اسحاق ڈار کےخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں4 گواہوں کے بیان قلمبند،سماعت 21 دسمبر تک ملتوی

اسحاق ڈار کےخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں4 گواہوں کے بیان قلمبند،سماعت 21 دسمبر ...
اسحاق ڈار کےخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں4 گواہوں کے بیان قلمبند،سماعت 21 دسمبر تک ملتوی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں 4 گواہوں نے بیان قلمبند کرا دیئے،تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمات کی سماعت کی۔

عمران خان کے قافلے پر حملے کے وقت کی ویڈیو سامنے آگئی

نجی بینک کے افسر فیصل شہزاد نے بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرادیااوراسحاق ڈارکے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں، جبکہ ڈائریکٹر قومی اسمبلی شیر دل خان نے بیانات قلمبند کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار این اے 95 لاہور سے1993میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور16 دسمبر 1993 کوقومی اسمبلی کی رکنیت کاحلف اٹھایا،گواہ شیر دل خان نے بتایا کہ اسحاق ڈار 4 نومبر 1996 تک رکن قومی اسمبلی رہے،رکن قومی اسمبلی بننے والے کوتنخواہ کی ادائیگی شروع ہو جاتی ہے،1993 میں اسحاق ڈار 14 ہزار روپے ماہوار تنخواہ لیتے تھے، گواہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار دوسری مرتبہ این اے 97سے رکن منتخب ہوئے، 15جنوری97کو حلف اٹھایا،اسحاق ڈار 5 فروری 1997 کو وزیر بن گئے۔

استغاثہ کے تیسرے گواہ ڈائریکٹر منسٹری آف کامرس قمر زمان نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 25جون 1997 کو اسحاق ڈار بورڈ آف انویسٹمنٹ کے انچارج مقرر ہوئے،11جولائی 1997کو اسحاق کو وزرات تجارت کا قلمدان سونپا گیا،16اکتوبر 1999کو نواز شریف کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا،16اکتوبر 1999 کو اسحاق ڈار سمیت کابینہ کو کام سے روک دیا گیا،گواہ قمرزمان نے بتایا کہ 31ماچ 2008کواسحاق ڈارکابطوروزیرخزانہ،ریونیواکنامک افیئرز،شماریات کانوٹیفکیشن جاری ہوا،13ستمبر 2008کو اسحاق ڈار کا بطور وزیر استعفیٰ قبول کیا گیا۔

عدالت نے استغاثہ کے گواہ ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویژن واصف حسین کا بیان بھی قلم بند کرلیا جبکہ برطرف ڈائریکٹر نادرا قابوس عزیزکا بیان اگلی سماعت 21 دسمبر کو ریکارڈ کیا جائے گا۔

دوران سماعت نیب کے تفتیشی افسر نے اسحاق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کی جائیداد قرقی کے حوالے سے جمع کرادیا،تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ضامن کی جائیدادقرقی کےلئے حکام کوخطوط لکھ دیئے،جن کے جواب تاحال موصول نہیں ہوئے،تفتیشی افسرنے کہا کہ جیسے ہی جواب موصول ہوں گے عدالت کوآگاہ کردیاجائے گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...