خبر کا نوٹس لیا ہے جو تین روز پہلے امریکی وزیر خارجہ نے ببانگ دہل کہہ دی ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ کیا کسی جوہری اہلیت اور میزائلی صلاحیت کے حامل مُلک کو کوئی امریکی یہ کہہ سکتا ہے کہ:’’پاکستان بہت جلد دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے علاقے گنوا بیٹھے گا۔‘‘۔۔۔ اگر یقین نہ ہو تو15دسمبر2017ء کا پرنٹ میڈیا اُٹھا کر دیکھ لیں۔

اس میں واشنگٹن کے تھنک ٹینکوں نے بشارت دے رکھی ہے کہ وہ دہشت گرد جن کی منزلِ مقصود پہلے کابل تھی وہ اب سوچ رہے ہیں کہ کابل کی جگہ اسلام آباد زیادہ آسان اور قابلِ حصول ٹارگٹ ہے۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!

یہ بشارت امریکی وزارتِ دفاع کی اُس وارننگ سے پھوٹی ہے جس میں بڑی وضاحت سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی سٹرٹیجی اب تبدیل ہو چکی ہے، کیونکہ افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس وغیرہ اب میدانِ جنگ میں جیت رہی ہیں اور دہشت گرد پسپا ہو ہے ہیں۔

دہشت گردوں کی پسپائی کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ پاکستان بلواسطہ (Indirectly) پسپا ہو رہا ہے۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کو اب ایک سال پورا ہونے والا ہے۔ پاکستان کو یہ انتظامیہ کئی بار ہر سطح پر وارننگ دے چکی ہے کہ اگر اس نے ’’ڈو مور‘‘ نہ کیا اور اپنے فاٹا سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہ کئے تو یہ دہشت گرد گروپ کابل کی بجائے اسلام آباد کا رُخ کر لیں گے!۔۔۔ امریکی وزیر خارجہ کی یہ منطق خالی از علت نہیں۔

اگست2017ء میں صدر ٹرمپ نے جس نئی افغان حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اس کی رو سے امریکی بوٹ، پاکستان میں آ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ افغان فورسز، دہشت گردوں کا بہروپ بھر کر امریکی فورسز کی چھتر چھاؤں میں اسلام آباد تک جا سکتی ہیں!۔۔۔ پاکستان کو خوب معلوم ہے کہ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز (آرمی، ایئر فورس،پولیس) کی اوقات کیا ہے؟ لیکن جب امریکی وزارتِ خارجہ ان ’’افغان فورسز‘‘ کو اسلام آباد پر قبضہ کرنے کی اہل بنا رہی ہے تو پاکستان اتنا ’’کاکا‘‘ نہیں کہ اس دھمکی کا مالہ وما علیہ نہ سمجھ سکے۔۔۔۔ امریکہ ایک عرصے سے ’’حقانی گروپ‘‘ کا نام لے کر اپنا سٹرٹیجک ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا ہے اور پاکستان بار بار کہتا آ رہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر کوئی حقانی یا ’’غیر حقانی‘‘ دہشت گرد گروپ موجود نہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا ایک طویل عرصے سے داخلی سیاسیات کے گورکھ دھندے میں اُلجھا ہوا ہے۔ ہفتے کے روز(16دسمبر2017ء کو) لاہور میں پاکستان کے چیف جسٹس کا یہ بیان کہ ’’مَیں تو ایک طرح سے نواز شریف، عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیسز میں پھنسا ہوا ہوں‘‘ پاکستانی قوم کی سائیکی کی طرف ایک ایسا واضح اشارہ ہے جس کا مفہوم وہی ہے جو مَیں نے اوپر عرض کیا کہ پاکستان داخلی سیاسیات کے خار زار میں اتنی بری طرح گرفتار ہے کہ اسے خارجی سیاسیات کی طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں۔

وگرنہ کیا کسی ٹلرسن کا یہ بیان ہم پاکستانیوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ :’’پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے ساتھ اپنے روابط تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ روابط جو ایک عشرہ پہلے قائم کئے گئے تھے وہ اس وقت شاید بلاجواز نہ تھے،تب ان کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وہ روابط تبدیل کئے جائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور یہ روابط تبدیل نہ کئے گئے تو پاکستان اپنے مُلک کو اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھے گا!‘‘۔۔۔ کیا اس دریدہ دہن بیان کے بعد اس دھمکی کا مفہوم نہ سمجھنے کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ امریکہ کے عزائم پاکستان کے بارے میں آنے والے ایام میں کیا ہیں؟۔۔۔ کیا ایسے حالات میں ہمارے میڈیا ، سول سوسائٹی اور دوسرے حکومتی اداروں کو چپ سادھ لینی چاہئے؟

