ڈالر کو پرِ پرواز کس نے فراہم کیے؟

ڈالر کو پرِ پرواز کس نے فراہم کیے؟

  



سچ ہے کہ جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی کرنسی پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو بڑے پوشیدہ طریقے سے اس ملک کی معیشت، صنعت، تجارت اور دولت پر حاوی ہو جاتا ہے۔دنیا میں امریکی حاکمیت کی اصل وجہ اس کی فوجی طاقت نہیں اس کی معاشی قوت"ڈالر" ہے۔ آج دنیا میں تجارت بیشتر ممالک میں ڈالر میں ہوتی ہے جوامریکی معیشت کو مضبوط تر کرتی چلی جاتی ہے۔ ڈالر کی اسی اہمیت کے باعث، اس کی قیمت میں کمی بیشی دنیا بھر کی معاشی سرگرمیوں میں بھونچال لے آتی ہے۔ جیسا کہ اس وقت پاکستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تین دن میں سات روپے کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس کی قیمت 111روپے تک جا پہنچی ہے۔ڈالر کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی کے دروازے پر دستک دے دی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 3 روپے فی لیٹر بڑھ سکتی ہے، دالیں 5 سے 10 روپے فی کلو مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ کھانے کا تیل 10 سے 20 روپے فی لیٹر مہنگا ہو سکتا ہے، بجلی کی قیمت 10 سے 15 پیسے بڑھ سکتی ہے جبکہ بچوں کے لئے درآمد کیا گیا خشک دودھ 40 سے 50 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بھی پاکستان میں شدید مہنگائی کا خدشہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا موقف ہے کہ ڈالر میں اضافہ ملکی معاشی اشاریوں کا عکاس ہے، ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی ادائیگیوں کے عدم توازن کو روکے گی تاہم سٹے بازی یا وقتی دباؤ کو قابو کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک مداخلت کرسکتا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا بڑھنا ناگزیر ہے۔ مہنگائی کے اثرات اشیائے خورونوش پر بھی مرتب ہوں گے اور مختلف درآمدی اشیاء پر بھی جو 8سے 20فیصد تک مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے کچھ دنوں سے یہ بحث جاری تھی جس میں ایک نقطہ نظر یہ تھاکہ ڈالر اور روپے کے تبادلے کا یہ عمل غیر حقیقی ہے، اسٹیٹ بینک نے جان بوجھ کر ایسا کیا کہ آزاد معیشت برقرار رہے، معاشی معاملات چلتے رہیں تاوقت یہ کہ ڈالر کی قیمت میں کمی آجائے۔ تاہم ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اگریہی عمل چند روزبھی برقرار رہا تو برآمدات، جو پہلے ہی ناکافی ہیں کو ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کو برآمدات کے باوجود زرمبادلہ کے حصول میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جو معیشت کو مزید متزلزل کر کے رکھ دے گا۔ کرنسی کے عدم استحکام سے پاکستان پر واجب الادا قرضے اس قدر بڑھ جائیں گے کہ ان کی ادائیگی کیلئے مزید مہنگے قرضے حاصل کرنا پڑیں گے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے باعث پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 400ارب روپے بڑھ گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ہر برآمدی شے لامحالہ گرانی کا شکار ہو جاتی ہے ۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ہماری درآمدات، برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں اور ہمیں ہمیشہ تجارتی خسارے کا سامنا بھی رہتا ہے، دریں صورت ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قبل کئے گئے درآمدات کے معاہدوں کی ادائیگی بھی ڈالر میں کرنا ہوگی جو ایک اضافی بوجھ ہوگا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے پٹرول سے لیکر چائے اور کاسمیٹکس سے لیکر دیگر سامان تعیش تک جو ہم درآمد کرتے ہیں، سب مہنگا ہوگا۔۔۔ قصہ مختصر ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہمیں مہنگائی کی کھائی میں پھینکنے کا سبب بنتا ہے، ضرورت کی کم و بیش ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے اور پھر کبھی سستی نہیں ہوتی۔ مذکورہ بالا دونوں نقطہ ہائے نظر میں کون سا درست ہے اور کون سا نہیں۔ قطع نظر اس بحث کے ان دونوں کو تبدیل کیا جانا چاہئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی قیمت کو جیسے تیسے برقرار رکھا تھا تاکہ آزاد معیشت کے سفر میں رکاوٹ نہ آئے تا ہم معاشی ناقص پالیسیوں ، ریگو لیٹری ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ ، ود ہو لڈنگ ٹیکس سمیت ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مذید بوجھ ڈال کر معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھو نکا۔ الغرض ڈالر کی قیمت میں حالیہ ریکارڈ اضافہ ملکی معیشت کی ہچکولے کھاتی نیا کو بیچ بھنور لے آئے گا۔واضح رہے کہ ایک ایسا معاشی بحران پیدا ہونے کا احتمال رد نہیں کیا جاسکتا جس پر قابو پانا حکومت کیلئے مشکل ترین ہدف بن جائے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ سب کچھ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہدایات پر کیا گیا ہے اور ایسے عالمی مالیاتی اداروں سے کچھ بعید بھی نہیں کہ یہ اپنے مقروض ملکوں سے ایسا سلوک کرتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل کہ صورت حال خراب ہو اور پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی کا اندیشہ ہو حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اسٹیٹ بینک کو مداخلت کرتے ہوئے معاملات کی درستی کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک فوری طور پر ان حالات سے نکلنے کے اقدامات کرے کہ پاکستان معاشی بحران کا کسی طور متحمل نہیں ہوسکتا۔

