1263میگاواٹ کے پنجاب گیس پاور پلانٹ کا سنگِ بنیاد

1263میگاواٹ کے پنجاب گیس پاور پلانٹ کا سنگِ بنیاد

  



حکومت نے حال ہی میں ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے اور پاکستانی عوام کو ایک قلیل عرصہ کے بعد ایسی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ امید ہے کہ جلد پاکستان میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہو سکے گی اور اندھیروں سے روشنی کا سفر اپنی منفرد منزل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔ اسی سفر کی ایک کڑی کے حوالے سے کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جھنگ کے قریب حویلی بہادر شاہ میں 1263میگاواٹ کے پنجاب گیس پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اوریہ منصوبہ 26ماہ میں مکمل ہوگا۔اس کے پہلے مرحلے میں 810 میگاواٹ بجلی 14ماہ میں حاصل ہوگی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی انتھک محنت اور دن رات کی کاوشوں کے باعث ملک سے ہمیشہ کیلئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگیاہے ۔توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک کی صنعتوں،کھیتوں، سکولوں، ہسپتالوں،دفاتر اور گھروں کو بجلی مل رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گیس کی بنیاد پر 3600میگاواٹ کے منصوبے لگائے ہیں اوراب پنجاب حکومت 1263میگاوا ٹ کا ایک اور گیس پاور پلانٹ لگارہی ہے اوریہ منصوبہ پہلے لگائے گئے منصوبوں سے 10ارب روپے کم لاگت میں لگایا جارہا ہے ۔ کامیابی کے اس سفر میں چین کا کردار قابل تحسین ہے، کیونکہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا ایک عظیم سفر اپریل 2015ء سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔اس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا اور اس کے بعد چین کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ اس اجلاس میں نمایاں بات یہ تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے وسائل سے گیس کی بنیاد پر 3600میگا واٹ منصوبے لگانے کی تجویز دی، جس کی کابینہ کے اراکین ،بیوروکریسی اوراجلاس میں موجود ہر شخص نے مخالفت کی ۔سب کی رائے تھی کہ سی پیک کی موجودگی میں پاکستان کی اپنی سرمایہ کاری نہیں ہونی چاہئے،جبکہ نواز شریف نے شہباز شریف کی تجویز سے اتفاق کیا اورگیس کی بنیاد پر اپنے وسائل سے یہ منصوبے لگانے کا دانشمندانہ اور جرأت مندانہ فیصلہ کیا ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اڑھائی سال پہلے جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا وہ اتنی تیزرفتاری سے مکمل ہوں گے، لیکن پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے یہ تاریخی کارنامہ کردکھایا ہے ۔توانائی کے ان منصوبوں کی تکمیل سے جس محنت اورعزم کے ساتھ کام کیاگیا ہے اس کی تا ریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔پاکستان اورپنجاب حکومت نے قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔اس کے ساتھ چین کا ذکر بھی ضروری ہے، جس نے ہر قدم پر پاکستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے متعدد پراجیکٹس میں نمایاں کردار ادا کیا ہے بلکہ اگر چین کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاید یہ اہداف حاصل نہ ہوپاتے۔ چین نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ہاتھ تھام کر اس کہاوت کو درست ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی شہد سے میٹھی، سمندر سے گہری،فولاد سے زیادہ مضبوط اورہمالیہ سے بلند ہے۔چین ہمارا ایسا مخلص دوست ہے جس نے برے وقت میں ہمارا ہاتھ تھاما ہے۔اگرچہ سعودی عرب اور ترکی بھی ہمارے بہترین اور اچھے دوست ہیں،جنہوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہمارا ساتھ نبھایا ہے۔امن اورجنگ میں مالی ،سیاسی اور سفارتی تعاون کیا ہے،لیکن چین کی دوستی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے ،عسکری اور معاشی لحاظ سے چین ایک بڑی طاقت ہے اورچین کے تعاون سے ہم لوڈشیڈنگ کے جن کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اب بجلی آگئی ہے جس پر ہم خوش ہیں، لیکن ہمیں چین کے تعاون کو کبھی نہیں بھولنا۔چین کی سچے وعدوں،خیالات ،دوستی اورہمدردی کی کہانی کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا عظیم دن ہے جب جھنگ کے قریب حویلی بہادرشاہ میں 1263میگاواٹ کے ایک اور گیس پاورپلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس سال کے آخر یا اگلے سال جنوری فروری میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبوں سے پوری 3600میگاواٹ بجلی مہیا ہورہی ہو گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میڈیا میں بعض لوگ ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں،میڈیا کو عوام کے سامنے حقائق اورسچی باتیں بھی رکھنی چاہئیں اورقوم کی تقدیر بدلنے والے ان عظیم منصوبوں کے بارے میں بھی عوام کو آگاہی دینی چاہیے جو ریکارڈ مدت میں مکمل کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے توانائی کے جو منصوبے لگائے ہیں ماضی میں ایسے منصوبے دگنی لاگت پر لگائے گئے ہیں اورہم نے جس رفتار اورشفافیت سے ان منصوبوں کو مکمل کیا ہے یہ ایک دن ضرور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈمیں درج ہوں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں بدترین ڈاکہ زنی ہوئی ہے ،یہ منصوبہ تین سال تک کراچی کی بندرگاہ پر گلتا سڑہتا رہا۔