سسٹم پر تنقید کی بجائے اس کا اصلاح میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

سسٹم پر تنقید کی بجائے اس کا اصلاح میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے: چیف جسٹس لاہور ...

  



لا ہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے آواری ہوٹل میں بیرسٹر سوسائٹی آف پاکستان کی جانب سے منعقد کردہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی آگے آئے اور لاہور ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں جاری عدالتی اصلاحات میں اپنا کردار ادا کریں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ساری کہانی پیسے کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے وہاں موجود فی میل وکلا سے درخواست کی کہ وہ ڈسٹرکٹ کورٹس کا دورہ کریں اور فیمل ججز سے ملیں تاکہ ان کو وہاں کے زمینی حقائق کا ادراک ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگے ائیں اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں لیکچر دیں۔ انکا کہنا تھا کہ سسٹم پرتنقید کی بجائے ہمیں اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقتہے کہہم نے اس سسٹم کو پے بیک کرنا ہے۔ مزیدبراں انہوں نے شرکا کے ساتھ اپنے حالیہ انگلینڈ کے دورے کی مصروفیات اور لنکن ان میں اعزازی بنچ کے بارے منعقد تقریب کے بارے میں آگاہ کیا۔تقریب کے انعقاد کا مقصد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی لنکن ان میں بطور اعزازی بنچ شمولیت اور مذکورہ سوسائٹی کی لائبریری میں قائداعظم محمد علی جناح کی مورتی کی تنصیب کے یادگار لمحوں کو منانا تھا۔ تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محمد یاور علی، جسٹس فرخ عرفان خان، جسٹس شہرام سرور چوھدری، جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شاہد کریم، جسٹس جواد حسن،محمد احمد پنسوتا،صدر بیرسٹرذ سوسائٹی آف پاکستان نے شرکت کی۔قبل ازیں جسٹس محمد یاور علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کو ملنے والا اعزاز ہمارے لئے باعث فخر ہے اور فاضل چیف جسٹس اس اعزاز کے اہل تھے۔تقریب میں شامل بیرسٹرز نے فاضل چیف جسٹس کو ان مشکلات سے آگاہ کیا جن کاانہیں پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں سامنا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیرسٹر سوسائٹی آف پاکستان ان افراد پر مشتملہے جنہوں نے بار کونسل آف انگلینڈ اور ویلز کے تصدیق شدہ اداروں سے بار پروفیشنل ٹرینیگ کورس مکمل کیا۔

شرکا نے لنکن ان اور بیرسٹرز کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی اور اسکے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا۔ فاضل چیف جسٹس اور لاہور ہائی کورٹ کے فاضل ججز نے تقریب میں شریک بیرسٹرز کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے لاہورہائی کورٹ کے انٹرپرائز سسٹم، سسٹم، اس سے متعلق درپیش مسائل، کیس مینجمنٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس میں لگ بھگ بارہ لاکھ زیر التواکیسز اور ججز کی قلیل تعداد اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے انفراسٹرکچر کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تقریب کے آخر میں فاضل چیف جسٹس کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...