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اور یو نائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئر مین افتخار علی ملک نے بزنس پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ سے ایکسپورٹرز کو فائدہ جبکہ خام مال درآمد کر نے والوں کو نقصان کا سامنا کر نا پڑے گا جس کے لیے کاروباری معاملات پر نظر رکھنی چائیے انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے لو کل انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہو نگے جیسے آٹو موٹیو انڈسٹری ،وینڈر انڈسٹری و دیگر چھوٹی انڈسٹری جو زیادہ تر خام مال درآمد کرتی ہیں ان پر عائد کردہ ڈیوٹی اور ڈالر کی شرح میں اضافہ سے اخراجات میں اضافہ یقینی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صنعتکاروں کا ایک وفد دوروز قبل وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے ساتھ میر ی سر براہی میں ملا جس میں کاروباری برادری کے تحفظات پر روشنی اور ڈالر کی بے لگام کو کھینچنے کے لیے سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔انہوں نے مذید بتایا کہ وفد نے انجیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ جس کی قدر اور افادیت پر وزیر اعظم کو بر یفنگ دی اور بتا یا کہ مذکورہ بورڈ انڈسٹری کو کیسے ریلیف اور اپ گر یڈ کر سکتا ہے جس کے لیے آٹو مو ٹیو وینڈر انڈسٹری پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے جو تباہی کے دہانے پر ہے ۔افتخار علی ملک نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کو مستحکم کر نے کے لیے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو اپنا کردار ادا کر نا چائیے ۔

ٓمعاشی ماہر اورآ ل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر نے بزنس پاکستان میں اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے ایکسپورٹ کی شرح بڑھے گی اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات خصو صا ٹیکسٹائل انڈسٹری مقابلہ کر سکے گی اور اپنے برآمدی ٹارگٹ پورے کر نے کی صلاحیت رکھے گی ۔ نعیم میر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقہ کار سے زبر دستی روکا تاکہ بڑھتی مہنگائی کو روکتے ہوئے مستحکم رکھا جا سکے جس سے ملک میں مہنگائی تو کنٹرول رہی تاہم کاروباری افراد کو پریشانی رہی انہوں نے کہا کہ اگر ڈالر کی قدر کو وقتا فو قتا بڑھایا جاتا تو آج ڈالر پروان چڑھنے پر اتنا واویلا نہ ہو تا اور نہ ہی درآمد کنندگان کو کو ئی جھٹکا محسوس ہوتا ۔ نعیم میر نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقہ کار سے روکنے سے ایکسپورٹ پر منفی اثرات پڑے اور ہماری ایکسپورٹ 25ارب ڈالر سے کم ہو کر 21ارب ڈار رہ گئی جس سے فار ن ایکسچینج میں کمی اوررقم کے لین دین خراب ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈالر کی قد ر میں اضافہ ہو نے سے کاروباری افراد خصو صا ایکسپورٹرز نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔

آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی اور معروف کاروباری شخصیت نبیل محمود طارق کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اچانک اتنے اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہے۔’پچھلے دو ہفتوں سے مارکیٹ میں ڈالر کی کافی زیادہ ڈیمانڈ ہے اور کارپوریٹ کسٹمرز ہیں خصوصاً آئل کمپنیز اور امپورٹرز اس وقت مارکیٹ میں کافی زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے انٹر بینک مارکیٹ میں کافی پریشر ہے اور اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر مسلسل بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجوہات بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن، خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ملک کی غیریقینی سیاسی صورتحال اور بم دھماکے ہیں جن کی وجہ سے ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری سکڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’سٹیٹ بینک کو روپے کو بے یارومددگار نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے منی ایکسچینجرز سمیت تمام فریقین کا ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں درآمدات زیادہ جبکہ برآمدات کم ہے، ایسی صورتحال میں ڈالر کی قدر میں اضافے سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔ابراہیم قریشی نے بتایا کہ روپے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے مارکیٹ میں طلب کے حساب سے ڈالر کی رسد میں اضافے کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے حکومت اور سٹیٹ بینک کا کردار بڑا اہم ہے۔’اس وقت سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی پر توجہ دے، زیادہ سے زیادہ ڈالر مارکیٹ میں دستیاب ہوں تاکہ اس طلب کو پورا کیا جا سکے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...