سپریم کورٹ کے جج کا فیصلہ تھا کہ بابر اعوان نے اس میں خیانت کی اورانہوں نے انہیں اس منصوبے کی تباہی کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے نیب کو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی۔اس منصوبے میں غریب قوم کے اربوں روپے لوٹے گئے۔کوئی ہے جو نندی پور میں کی گئی لوٹ مار کی تحقیق کرے؟نندی پور پاور پراجیکٹ کے منصوبے میں اس زمانے کی حکومت نے بڈنگ نہ کرائی اور50ارب روپے کا یہ منصوبہ بغیر ٹینڈرنگ کے ایوارڈ کیا گیا۔اس سے بڑا سکینڈل اورکرپشن کا مینار کوئی اور ہونہیں سکتا۔چیچو کی ملیاں سابق حکمرانوں کی کرپشن کی ایک اورمثال ہے ،یہاں 500میگاواٹ کا منصوبہ لگانے کے لئے دس سال قبل ایک کمپنی کو اڑھائی ارب روپے ایڈوانس دے دےئے گئے اور آج تک اس منصوبے کی ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔آج احتساب کی بات ہوتی ہے ۔پہلے یہ لوگ اپنے گریبانوں میں جھانکیں اورپھر بات کریں ۔رینٹل پاور پراجیکٹ میں بھی غریب قوم کا پیسہ لوٹا گیا۔زرداری صاحب نے غریب قوم کے 60ملین ڈالر لوٹ کر سوئس بینکوں میں رکھوائے اورسرے محل خریدا۔کون اس کا حساب لے گا؟بابر اعوان کو عدالت عظمیٰ نے نندی پور منصوبے میں کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرایا،ان سے کون حساب لے گا؟پنجاب کی 56نہیں بلکہ 56ہزار کمپنیوں کا جائزہ لیں تو خوشی ہوگی۔نیازی صاحب نے اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں 22ماہ تاخیر کر کے قوم کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے ۔پرانے شراب کو نئی بوتل میں بند کرنے کا وقت چلا گیا۔ قوم باشعور ہے اورجانتی ہے کہ نیازی صاحب نے میٹروٹرین کے منصوبے کو 22ماہ تک التواء میں ڈال کر غریب قوم سے انتقال لیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ غریب عوام کے منصوبوں کی مخالفت اسی لئے کی ہے کہ غریب انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ان تمام باتوں کے بعد کچھ حقائق قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت اورپنجاب نے اپنے وسائل سے بجلی کے کارخانے لگائے ہیں۔ پنجاب حکومت نے 1180 میگاواٹ کاگیس پاور پلانٹ لگایا ہے جبکہ بہاولپور میں 400میگاواٹ کے شمسی بجلی گھر لگائے گئے ہیں۔سی پیک کے تحت ساہیوال میں1320میگاواٹ کا کول پاور پلانٹ لگایا گیا ہے۔یہ پیسہ پنجاب حکومت کا ہے لیکن اس سے جو بجلی پیدا ہوگی وہ پاکستان کو ملے گی۔ کسانوں کو بلاسود قرضے اورسستی کھادیں دی جارہی ہیں ،عوام کو معیاری ٹرانسپورٹ دی گئی ہے،بیمار معیشت کو بحال کیاگیا ہے۔پنجاب میں لوڈ شیڈنگ اور گیس کی قلت کے باعث صنعتیں بند ہورہی تھیں اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہوچکے تھے ۔اس مسئلے کو سی سی آئی کے ا جلاسوں میں اٹھایا گیا۔بجلی اور گیس کی کمی کے باعث برآمدی آرڈر منسوخ ہوئے۔ ان تمام ایشوز کے حل کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے آواز اٹھانے کے لئے مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگایا تھااورمطالبہ کیا تھا کہ واپڈا سے کراچی کو جو 700 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے، پنجاب کے حال پر بھی رحم کیا جائے اور اس بجلی میں سے پنجاب ،بلوچستان اورکے پی کے کو بھی حصہ ملنا چاہئے۔سی سی آئی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ 350 میگاواٹ بجلی پنجاب کو ملے گی لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا اور سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سٹے آرڈرلے لیا جو ایک غیر قانونی عمل تھا۔ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے پنجاب میں بجلی کے کارخانے لگائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی تقدیر بدلنے کے لئے خود اُٹھ کھڑی ہو تو کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔ محنت، امانت ،دیانت اورانتھک جدوجہد کامیابی کاراستہ ہے اورہمیں اس راستے پر چل کر ملک وقوم کی تقدیر بدلنا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے توانائی منصوبوں کی تکمیل کے لئے بے مثال کردارادا کیا ہے ۔اگر شہبازشریف کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاید کوئی منصوبہ مکمل نہ ہوتا اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس شہبازشریف کی قیادت میں زبردست ٹیم موجود ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...