پنجاب میں انڈسٹری کو سسٹم گیس کی بندش کیوں؟

پنجاب میں انڈسٹری کو سسٹم گیس کی بندش کیوں؟

  



یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پنجاب میں صنعتی پہیہ نومبر2007سے پھنس پھنس کر چل رہا ہے جب راولپنڈی میں دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کو دن دیہاڑے گولی مار کر شہید کیا گیا ۔ اس شہادت کے فوراً بعد ملک بھر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ، نیشنل ہائی ویز کی بندش سے پنجاب میں قائم بجلی کے کارخانوں کو فرنس آئل کی فراہمی میں تعطل سے پورا پنجاب اندھیرے میں ایسا ڈوبا کہ اگلے دس برس یعنی 2017تک دوبارہ سے روشنیاں بحال نہ ہو سکیں اور ملیں بھرپور انداز میں پیداواری صلاحیت کا اظہار نہ کر سکیں۔ اس دوران پنجاب بھر میں سینکڑوں ملیں بند ہو گئیں جبکہ کاٹیج انڈسٹری کا تو بھٹہ ہی بیٹھ گیا ۔ حال ہی میں فیصل آباد میں پاور لومز کو تول کر بیچنے کے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملے اور ملک بھر سے ایس ایم ایز یعنی درمیانے درجے کے کاروبار تو بالکل ہی ڈوب گئے۔

اس ابتر صورت حال سے مزدور طبقہ براہ راست متاثر ہوا اور ملک بھر میں عمومی طور پر جبکہ صوبہ پنجاب میں خاص طور پر بیروزگاری کا راج عام ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2013کے عام انتخابات میں عوام نے ایک شعوری فیصلہ کرتے ہوئے نون لیگ کو پنجاب بھر سے بیلٹ باکس بھر بھر کر ووٹ دیئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بجلی کے بحران سے ان کی جان ایک یہی پارٹی ہی چھڑا سکتی ہے ۔ آج 2017میں وفاقی وزیر برائے بجلی اویس لغاری نے اعلان کیا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار مطلوبہ ڈیمانڈ سے بڑھ گئی ہے ۔

نومبر2007میں جب بجلی کا بحران عام ہوا تو پنجاب بھر کی صنعتوں، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری ، میں بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ نصب کیے گئے تاکہ لوڈشیڈنگ کے دوران یہ کارخانے ازخود بجلی پیدا کرکے اپنی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھ سکیں۔ 2008سے 2013کے دوران عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں اور اس سارے عرصے میں ٹیکسٹائل ملوں نے مہنگا فرنس آئل خرید کر بجلی پیدا کی ۔ تاہم اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ملوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو ازخودبجلی پیدا کرنے کی سکت نہ رکھتی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایک کرکے بند ہو گئیں۔ البتہ وہ ملیں جو اتنی مالی سکت رکھتی تھیں کہ ازخود بجلی پیداکرلیں ، وہ اس عمل کوجاری رکھ کر اپنے وجود کو برقرار کھنے میں کامیاب رہیں اور آج تک اس عمل میں مصروف ہیں۔

نون لیگ کی حکومت کی جانب سے جہاں ملک بھر میں ، خاص طور پر پنجاب میں بجلی کے کارخانے لگا کر بجلی کی کمی کو پورا کیا وہیں پر قطر سے ایل این جی امپورٹ کرنے کا سامان کرکے فیول امپورٹ کے بل میں خاطر خواہ کمی بھی یقینی بنائی ہے۔ ایل این جی کو جہاں حکومتی سرپرستی میں چلنے والے بجلی کے کارخانوں میں استعمال کیا جا رہا ہے وہیں پر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں چلنے والے بجلی کے کارخانوں کے لئے بھی اس کی سپلائی یقینی بنا کر اس صنعت کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مبرا قرار دے دیا۔

تاہم اس پورے عمل میں ایک بڑی قباحت یہ تھی کہ وہ ٹیکسٹائل ملیں جو کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں قائم تھیں وہاں پر ایل این جی کی سپلائی سستے نرخوں پر ہوئی جبکہ پنجاب میں اس کی سپلائی پر سفری ویگر اخراجات کے اطلاق سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ۔ یعنی وہ ٹیکسٹائل ملیں جو کراچی میں ہیں ان کو اگر 488روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر ایل این جی سپلائی ہورہی ہے تو پنجاب میں یہی قیمت 1100روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جاتی ہے۔ اس صورت حال نے پنجاب میں قائم انڈسٹری کے لئے ایک اور طرح کی مشکل کھڑی کردی کہ ان کی تیارہ کردہ مصنوعات کی پیداواری لاگت کراچی کے مقابلے میں بڑھ گئی اور بین الاقوامی منڈی میں جس قیمت پر وہ اپنی پراڈکٹس آفر کررہے ہیں ، کراچی کی ملیں وہی پراڈکٹس اس سے آدھی قیمت پر آفر کرتی ہیں۔ یوں کہئے کہ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی یا بین الاقوامی مقابلے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی مقابلے کی صورت حال کا سامنا ہے ۔

اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے حکومت نے گزشتہ سال پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل انڈسٹری کو 28فیصد سسٹم گیس کی اضافی فراہمی کا اعلان کیا تاکہ اس کی پیداواری لاگت کو سنبھالا دیا جا سکے۔ حکومت کے اس ایک عمل کا فائدہ یہ ہوا کہ پنجاب میں بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں مصروف رہیں اور ان میں کام کرنے والے مزدوروں کو روزگار کی فراہمی کا سامان ہوتا رہا۔ تاہم ماہ دسمبر کے آغاز سے ہی پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل انڈسٹری پھر سے بحرانی کیفیت کا شکار ہو گئی کیونکہ حکومت نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے نیٹ ورک پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دی جانے والے 28فیصد اضافی فراہمی کو بند کردیا۔ اس بندش سے پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری دوبارہ سے بحرانی کیفیت کا شکار ہو گئی اور ان دنوں اپٹما پنجاب سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور حکومت سے درخواست کر رہی ہے کہ فوری طور پر 28فیصد گیس کی فراہمی کو بحال کرے تاکہ پنجاب میں ملوں کی بندش سے بچا جا سکے۔

اپٹما پنجاب کے چیئرمین علی پرویز نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ سسٹم گیس کی فراہمی کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں ٹیکسٹائل پیکج کو موثر بنانے کے اقدامات کئے جس سے گزشتہ چند ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات میں لگ بھگ 10فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر حکومت نے سسٹم گیس کی بندش کا فیصلہ واپس نہ لیا تو انڈسٹری کی صورت حال دوبارہ سے ابتر ہو جائے گی اور برآمدات میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، دوبارہ سے گھاٹے میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک پنجاب میں موجود انڈسٹری کو علاقائی اور بین الاقوامی نرخوں کے عین مطابق توانائی فراہم نہیں کی جائے گی تب تک یہ انڈسٹری اپنی پیدواری صلاحیت بحال نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب بھر میں لگ بھگ 4ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت بند پڑی ہے جس کا واحد سبب حد سے بڑھی ہوئی پیداواری لاگت ہے ۔ اگر پنجاب میں پیداواری لاگت کو علاقائی معیار کے مطابق رکھا جائے تو پاکستان کی برآمدات تین سے چار برسوں میں ڈبل ہو سکتی ہیں ۔اپٹما کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز نے بتایا کہ بجلی کے بحران کی وجہ سے پنجاب بھر میں لگ بھگ 140ملیں بند ہو چکی ہیں ۔ مسئلے کا حل پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں بجلی اور گیس کی ایک ہی قیمت یقینی بنائے اور ٹیکسٹائل مل خواہ لاہور میں ہو یا کراچی میں اسے بجلی 7روپے فی یونٹ اور گیس 600روپے فی ایم ایم بی ٹی یو دستیاب ہونی چاہئے۔ صرف اس بات کو یقینی بنانے سے ہی ملک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری چلے گی اور نئی سرمایہ کاری ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اپٹما کی قیادت حکومت سے اپیل کرتی نظر آتی ہے کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل ملوں کو سسٹم گیس کی تسلسل کے ساتھ فراہم کی جائے تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے اور روزگار کے مواقع موجود رہیں، برآمداتی مال مینوفیکچر ہوتا رہے اور نئی سرمایہ کاری کی راہ استوار رہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پنجاب میں دوبارہ سے ملیں بند ہونا شروع ہو جائیں گی جس کا پہلا شکار مزدور طبقہ ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ توانائی کی ایک قیمت کے حوالے سے خود ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی منقسم ہے ، یعنی پنجاب کے صنعتکار جس طرح سوچتے ہیں اس کی پذیرائی کراچی کے مل مالکان نہیں کرتے اور جس خواہش کو کراچی والے پالے پھرتے ہیں اس کو پنجاب والے لوری دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس ناچاقی کا حکومت نے ہر دور میں فائدہ اٹھایا ہے اور ایک مرتبہ جب کوئی سہولت واپس لے لی جاتی ہے تو پھر حکومت انڈسٹری کی باہمی ناچاقی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میٹنگ میٹنگ کھیلنا شروع کردیتی ہے اور تب تک کوئی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ دوبارہ سے سہولت بحال نہیں کر دیتی ہے۔ اس دوران انڈسٹری کے منقسم گروہ آپس میں مل کر کھیلنے کی بجائے ایک دوسرے سے منہ بسور کر گھومتے رہتے ہیں اور حکومت کو گول پر گول کرنے کے مواقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل کی ایک بڑی وجہ خود اس کے اپنے اندر موجود ناچاقی بھی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا بڑا نقصان پنجاب میں قائم انڈسٹری کو ہوا ہے کیونکہ ایک تو یہاں قائم انڈسٹری بندرگاہ سے دور ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ پنجاب میں سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی طرح گیس کے ذخائر بھی موجود نہیں ہیں اور پاکستان کے آئین کے مطابق کسی بھی صوبے سے نکلنے والے قدرتی ذخائر پر استعمال کا پہلا حق اس صوبے کا ہوگا جہاں سے وہ ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اس آئینی شق کا بھی پنجاب میں موجود ملوں کو بہت نقصان ہو رہا ہے کیونکہ جب بھی سسٹم گیس پر پریشر پڑتا ہے ، جیسا کہ ان دنوں موسم سرما کے ساتھ ہی پڑگیا ہے ، تو اس کا پہلا شکار پنجاب میں قائم انڈسٹری ہوتی ہے جسے فوری طور پر سسٹم گیس کی سپلائی بند کردی جاتی ہے ۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایل این جی کی قیمت سسٹم گیس سے زیادہ ہے کیونکہ ایل این جی کو قطر سے امپورٹ کیا جا رہا ہے اور پنجاب میں اس قیمت میں توازن پیدا کرنے کے لئے سسٹم گیس کی 28فیصد اضافی فراہمی کی سہولت دی گئی تھی تاکہ یہاں کی انڈسٹری کی پیداواری لاگت قابو میں رہے لیکن افسوس یہ ہے کہ جونہی سسٹم گیس کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ، ایس این جی پی ایل انڈسٹری کو گیس کی فراہمی بند کردیتی ہے ۔ ایسا ہی تب بھی دیکھنے میں آتا تھا جب ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ تھی کہ جونہی سسٹم پر بوجھ پڑتا تھا ، انڈسٹری اس کا پہلا شکار ہوتی تھی۔ اسی طرح ایک وقت وہ تھا جب ایل این جی امپورٹ نہیں ہوتی تھی اور انڈسٹری کو سسٹم گیس کا کنکش دیتے ہوئے معاہدے میں لکھوایا جاتا تھا کہ موسم سرما کے دو ماہ کے دوران انڈسٹری گیس کی فراہمی کا مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں ہوگی ، چنانچہ جونہی موسم سرما شروع ہوتا تھا اور سسٹم پر پریشر پڑتا تھا تو انڈسٹری کو گیس کی فراہمی بند کردی جاتی تھی۔