پچھلے دو ہفتوں سےARYچینل پر جمعرات کے روز رات10بجے سے لے کر 11بجے تک کے سلاٹ میں ایک پروگرام نشر کیا جا رہا ہے۔اس کی تیسری قسط تین روز بعد 20 دسمبر2017ء کو نشر ہو گی۔ اس پروگرام میں اسی زیر بحث موضوع پر پاکستان کا موقف واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان۔امریکہ تعلقات کا جو تجزیہ اس پروگرام کی وساطت سے کیا جا رہا ہے وہ پبلک کو یہ بتانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے کہ امریکہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے اور اب کر رہا ہے اور اس کے جواب میں پاکستان کیا کرتا رہا ہے اور اب کیا کر رہا ہے۔ کئی سینئر ریٹائرڈ فوجی آفیسرز(جنرل احسان، جنرل طارق خان، جنرل اعوان، ائر مارشل شاہد لطیف، جنرل امجد شعیب اور دوسرے) ماضی کی اس تاریخ کو کرید رہے ہیں جو پاک امریکہ تعلقات کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالتی ہے اور یہ حقیقت بڑے واضح انداز میں الم نشرح کی جا رہی ہے کہ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت گزشتہ چار عشروں میں امریکی عزائم سے بے خبر ہے یا امریکی کارستانیوں، فریب کاریوں،دوغلی پالیسیوں اور ایک چہرے پر کئی چہرے سجانے کی ارادی کوششوں سے ناواقف ہے تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہے۔

امریکی اربابِ اختیار خود بار بار تسلیم کرتے آئے ہیں کہ گزشتہ چار عشروں (از دسمبر1979ء تا حال) میں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ خود غرضی، ریا کاری اور طوطا چشمی کا ننگا ثبوت ہے۔ پاکستان نے اگر اپنے70 ہزار شہریوں کی قربانی دے کر بھی امریکیوں سے یہی بشارت سننی ہے کہ ’’دہشت گرد‘‘ اب کابل کی بجائے اسلام آباد کو آسان ٹارگٹ خیال کرتے ہیں تو پاکستان کے پاس ’’تخت یا تختہ‘‘ کے سوا دوسری کون سی آپشن باقی رہ جاتی ہے؟

مجھے6دسمبر2017ء کو اپنے ائر چیف، سہیل امان کا یہ بیان یاد آ رہا ہے:’’پاک فضائیہ کو احکام دیئے جا چکے ہیں کہ اگر کوئی ڈرون خواہ وہ امریکی ڈرون ہی کیوں نہ ہو، مُلک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے تو اسے فی الفور مار گرایا جائے۔‘‘۔۔۔ وہ اسلام آباد میں ماضئ قریب میں کامرہ ائر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کا ذکر کر رہے تھے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ سانحہ پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک بدترین سانحہ تھا۔ لیکن یہ بھی کہا کہ ایسے سانحات دُنیا کی دوسری ائر فورسز کی تاریخ میں پیش آتے رہے ہیں اور مزید کہا کہ اس کے بعد پاک فضائیہ پہلے سے کہیں طاقتور ہو کر ابھری ہے اور آج وہ ہر فضائی چیلنج کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کامرہ پر اس حملے میں پاکستان کا ایکSAB طیارہ بالکل تباہ ہوگیا تھا اور دوسرے کو خاصا نقصان پہنچا تھا،لیکن اس نقصان کو پاک فضائیہ نے اپنے وسائل اور تکنیکی اہلیت سے پورا کیا اور اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ آج پاکستان اپنے فائٹر جیٹ خود بنا رہا ہے۔ضربِ عضب میں پاک فضائیہ نے پاک آرمی کو جس طرح گراؤنڈ سپورٹ فراہم کی، اس کا اعتراف دُنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔

جو لوگ ان مشکلات سے آگاہ ہیں جو کسی بھی فضائیہ کو شمالی وزیرستان یا خیبر ایجنسی جیسی ٹیرین میں پیش آتی ہیں ان سے پوچھ کر دیکھیں تو آپ کو پاکستان کی کارکردگی کا معیار معلوم ہو جائے گا ۔

میرے خیال میں ائر چیف کا یہ بیان محض پاکستانی پبلک کا مورال بلند کرنے کے لئے نہیں دیا گیا بلکہ اس میں امریکی فضائیہ کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کسی امریکی طیارے یا ڈرون نے ہماری سرحد کی خلاف ورزی کی تو پاک فضایہ ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو گی۔

یہ بیان اس بات کا غماز بھی ہے کہ امریکہ جیسی کسی سپر پاور نے پاکستان پر اگر جارحیت کی تو اس جنگ میں پاکستان اکیلا نہیں رہے گا۔یہ بیان نہایت سوچ سمجھ کر دیا گیا ہو گا اور امریکی بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ ٹلرسن نے جو دھمکی دی ہے اس کو اگر عملی جامہ پہنانے کی بلنڈر کی گئی تو پاکستان ایک ایسا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے جس کے ڈانڈے شائد ایک بڑی عالمی جنگ سے جا ملیں۔۔۔ اِس لئے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کو پاکستان کے خلاف اپنی اِس سوچ سے احتراز کرنا ہوگا جو وہ گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے مسلمان ممالک کے بارے میں رکھ کر خود کو ناقابلِ شکست سمجھ رہی ہے۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ دُنیا کی ہر بڑی جنگ کے شعلے صرف ایک معمولی سی چنگاری سے بھڑکے تھے!

مزید : کالم


loading...