قطری فضائی جنگی بیڑے کو پیشہ ور ماہرین اور افرادی قلت کا سامنا

قطری فضائی جنگی بیڑے کو پیشہ ور ماہرین اور افرادی قلت کا سامنا

  



دوحہ(این این آئی)خلیجی ریاست قطر اپنی دفاعی طاقت کا حجم بڑھانے بالخصوص فضائی شعبے کے لیے دوسرے ملکوں سے نئے معاہدوں ایک طرف اربوں ڈالر کی رقوم خرچ کررہا ہے مگر دوسری طرف دوحہ کو جنگی طیاروں کو اڑانے کے لیے پیشہ ور ماہرین اور افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق قطر اپنے فضائی جنگی بیڑے کو مسلح جدید اور غیر روایتی ہتھیاروں سے لیس کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قطراور اس کے پڑوسی ملکوں کے درمیان کئی ماہ سے کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ قطر ان بھاری بھرکم ہتھیاروں کو چلانے اور استعمال کرنے کے لیے کیا کرے گا؟ قطر کے پاس افراد کار کی شدید قلت ہے۔قطر نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جس کے تحت برطانیہ دوحہ کو ٹائفون طرز کے 24 جنگی طیارے فراہم کرے گا۔رپورٹ کے مطابق قطری فضائی بیڑے میں 96 نئے جنگی طیارے شامل ہوں گے۔ ان میں میراج 2000 کے 12 طیارے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2012ء سے 2016ء کے دوران قطر کی فوجی درآمدات کے حجم میں 245 فی صد اضافہ ہوا ہے۔قطراپنے فضائی جنگی بیڑے کو جدید ترین طیاروں سے لیس کرنے کی کوششیں کررہا ہے مگر دوسری طرف اسیٹائفون، بوئنگ اور رافال جیسے طیاروں کو استعمال کرنے والے ماہرین کی شدید قلت ہے۔ مقامی سطح پر پیشہ ور ماہرین کی عدم موجودگی کے باعث قطرغیرملکیوں کو بھرتی کرنے پر مجبور ہوگی۔

مزید : عالمی منظر


loading...