مندرجہ بالا ساری صورت حال بتاتی ہے کہ ملک میں انڈسٹری کا فروغ کسی بھی حکومت کی کبھی بھی ترجیح نہیں رہی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ہر حکومت نے انڈسٹری پر ہی کلہاڑا چلایا ہے ۔ تاہم بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ انڈسٹری کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور اب حکومتوں کے لئے انڈسٹری کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سسٹم گیس کی فراہمی یقینی بنائے کیونکہ برآمدات میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی تجارتی خسارے میں بے حدا ضافہ ہو گیا ہے ، ایسے میں حکومت نے گزشتہ چار برس تک روپے کی قیمت کو مستحکم رکھا ہے جس سے ہمارے امپورٹ بل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ انڈسٹری کے حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ڈالر کو آزاد طریقے سے بڑھنے دیا جائے تو اس وقت اس کی اصل ویلیو 124روپے ہونی چاہئے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر ایسی پالیسیوں کو اپنانا چاہئے جس سے ملکی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو اور انڈسٹری کو فروغ حاصل ہو تاکہ ملک میں روزگار میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے اور صنعتوں کا نیا جال بچھایا جا سکے۔

سرخیاں

پنجاب کے صنعتکار جس طرح سوچتے ہیں کراچی کے مل مالکان اس کی پذیرائی نہیں کرتے

پنجاب بھر میں لگ بھگ 4ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت بند پڑی ہے

پنجاب میں سسٹم گیس کی 28فیصد اضافی فراہمی کی سہولت دی گئی تھی جو واپس لے لی گئی

گزشتہ چند ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات میں لگ بھگ 10فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا

تصاویر

ٹیکسٹائل ملیں

گیس پائپ لائنیں

بجلی کا ٹرانسمیشن سسٹم

کراچی بندرگاہ

ایل این جی ٹرمینل

علی پرویز

گوہر اعجاز

مزید : ایڈیشن 2